”وہ راستہ۔ ۔ ۔ کیوں چنا تھا میں نے؟“
گلگت کے برف پوش پہاڑوں پر چمکتی سے موسم گرما کی سنہری دھوپ اس بار بہت اداس ہے۔ دو ماہ قبل چیری اور خوبانی کے جو پھول کھلے تھے، کھلے کہاں تھے، بس کھلے تھے۔ گرمیوں کی دھوپ سے پگھلتی برف سے نکلتے جھرنوں کی آواز میں اس بار جوانی کا جوش ہے، نہ ہی پہاڑوں کے بیچوں بیچ بہتی ندیوں کی چال میں الہڑ خمار۔ اس بار کے بہار میں گلگت بلتستان کی پر کیف وادیوں کے حسن کو سراہنے، ان پہاڑوں میں کوئی نہیں آیا۔ کہ عشاق کی بہار آنے سے پہلے اب کے وبا کی خزاں آ چکی تھی۔
وبا بھی ایسی کہ جس میں انسان اپنے سائے سے بھی پہلو بچا کر گزرے۔ اپنے ہی سانس کی آواز سے گھبرا جائے۔ اپنے وجود سے ہی اپنا آپ بچاتا پھرے۔ اپنے قدموں کی آہٹ ہی سے ہراساں ہو جائے۔ ایسے عالم سراسیمگی میں یہاں کون آئے۔ ۔ ۔ ؟ کون آ سکتا ہے یہاں ایسے میں کہ جب میرے ہی چنیدہ، میرے ہی فیصل کنندہ کو بر وقت فیصلہ لینے کا یارا ہی نہیں۔ کہ ہر فیصلے کا ایک وقت ہوتا ہے۔ اس وقت میں چل رہے حالات، واقعات، ضروریات، معاملات اور آنے والے وقت کو سامنے رکھ کر جس ذی شعور نے مناسب فیصلہ لے لیا، وہ راہ نما کہلایا۔
ورنہ راہ نما کے کوئی سینگ نہیں ہوتے۔ ناگہانی کے آ پڑنے پر خرد کی نگاہ کو سنبھال رکھنا، اسے چوکنے سے بچانا ہی راہ نمائی ہے، ورنہ خرد کی دال ہٹتے دیر نہیں لگتی، اور اگر ہٹ جائے تو جوتیوں میں بٹنے لگتی ہے۔ ایک ایسا فیصلہ کہ جو وقت کے نصف النہار کو ماپے بنا کر لیا جائے قوموں کو تباہ کر جاتا ہے۔ راہ نما کا تو کچھ نہیں بگڑتا سوائے اس کے کہ تاریخ میں اسے ہٹ دھرم اور چغد کہہ کر رقم کر دیا جائے، ہاں، اس کی قوم کا قیمہ ضرور بن جاتا ہے۔
اس وبا سے بچنا مشکل تھا، مانا، لیکن اس وبا کو وقت پر فیصلہ لے کر پھیلنے سے روکا جا سکتا تھا۔ پھولوں کے کھلنے کے موسم سے ذرا ادھر، فضاؤں میں چیری اور خوبانی کی خوشبو بکھرنے سے پہلے، پہاڑوں پر پڑی برف کے پگھلنے سے قبل ہی اس وبا کا راستہ روکا جا سکتا تھا۔ سمجھانے والوں نے بہت سمجھایا، بتانے والوں نے بتایا بھی، کہ جناب ذی وقار۔ ۔ ! قبل اس کے کہ وبا سارے میں پھیل کر ، سانسوں کی راہوں کو تنگ کردے، وجودوں کو بھربھرا کر دے، انسانوں کو جیتوں اور مرتوں کی گنتی کے چارٹ میں تبدیل کر دے، وبا کا ہی راستہ بند کر دیں۔
فقط عشرہ، دو عشرے۔ وبا گلیوں اور کوچوں اور گوٹھوں اور دیہاتوں میں نہیں جا پائے گی۔ جہاں ہے، وہیں تھم جائے گی۔ قریہ قریہ موت بانٹنے کی بجائے، اپنی موت آپ مر جائے گی، آپ فیصلہ لیجیے کہ فیصلہ لینے کا بوجھ قوم آپ کو سونپ چکی۔ قوم سے اگر غلطی ہو ہی گئی ہے تو اسے معاف کر دیجئے۔ آپ تو غلطی نہ کیجئے۔ مگر نہیں۔ آپ ایسے بزرجمہر۔ ۔ ۔ آپ ایسے عقل و دانش کے دیوتا۔ ۔ ۔ آپ ایسے فہم و فراست کے پتلے کہ ضد میں آ کے جو فیصلہ لے لیا اس سے ٹس سے مس نہیں ہونا۔
