بائیں بازو کی سیاست اور سیاسی کارکن
کیسے کیسے سیاسی کارکن گزرے ہیں جو اب بھی تھوڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔۔۔۔ یہ لوگ دھرتی ماں اور اس کے بچوں کے لئے اس دنیا کو جنت بنانے کا خواب لئے عبادت کے طور پر سیاست کرتے تھے، کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔۔۔۔
ہمارے شاہ محمد مری ”عشاق کے قافلے“ کی سیریز کی کتاب ”گل خان نصیر“ کے انتساب میں لکھتے ہیں،
”کلی کیمپ، کوئٹہ چھاؤنی میں وہ اذیت گاہ تھی جہاں ایوب کے دور میں سیاسی مخالفین کو ایذائیں دی جاتی تھیں۔
ایک بڑا انسان، میر گل خان نصیر اور غوث بخش بزنجو کے ساتھ اپنے موقف کے ایمان کی سلامتی کی خاطر اس اذیت گاہ میں اذیت برداشت کرتا رہا۔
وہ نہ جھکا، نہ ٹوٹا نہ بکا۔ سلامت ایمان اور بلوچ وقار کے ساتھ عقوبتیں کاٹیں۔ رہائی پر گھر پہنچا اور کچھ ہی دن بعد اس بہادر نے خودکشی کر لی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس لئے کہ دشمن نے اذیتیں دے دے کر اس محب وطن کی مردانگی ختم کر دی تھی۔۔۔۔”
بائیں بازو کے سیاسی کارکنوں کی جدوجہد اور قربانیوں پر اگر نظر دوڑائیں تو بے لوث سیاست کے ہزاروں واقعات ملیں گے۔
ابھی پاکستان کو بنے ہوئے ایک سال کا عرصہ بھی نہیں گزرا تھا کہ بابڑہ کے مقام پرخدائی خدمتگار تحریک کے پرامن کارکنوں پر گولیاں برسا کر 600 سے زیادہ کارکنوں کو شہید کیا گیا، اور جو زخمی ہوئے ان کو ہسپتالوں میں داخل نہیں ہونے دیا، بلکہ ان پر جرمانے بھی لگائے گئے اس لئے کہ ان پر گولیوں کا خرچہ ہوا تھا۔ اس وقت سے لے کر ابھی حالیہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خدائی خدمتگار تحریک کے تسلسل اے این پی کے کارکنوں کو ہزاروں کی تعداد میں ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے شہید کیا گیا ہے۔
اسی طرح پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما خان شہید اچکزئی کو بھی بم حملے میں شہید کیا گیا تھا، اس پارٹی کے اور بھی کئی کارکنوں کو شہید کیا گیا ہے، قید و بند کی سزائیں اس کے علاوہ ہیں۔
اسی طرح بلوچ سیاسی کارکنوں نے بھی ہزاروں کی تعداد میں قربانیاں دی ہیں اور ابھی تک دیتے آرہے ہیں۔ کہتے ہیں جب 15 جولائی 1960 ء کو حیدر آباد سینٹرل جیل سے نواب نوروز خان کو اپنے بیٹے اور ساتھیوں کی آخری دیدار کے لیے سکھر سنٹرل جیل لایا گیا۔ بلوچ فرزندوں کے پھانسی کے بعد ان کی نعشوں کو جیل کے مین گیٹ پر دیدار کے لیے قطار میں رکھا گیا تو اس موقع پر جیل عملے کے علاوہ فوجی و سول حکام اور علاقے کے بلوچ معتبرین بالخصوص رسول بخش تالپور اور اس کے خاندان کے افراد کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، جیل سپریڈنٹ نے اپنے فرزند میر بٹے خان شہید کی میت کے سرہانے پر کھڑے نواب نوروز خان سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ نواب صاحب ہمیں افسوس ہے کہ آپ کے جواں سال بیٹے اور دیگر ساتھیوں کو پھانسی ہوئی ہے اور آپ کے اس غم اور صدمے میں ہم آپ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
نواب صاحب نے میر بٹے خان کی مونچھوں کو اوپر اٹھاتے ہوئے کہا کہ صرف بٹے خان ہی میرا بیٹا نہیں ہے یہ سارے میرے جدوجہد کے ساتھی اور میرے بیٹے ہیں۔ یہ مرے نہیں زندہ ہیں۔ آج ان کی شادی ہے، اس لئے آج اتنے لوگ یہاں جمع ہیں۔ مرے وہ لوگ ہیں جنہوں نے قرآن مجید پر فیصلہ کرکے بعد میں ان کے ساتھ دھوکہ کیا۔ اس موقع پر نواب نوروز خان خود شہدا کی لاشوں کو کندھا دے کر جیل کے مین گیٹ سے باہر لے آیا۔ (نوروز خان اور اس کے ساتھی – صفحہ 51)
