پاکستان میں عورتوں کی جبری شادی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شادی ایک سماجی معاہدہ و معاشرتی بندھن ہے جس میں ڈھل کر مرد وعورت تادم زیست جیون ساتھی بن کر بچوں کی پیدائش ان کی پرورش و تعلیم و تربیت کے انسانی فریضہ سے عہدہ برا ہونے کا عزم رکھتے ہیں۔ جی ہاں! اب تو ہم جنس بھی اس معاہدے کا قانونی حصہ بنتے جا رہے ہیں۔

عالمی معاشرے و مذاہب گواہوں کی شہادت وطرفین کی رضامندی تمام معاہدوں کا شرط اولین بتاتے ہیں لیکن افسوس! اس سماجی معاہدے میں رضا ہی معیوب ٹھہری۔ جبر جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا محرک ہے جس کا عورتیں ہی نسبتاً زیادہ شکار ہیں۔ اقوام عالم جبر کی مخالف ہیں کہ اس ہے شخصی آزادی و خود مختاری پر زخم آتا ہے لیکن پھر بھی ممالک عامہ بشمول جنوبی ایشیا و افریقہ میں اس کا راج ہے۔

جبر معکوس رضا ہے اور دباؤ ڈال کر بیاہنا جبر ہے۔ ذہنی بلوغت جبر کو لگام ڈال سکتی ہے جس کی غیر موجودگی شادی کو جبر ٹھہراتی ہے کہ استعداد فہم اس لائق نہیں ہوتا کہ مستقبل کا ادراک کر سکے۔ ہاں! پدرسری فکر ہی اس جبر کا خمیر ہے کہ وجود زن صرف حصول تسکین ٹھہرا ورنہ حیثیت ثانوی ہے جن کی امنگیں آرزوئیں بے وقعت ہیں۔

قوانین موجود لیکن نفاذ غیر یقینی اور خلاف ورزی پر سزا اتنی خفیف کہ کوئی ذی ہوش آوازحق اٹھانے کا سوچے ہی کیوں۔ حق انسانیت اس قدر تحقیر آمیز کہ متاثرہ اگر رجوع طلاق کو جاں خلاصی سمجھے تو خوف و تشدد مقدر ورنہ قتل تو ویسے ہی مردانہ وقارہے۔ حیرت ہے عورتیں مردوں کا وقار کیسے؟ یقیناً پدرسری کرشمہ سازی ہے ورنہ یہ بھی تو جیتی جاگتی ذی شعور وجود مثل مرد ہے لیکن وہ ہی جانے جسے تاریخ یاد ہو کہ اوائلی معاشرے میں مادرسری اور عورتوں کا راج تھا جسے ارتقا آج پدرسری ٹھہراچکا۔

مادرسری کچھ لحاظ تو رکھتی لیکن آج۔ ۔ ۔ کون سا ظلم نہیں ہے جسے عورت سہے۔ جبر جہیز ہو یا انکار پر اغوا، چولہے کی آگ میں جلانا ہو، تیزاب سے جسمانی خد و خال مسخ کرانے ہوں یا غیرت کے نام پر قتل۔ آئین و مذہب داعیٔ دافع بلیات ہیں لیکن یہاں ارباب اختیار انہیں ذاتی مسائل میں مداخلت قراردے کر چشم پوشی میں سکون محسوس کرتے ہیں۔ سرکاری یا خیراتی پناہ گاہ بھی تحفظ جان کدھردلا سکی۔

محرکات علاقہ اور اسکی ثقافت کی مناسبت سے مختلف ہوتی ہیں۔ جہاں کمزور معیشت بنیادی سہولیات کی فراہمی، معیاری تعلیم، علاج معالجہ اور مناسب ذریعۂ معاش کی ضامن نہیں ہو سکتی وہاں حکومت صرف اپنی بقا کا سوچتی ہے جبکہ محرومیوں میں جکڑی عوام بوجوہ مناسب تعلیم و تربیت اور شعوی استعداد کے فقدان غیر مہذب، پر تعصب، چڑچڑے، تنگ نظر اور مفاد پرست پلتے بڑھتے رہتے ہیں، اپنا مفاد ہی جن کا معیارزندگی ہو جو دوسرے انسان کی ترجیحات، احساسات اور جذبات سمجھنے کے جذبہ سے عاری ہوتے ہیں۔ فرد واحد تا ارباب اختیار صرف انفرادی سوچ کے حامل جب کہ قدیم روایات کے تابع ایک مخصوص مائنڈ سیٹ ہر طبقے کا حکمران ہے جوعورت کو غلام اور نچھلے درجے کی مخلوق سمجھے۔ ان روایات کا عورت سے بھیر ہی آخرکیوں؟

