حلوے کے حصار میں

ایک دفعہ کا ذکر ہے، کب کا، یاد نہیں۔ بس اتنا یاد ہے کہ ایک دریا کے کنارے بسی ایک بستی کہ نام جس کا ہیملن تھا، وہاں انسانوں سے زیادہ چوہے پیدا ہونے لگے۔ چوہوں نے نہ صرف یہ کہ انسانی زندگی کے فطری معمولات کو غیر فطری انداز میں تہ بالا کر کے رکھ دیا بلکہ ان کی وجہ سے انسانی آبادی طاعون جیسی مہلک بیماری کا شکار ہونے لگی۔ ایسے میں کہ جب چوہوں نے ہر طرف

Read more

”وہ راستہ۔ ۔ ۔ کیوں چنا تھا میں نے؟“

گلگت کے برف پوش پہاڑوں پر چمکتی سے موسم گرما کی سنہری دھوپ اس بار بہت اداس ہے۔ دو ماہ قبل چیری اور خوبانی کے جو پھول کھلے تھے، کھلے کہاں تھے، بس کھلے تھے۔ گرمیوں کی دھوپ سے پگھلتی برف سے نکلتے جھرنوں کی آواز میں اس بار جوانی کا جوش ہے، نہ ہی پہاڑوں کے بیچوں بیچ بہتی ندیوں کی چال میں الہڑ خمار۔ اس بار کے بہار میں گلگت بلتستان کی پر کیف وادیوں کے حسن کو سراہنے، ان پہاڑوں میں کوئی نہیں آیا۔ کہ عشاق کی بہار آنے سے پہلے اب کے وبا کی خزاں آ چکی تھی۔

Read more

ایک نئے فطری معاہدے کی ضرورت

مشکل وقت ہے، گزر جائے گا۔ لیکن اب کے یہ مشکل وقت، کرے کے کسی ایک حصے میں، یا کسی ایک قطعۂ ار اضی کے لئے نہیں آیا۔ کرۂ ارض پر موجود خشکی کے سبھی علاقوں کے لئے آیا ہے۔ دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی۔ اور یہ وہ کلیشے ہے کہ جو مبنی بر حقیقت ہونے کے باعث، کثرت استعمال کے با وجود، گھسنے والا نہیں بلکہ اس کلیشے کے اور اس کے حقیقی ثابت ہو جانے کی وجہ

Read more

کورونا، قرنطینہ اور خریداری کی دوڑ

پچیس لاکھ، ایک کورونا مریض پر۔ حضور، پچیس لاکھ، نقد پکڑا دیتے، مریض اپنا علاج تو کروا لیتے۔ انسانی تاریخ کی دوسری بد ترین بد عنوانی، جو وبا کے دنوں میں بھی شقی القلب ارباب بست و کشاد کر رہے ہیں۔ پہلی، دوران زلزلہ تھی۔ اب تک اربوں کی امداد آ چکی، لاکھوں پی پی ایز آ چکے، مگر میرے مشاہدے اور سروے کے مطابق، یہ سامان کہیں پر بھی نہیں موجود۔ میرے وہ دوست جو خود ڈاکٹر ہیں، اور

Read more