اسی طرح سندھ کے سیاسی کارکن بھی سیاست اور نظریے کے لئے قید و بند اور جانوں کی قربانیوں کی شکل میں اپنا سیاسی کردار ادا کرتے آ رہے ہیں۔ سائیں جی ایم سید نے زندگی کا بیشتر حصہ جیل اور نظربندی میں گزارا۔ بھٹو خاندان کو قتل کیا گیا۔ ضیاء کے دور میں پیپلز پارٹی کے ہزاروں کارکنوں کو سخت اذیتیں دی گئیں۔ بشیر قریشی کے بھائی کو ایک اور سیاسی کارکن کے ساتھ گاڑی میں زندہ جلایا گیا، مظفر بھٹو کوٹارچر سیلوں میں جو اذیتیں دی گئی اس کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوئی۔
سوشلسٹ تحریک کے کئی کارکنوں نے بھی بیش بہا قربانیاں دی ہیں، حسن ناصر اور نذیر عباسی کو شہید کیا گیا، بہت سارے اور کارکنوں کو ٹارچر سیلوں اور اذیت گاہوں میں صعوبتیں براشت کرنی پڑی۔
حالیہ پی ٹی ایم کے کارکنوں کو بھی وہی قربانیاں دینی پڑ رہی ہیں جو ان کے پیشرو سیاسی کارکن دیتے آ رہے ہیں۔ غداری کے الزامات، جیلیں اور ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے ان کو بھی آئینی حقوق مانگنے کی سزا دی جا رہی ہے۔
جدوجہد اور قربانیوں کا یہ سلسلہ کافی طویل ہے، اگر چہ ان سارے لوگوں کی سیاست اور نظریات مختلف تھے، ان لوگوں کی سیاست سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے مگر وطن اور اس کے باسیوں کے لئے ان کی جدوجہد سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان میں لیفٹ کی سیاست کو شروع ہی سے بہت سے مخلص سیاسی کارکن ملے، جنہوں نے مختلف تحریکوں میں شامل ہو کر عظیم قربانیاں دیں، ہر قسم کی صعوبتیں برداشت کی مگر پھر بھی ان قربانیوں کے ثمرات سماجی اور سیاسی تبدیلیوں کی شکل میں دیکھنے کو نہیں ملے۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ میرے خیال میں لیفٹ کی سیاست چونکہ سٹیٹس کو کے خلاف ہوتی ہے اس لئے اس کے پننے کا رفتار سست ہوتا ہے، جس طرح پانی کے بہاؤ کے الٹ سمت تیرنا مشکل ہوتا ہے، چونکہ ان کی جدوجہد حقوق کے حصول کے لئے ریاست جیسی منظم قوت کے خلاف ہوتی ہے، تو لازمی طور پرریاستی جبر کے ذریعے تحریک کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے، دوسری طرف جن طبقات یا قوتوں کے مفادات سٹیٹس کو سے جڑے ہوتے ہیں وہ لوگ مذہب اور کلچر کا سہارا لے کر لیفٹ کی سیاست کو پروپیگنڈے کے ذریعے بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں، بعض دفعہ لیڈروں کی تحریک کے ساتھ غداری بھی تحریک کی ناکامی کا سبب بنتی ہے، مگر پھر بھی یہ سیاسی کارکن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہوئے سیاسی عمل میں اپنا کردار ادا کرتے رہتے ہیں اور سیاسی عمل سے لاتعلق رہنے کو جرم تصور کرتے ہیں۔
حالانکہ وقت اور حالات کا دباؤ ہمیشہ ان پر رہتا ہے کہ یہ لوگ سیاسی عمل سے بیگانگی اختیار کر لیں۔ نظریاتی سیاسی کارکنوں کا مقابلہ اگر ایک طرف مخالف قوتوں سے ہوتا ہے تو دوسری طرف پارٹی یا تحریک کے اندر مفادپرستوں سے بھی ہوتا ہے جو پارٹی یا تحریک کو اپنے مفادات یا بیرونی قوتوں کے اشاروں پر ہائی جیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ایسے حالات میں بعض کارکن مایوس ہو کر جدوجہد ترک کر دیتے ہیں جبکہ بعض اپنی شعور سے باربار خود کو اور دوسرے ساتھیوں کو حوصلہ دیتے ہیں اور قافلہ رواں دواں رہتا ہے۔