خال خال جبری زوجین افہام و تفہیم سے خوشحال پلتے بھی دیکھے ہیں جو ثبوت ہے کہ نفسیات انسانی حالات و واقعات و زمان و مکان کے تابع ہوتی ہے۔ لیکن سچ تو یہی ہے کہ یہ جبر فی الحقیقت ایک المیہ ہے۔

بنیادی محرکات:
زبانی اور خاندانی ساکھ کا بھرم رکھنے کے لیے بچپن میں طے شدہ شادیاں
کزن میریج : خاندان سے باہر کی شادیوں میں ممانعت تاکہ اپنی خاندانی زمین، ملکیت اور دولت کو خاندان میں ہی رکھ کر خاندانی رشتوں کو مضبوط بنایاجا سکے۔

لڑکی کے نا مناسب رویے، جنسی خواہشات اور غیر موزوں تعلقات پر قدغن لگانے کے لیے ان کی صرف اپنی معاشرت، ثقافت، قوم اور مذہب ہی کی مناسبت سے شادی کرانا تاکہ اپنے متصور تمدن اور مذہبی اقدار کو تحفظ فراہم کرسکے۔

ایک طبقہ صرف کم عمر لڑکیوں سے شادی کا خواہش مند کہ آسانی سے تابع فرمان اور قابو رہیں۔ غریب بچیاں ہی مالی منفعت کے عوض شکار۔

سوارہ، ایک علاقائی رسم جس کے تحت قرض یا تنازعہ کے خاتمہ کے لیے مخالفین (جو عمر میں بڑے اور پہلے سے شادی شدہ بھی ہوسکتے ہیں ) میں لڑکی بیاہنا۔

وٹہ سٹہ: لڑکیوں کا شادی کی غرض سے تبادلہ
پیٹ لکھی: رسم جس میں پیدائش سے پہلے یا بعد میں لڑکی کو کسی مرد کے نام منسوب کرنا اور کچھ بڑی ہونے پر شادی کرانا۔

ونی، غگ، کم عمری اور مذہبی رہنماؤں کے دباؤ کے تحت ہونے والی شادیاں
قرآن سے شادی: اس حلف کے ساتھ کہ لڑکی تمام عمر غیر شادی شدہ رہے اور وراثت میں حصہ کا مطالبہ نہ کرے۔ نصیر آباد ڈویژن میں قرآن سے شادی کے واقعات نسبتاً زیادہ ہیں۔

تاکہ خاندان کے معذور فرد کو بطور تیمار دار تحفظ دلائی جاسکے۔
سب سے گمبھیرمسئلہ اس کا نفسیاتی پہلو ہے۔ متاثرہ عورت ذہنی، جسمانی، جذباتی تناؤ اور خوف کا شکار رہتی ہے۔ خود اذیتی اکساتی ہے۔ صحت خراب ہونے لگتی ہے۔ خودکشی کا رجحان پرورش پانے لگتا ہے۔ نشہ آوراشیاء کے استعمال کا بھی قوی احتمال ہو سکتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ بے چینی، ڈپریشن، ذہنی تھکان، چڑچڑاپن، خوراک کی بے قاعدگیاں، خون کی کمی، معدے کے مسائل وغیرہ میں اضافہ ہونے لگتا ہے اور کام کرنے کی صلاحیت ماند پڑنے کے سبب خود کو معاشرے سے الگ تھلگ محسوس کرنے لگتی ہے۔

عورتیں نسبتاً اس جبری بندھن سے زیادہ متاثرہیں کہ حس جذبات نفیس جو ٹھہرا۔ بہت ساری دوسری وجوہات کے علاوہ ملکی معیشت پر بھی دباؤ رہتا ہے کیونکہ زیر تعلیم متاثرہ لڑکیوں کا اپنی تعلیم جاری رہنے کے مواقع تقریباً مسدود رہ جاتے ہیں اور کافی ایسی ہونہار لڑکیاں جو اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ملکی معیشت کے استحکام کا ایک بہترین ذریعہ بن سکتی تھیں اب ان کا افسوس ہی کیا جا سکے گا بلکہ ان کا وجود الٹا معیشت کے لیے طفیلیہ ثابت ہوجاتا ہے۔

