علم نجوم و دست شناسی اور روحونیت
غوری صاحب ملکی حالات سے پیدائش کے وقت سے ہی پریشان ہیں۔ پیدائش کے ایک سال بعد ہی مادر ملت غدار ملت قرار پائیں اور اگلے سال ہی وطن عزیز کو ایک ایسی پراسرار جنگ کا سامنا کرنا پڑ گیا، جس میں پراسرار لوگوں کی شرکت کا بھی دعوی کیا گیا۔ اور جنگ کی وجوہ بھی اب تک مخفی ہیں۔ یہاں تک کے سابق بھارتی وزیر اعظم بھی تاشقند معاہدے کے بعد پراسرار انداز میں اس دنیا سے منہ موڑ گئے۔
غوری صاحب کو پریشان دیکھ کر ان کی ہمت بندھائی اور پوچھا : ”وجہ پریشانی کیا ہے؟ “
کہنے لگے : ”میاں وطن عزیز تہتر سال سے نازک صورت حال سے دوچار ہے۔ اور سقوط ڈھاکہ کے بعد تو مزید نزاکت آ گئی ہے۔ اور تم پوچھتے ہو کہ پریشان کیوں ہو؟ “
غوری صاحب کی تشویش سے اختلاف ممکن نہیں تھا۔ اس لیے مشورہ دیا کہ کسی ماہر علم نجوم کے پاس تشریف لے جائیں اور اپنی تشویش سے آگاہ کر کے پوچھیں کہ وطن عزیز نازک صورت حال سے کب نکلے گا؟
لوگوں سے اتا پتا پوچھ کر غوری صاحب ماہر علم نجوم کے پاس جا پہنچے اور اپنی تشویش سے آگاہ کیا۔ ماہر علم نجوم نے غوری صاحب کی آنکھوں میں جھانکا اور کہا: ”بھارت سے ایک فیصلہ کن جنگ باقی ہے۔“ غوری صاحب گھبرا گئے۔ حالانکہ گھبرانا منع ہے۔ پھر بھی گھبرا کر پوچھا: ”کیا اکہتر کی جنگ کی طرح فیصلہ کن ہوگی؟ “
”نہیں بھئی اس دفعہ بھارت تباہ ہوگا۔ نقصان تو وطن عزیز کا بھی کم نہیں ہوگا۔ لیکن بھارت تباہ ہو جائے گا۔ جنگ تو نوے کی دہائی میں بھی ہونے والی تھی۔ لیکن ایک اللہ والے کی وجہ سے ہم بچ گئے۔ جنرل باجوہ سے مجھے بہت امیدیں ہیں۔ یہی بیڑا غرق کرے گا۔ غوری چلے گا غوری۔“ غوری صاحب آخری جملہ سن کر چل پڑے، تو ان کو زبردستی بٹھایا گیا کہ آپ کی نہیں کسی اور غوری کے چلنے کی بات کی گئی ہے۔
غوری صاحب نے بیٹھتے کے ساتھ ہی پوچھا: ”بیڑا کس کا غرق کرے گا؟ “ جواب ملا کہ یا تو آپ اخبار نہیں پڑھتے یا ٹی وی نہیں دیکھتے۔ ورنہ یہ سوال کرنے کی نوبت نہیں آتی۔ غوری صاحب کے پلے کچھ بھی نہ پڑا اور اسی حیرانی اور پریشانی کے عالم میں ہمارے گھر آ دھمکے۔ اور پسینہ خشک ہوتے ہی مندرجہ بالا روداد سنائی اور کہا: ”میاں ماہر علم نجوم نے تو جلد ہی فیصلہ کن جنگ کی خبر سنائی ہے۔ پتا نہیں میں بچوں گا بھی کہ نہیں؟ اور وہ تو کہہ رہے تھے کہ نوے کی دہائی میں کسی اللہ والے نے جنگ کو ٹالا تھا۔ ورنہ کام ہو گیا تھا۔“