فیصلہ کرتے سمے مشورہ کہتے ہیں دیوار سے بھی کر لینا چاہیے۔ اور فیصلہ بھی کیسا ! ایسا کہ جس میں، بائیس کروڑ سے کچھ سوا ہی ہوں گے نفوس کہ جن کی زندگیوں کا دارو مدار آپ کی جنبش لب پر ٹکا ہو۔ لیکن نہیں۔ جو کہہ دیا یک بار اس سے رجوع تو ممکن ہی نہیں۔ کوئی اور بات، کوئی اور قصہ، کوئی اور راگ چھیڑا جائے۔ آخر رجوع کیوں کیا جائے اپنے فیصلے سے۔ اگر کر لیا تو وہ جو داغ آ لگا ہے اپنی ہی کر نیوں کے سبب وقت کی پیشانی پر کہ ”کہہ کر پھر جاتا ہے“ ، مزید پکا ہو جائے گا، اس لئے اب کے کہے پر ڈٹ جایا جائے۔ ”مانا اندازے کی غلطی ہو گئی، کچھ وزیروں اور مشیروں نے راہ سے بھٹکا دیا۔ مراد علی نے بھی تو جلدی دکھا دی، کیا تھا اگر کچھ روز ٹل جاتا، وہی فیصلہ میں لے لیتا۔ اب کیسے اس کے لئے فیصلے کی تائید کر دوں“ ۔
تاریخ میں تین ہٹیں، مطلب ضدیں بہت مشہور ہیں۔ پہلی، بال ہٹ۔ ۔ ۔ مطلب بچے کی ضد۔ دوسری، تریا ہٹ۔ ۔ ۔ مطلب عورت کی ضد۔ اور تیسری، راج ہٹ۔ ۔ ۔ مطلب بادشاہ کی ضد۔ اور اب کہ جب یہ تینوں ہٹیں ایک جگہ جمع ہو گئی ہوں تو پھر سمجھانے والے جیسے بھی ہوں، جو بھی کہہ لیں، جیسے بھی سمجھا لیں، اس کیے، سمجھائے یا کہے کا نتیجہ وہی ہوتا ہے، ڈھاک کے تین پات۔ اور ایسے میں مجھے نون میم راشد کی یاد آ گئی۔ ۔ ۔
وہ راستہ کیوں چنا تھا میں نے
کہ جس پہ خود سے وصال تک کا گماں نہیں ہے؟
وہ راستہ کیوں چنا تھا میں نے
جو رک گیا ہے دلوں کے ابہام کے کنارے
وہی کنارا کہ جس کے آگے گماں کا ممکن
جو تو ہے میں ہوں!
مگر یہ سچ ہے
میں تجھ کو پانے کی (خود کو پانے کی) آرزو میں
نکل پڑا تھا
اس ایک ممکن کی جستجو میں
جو تو ہے میں ہوں
میں ایسے چہرے کو ڈھونڈتا تھا
جو تو ہے میں ہوں
میں ایسی تصویر کے تعاقب میں گھومتا تھا
جو تو ہے میں ہوں!
میں اس تعاقب میں
کتنے آغاز گن چکا ہوں
(میں اس سے ڈرتا ہوں جو یہ کہتا ہے ’مجھ کو اب کوئی ڈر نہیں ہے۔ ۔ ۔‘ )
میں اس تعاقب میں کتنی گلیوں سے
کتنے چوکوں سے
کتنے گونگے مجسموں سے گزر گیا ہوں
میں اس تعاقب میں کتنے باغوں سے
کتنی اندھی شراب راتوں سے
کتنی بانہوں سے
کتنی چاہت کے کتنے بپھرے سمندروں سے
گزر گیا ہوں
میں کتنی ہوش و عمل کی شمعوں سے
کتنے ایماں کے گنبدوں سے
گرز گیا ہوں
میں اس تعاقب میں کتنے آغاز کتنے انجام گن چکا ہوں۔ ۔ ۔
اب اس تعاقب میں کوئی در ہے
نہ کوئی آتا ہوا زمانہ۔