بچے زچہ کو مزید اذیت میں ڈال کر زندگی کو روگ لگادیتے ہیں۔ اب خود کے ساتھ بچے بھی محرومی کا شکارتوملکی معیشت میں ان کی کون سی خدمات آخرگرانقدر ٹھہریں گی۔ نفسیاتی امراض کی شہ یہ محرومیاں ایسی لڑکیوں اور ان کے بچوں کا ذہنی اور جسمانی دیوالیہ کر جاتی ہیں اور بچے وہ کچھ حاصل نہیں کر پاتے جس کے مستحق ہوتے ہیں۔ ملازمت پیشہ ہوں تو فرائض اور حاضری متاثررہتی ہے۔ رشتے داروں سے دوری اور شوہرو سسرال کے ہاتھوں ذہنی اور جسمانی تشدد کے وسیع امکانات کے ساتھ ساتھ عموماً مالی مشکلات کا شکار رہتی ہے اور کسی کے حصول اعتماد میں ناکام رہتی ہے۔ بعض اوقات ایسی شادی فریقین کے قتل، خودکشی یا طلاق پر منتج ہوتی ہے جس کا فریقین کے علاوہ معصوم بچے بدترین شکاربن جاتے ہیں۔ جبر رپورٹ کرنا اس کی زندگی مزیدداؤ پر لگاتی ہے۔ مجبوراً بھاگ جائے یا بھاگ کر شادی کرے، قبول کون کرے؟ ۔ اور پھرعمربھرکے لیے جبروتشدد یا فنا اس کا مقدر۔

کیسے نبٹا جائے؟

تہذیب، ثقافت اور مذہبی رسومات کا تقدس جیسے پرورش پالن عوامل تعلیم و تربیت کے ذریعے کافی حد تک نرم کیے جا سکتے ہیں۔ اپنا نقطۂ نظر بدل کر والدین اعتمادا مرٌوجہ حقائق و معلومات بارے بیٹیوں کو آگہی دلائے کہ معاشروں کا تضاد جان کر کسی بھی اقدام کے لیے پہلے سے تیار ہوں۔ ان افہام و تفہیم سے دوطرفہ نقطۂ نظرواضح اور مسائل کا قبل ازوقت ادراک ممکن ہو سکے گا۔

نفاذ موثرقوانین انسداد اب ہرصورت ناگزیر ہے۔ غربت، بیروزگاری کا خاتمہ، تحفظ حقوق نسواں کی یقین دہانی اور عورتوں بارے مروجہ خیالات، روایات اور عقائد درست سانچے میں ڈالنے کے لیے مقامی طبقوں کو بھی اعتماد میں لینا ہوگا۔ سرمایہ کاری تو ہمیں بہرحال کرنی ہی ہوگی کہ مقامی انتظامیہ اس تاکید و جانچ کے ساتھ با اختیار بنایا جائے کہ وہ خاندانوں کو معاشی نعم البدل دیں۔ شعبۂ صحت، سکول، کا لجیں، یونیورسٹیاں اور مقامی سرکاری وغیر سرکاری تنظیموں کو صنفی مساوات بارے آگاہی دلاتے ہوئے جبری شادی کے خلاف محاذ آرائی پران کی حوصلہ افزائی کر کے تحریک دی جائے تاکہ نوجوان مردوں کو نفسیاتی اور ذہنی طورتیار کرے کہ عورتوں کی اقدار جان کر ان کی عزت کرنا سیکھ سکیں۔

تاکہ ان کوششوں کے نتیجہ میں بچیوں کو معلومات، فن اور تعلیم دلاکر با اختیار اور باعزم ہونے کا نفسیاتی محرک بیدارکر کے شعوری بیداری دلائی جاسکے کہ وہ اپنی خواہشات اور مقاصد جان سکیں۔ اس طرز کی سرمایہ کاری نہ صرف نئی نسل کی سوچ صنفی مساوات بارے مثبت خطوط پر استوار کر سکتی ہے بلکہ عندیہ دیتی ہے کہ معاشرے میں امن اور خوشحالی کا اس لحاظ سے موجب بھی بن سکتی ہے کہ ہماری تقریباً آدھی قید آبادی جو اس قابل ہے کہ معاشرے کے رہنما، استاد، ڈاکٹر، انجنیئر اور صنعت کار بن سکیں اور ملک کے مستقبل کو کامیابی کی ایک نئی راہ دکھا سکیں۔ افریقہ میں اس طرزکی منصوبہ سازی کے کامیاب نتائج سامنے آچکے ہیں۔

قانونی معروضات:
متاثرہ خواتین کا ساتھ دے کر انصاف دلایا جائے۔
قانونی ادارے واقعاتی شہادت کو وزن دے کر سچائی تک پہنچنے کی کوشش کریں اور انصاف کی فراہمی انسانی فریضہ سمجھیں۔

متاثرہ خاتون کی زبانی یا تحریری رپورٹ پر پولیس اپنی کارروائی شروع کر کے ملزموں کو عدالت میں چالان کے لیے پیش کرے۔

متاثرہ خاتون فیملی کورٹ میں تنسیخ نکاح کا دعویٰ بھی دائر کر سکتی ہے۔
اٹھارہ سال سے کم عمری شادی پر تادیب۔
شادی ہر قسم کے دباؤ سے آزاد اور مرضی کے مطابق ہوگی۔
بچیوں کو سکول بھیجنے کی تاکید کی جائے گی تاکہ معاشرے میں جنسی عدم مساوات کی فضا ہموار کی جاسکے۔
انتظامیہ ایسی تمام شادیاں بروقت منسوخ کر اکر انصاف کی فراہمی یقینی بنائے۔