غوری صاحب کی پریشانی دیکھی نہیں جاتی۔ فوری طور پر ان کو مشورہ دیا کہ اب آپ اپنی پریشانی دور کرنے کسی ماہر دست شناس اور اللہ والے کے پاس جائیں۔ وہی آپ کے سوالات کا جواب دے سکتے ہیں اور پریشانی رفع کر سکتے ہیں۔ ہفتے دو ہفتے بعد غوری صاحب چہرے پر خلاف توقع مسکراہٹ لئے نمودار ہوئے۔ اور کہا: ”کل ماہر دست شناس کے پاس جانا ہے۔ اور پھر ایک اللہ والے سے بھی وقت لیا ہوا ہے۔“ غوری صاحب کو مسکراتا دیکھ کر ہم بھی خوشی سے پھولے نہ سمائے اور اپنے گراں قدر مشورے پر ناز کرنے لگے۔
ماہر دست شناس سے ملاقات کے بعد عالم مایوسی میں غوری صاحب پھر گھر آ دھمکے اور تمام روداد کچھ یوں سنائی۔ اور بتایا کہ ماہر دست شناس نے چھوٹتے ہی سوال کیا : ”دست شناسی کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟ “
غوری صاحب نے جواب دیا : ”بچپن سے دست شناس ہوں۔ ابا جی اور استاد محترم کے دست مبارک کو بھی بھلا کوئی بھول سکتا ہے۔ اگر آپ ماہر دست شناس ہیں تو دائیں گال پر ابا جی کے اور بائیں گال پر استاد محترم کی ہاتھ کی لکیروں کو بخوبی پڑھ سکتے ہیں۔ اورجہاں تک ہاتھ کی لکیروں کی بات ہے۔ میرا تو یقین ہے کہ بندہ خود لکیریں بناتا ہے اور مٹاتا ہے۔“
ماہر دست شناس غوری صاحب کی باتیں سن کر حیران پریشان ہوئے اور کہا: ”لکیریں بنانا اور مٹانا۔ نارمل بندے کی بات نہیں۔ اگر آپ نے یہ بات طنزیہ پیرائے میں کی ہے تو اور بات ہے۔ بہتر ہے کہ آپ اپنی فیس واپس لیں اور گھر کی ایسی راہ لیں۔ جہاں لکیریں بنانے اور مٹانے والے نہ ٹکرائیں۔ ایک مشورہ اور سنیں کہ ٹی وی پر اچھی اچھی تقریریں سننا اور ان پر یقین کرنا چھوڑ دیں۔ غیر معمولی افاقہ ہوگا۔ “
روداد سننے کے بعد یہی کہا کہ جب آپ کا لکیروں پر یقین ہی نہیں ہے تو ماہر دست شناس کے پاس پہنچے کیوں تھے؟ غوری صاحب نے کہا: ”جی میں لکیر کا فقیر نہیں ہوں۔ بغیر لکیریں بنائے مٹائے بھی بات کرنے کا حوصلہ رکھتا ہوں۔ بس اب اللہ والے سے اور مل لوں۔ تاکہ روحونیت کی سائنس سے پتا چل سکے کہ ہم سب کا بنے گا کیا؟ “ اللہ اللہ کر کے غوری صاحب اللہ والے کے پاس پہنچے۔ اور حسب معمول ملاقات کے بعد منہ لٹکائے گھر آ دھمکے۔
پانی شانی پی کر ہوش و حواس بحال ہوتے ہی اجازت طلب نظروں سے ہمیں دیکھا کہ ملاقات کی روداد سنائی جائے یا نہیں۔ بالآخر ایک سرد آہ بھر کر کہا : ”میاں روحونیت کی سائنس بھی کچھ بتانے سے قاصر ہے۔ اب تو جنات بھی ادھر ادھر ہو گئے ہیں۔ سنا ہے، پشاور بی آر ٹی کا ٹھیکا دیا گیا تو وہ بھی کھسک لیے۔ اللہ لوگ نے ایک سفید تسبیح پکڑا دی ہے۔ کہا ہے کہ بس اللہ اللہ کرتے رہو اور فکر کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑنا۔ جس نے فکر کی، تاریخ میں اسی کا ذکر ہے۔“ غوری صاحب کی تمام ملاقاتیں نتیجہ خیز نہیں تھیں۔ لیکن باتیں فکر انگیز ہیں۔ اس لیے اب ہم بھی غور و فکر میں وقت بتانے کی بجائے۔ کوئی اچھی سی کتاب یا فلم دیکھ کر وقت بتانے لگے ہیں۔