دفعات تعزیرات پاکستان:

(498-B) عورت کو زبردستی شادی پر مجبورکرنا۔ تین سے دس سال قید نیز پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے۔

(310-A) بدل صلح، ونی، غگ، سوارہ یا دیگرمروجہ ا قسام

(498-C) قرآن سے شادی
498۔ C اور 310۔ A دونوں کے لیے بالترتیب تین سے سات سال قید نیز پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان میں بچیوں کا حصول تعلیم یقینی بناکر تقریباً تین اعشاریہ چار فیصد لڑکیوں کی جبری شادی کو روکا جا سکتا ہے۔ جبری شادیوں کی وجہ سے مختلف ممالک کو اربوں ڈالر کے نقصان کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ ہر سال تقریباً اکیس فیصد لڑکیاں اٹھارہ سال سے کم اور تین فیصد پندرہ سال سے کم عمر میں بیاہ کر پاکستان کو عالمی نمبر ایک ٹھہراتی ہیں۔ روک ڈال کر سالانہ کم از کم چھ ہزار ملین ڈالر سے زیادہ کا سرمایہ بڑھا یا جاسکتا ہے۔

یوکے نے 2015 میں اس مقصد سے فورسڈ میریج یونٹ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ہے۔ پاکستان کا شمار جبری شادیوں کے زمرے میں بلند ترین سطح پر کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں 2016 کی نسبت 2017 میں جبری شادیوں کے واقعات میں آٹھ فیصد کمی۔

عمومی معاشرہ رسم و رواج، تہذیب و ثقافت اور مذہبی رسومات کے گھن چکر میں جبر ورضا کا احساس ہی کھو بیٹھا۔ بڑے ٹھن گئے اور بس شادی ہو گئی۔ ۔ ۔ رضا پوچھی نہ پوچھی کیا معنی۔

نئی نسل عمومی بھی اسی بے حسی میں پلے صرف یہی تو جانے، بڑوں نے کہا یا جیسے تیسے طے ہوئی ہو گئی بس، کرنی ہی تو ہے زندگی میں ایک ہی دفعہ یہ شادی۔ نسل نو کی اجتماعی شعور بھی کس قدر بے حس پلا کہ احساس ہی مٹا گیا کہ رسم تماشا کے علاوہ بھی کوئی اور مقصد ہو سکتا ہے شادی کا ؟ راضی ہو بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی۔ ہونے والا زوج نہیں بلکہ کوئی اور پسند ہو تو ہوا کرے، شادی کے بعد بس زندگی ہی تو گزارنی ہے نا۔

لڑکی کسی ذریعے والدین کو اعتماد میں لے، لو کر ادی مرضی کی شادی۔ نہ مانے تو عزت، غیرت و بے حیائی کے پرچار پر خلاف رضا شادی ہو گئی! لڑکی سہمی سمٹی اور چپ۔ ہاں کچھ عرصہ اکیلے روئی، افسردہ رہی، سہیلیوں رازداروں سے درد بانٹا اور بس زندگی ہی تو گزارنی ہے نا۔

اب دیکھیں نا اس بندھن تاحیات کے اسرارورموزبا رے کسی کو معلومات ہی کتنی؟ کیا ایسا نہیں کہ کبھی رضا کی شادی کے بھی نتائج سنگین نکلے ہوں؟ کیاکبھی بعض ناپسندیدہ بندھن گلزارنہیں بنے؟

اب کیا کہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جبر کون سا، رضا کون سی؟ کیا ایسا نہیں کہ شادی سے پہلے مروجہ بے حس طرزفکر اور ناکافی معلومات شادی کی صورت میں وقت کے ساتھ ساتھ متصادم ہوتے گئے؟

پسماندہ، غریب اور کم پڑھے لکھے معاشرے ایسے ہی ہوتے ہیں۔ جذبات احساسات، پسند نا پسند انسانی خاصہ ہے لیکن یہ سمجھنے کے لیے شعوری ارتقا ضروری ہے جو صرف تعلیم و تربیت سے ہی ممکن ہے۔ معاشرے میں تعلیمی فضا قائم ہوگی جبھی افراد اپنے اور ایک دوسرے کے حقوق و فرائض، دکھ درد، احساسات و جذبات اور تہذیب یافتہ معاشرتی اقدارجان سکیں گے۔ تبھی جبر اور رضا کا فرق سمجھ کر شادی کا اصل مقصد سمجھنے، تعلق کو خوشگوار اور دیرپا بنانے میں بہترین کردار ادا کرسکیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
امیر شاہ، نوشہرہ کی دیگر تحریریں

Leave a Reply