بچوں کو مقامی نصاب پڑھایا جائے یا کیمبرج؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچوں کے پڑھنے، سیکھنے اور مستقبل میں اچھی جاب حاصل کرنے کے لئے کون سا تعلیمی نظام بہتر ہے؟ کم فیس والے اسکول میں داخل کرنا چاہیے جہاں لوکل نصاب پڑھایا جاتا ہے یا پھر بھاری فیسوں والے نجی سکولوں میں جو کیمبرج کورس پڑھاتے ہیں؟ میری نظر میں دونوں کا تقابلی جائزہ یہ ہے :

لوکل نصاب

فیس کم ہے، والدین بنا کسی پریشانی کے فیسیں ادا کر لیتے ہیں۔ لیکن بچوں کے آرام اور آسانی کے لئے سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ مثلاً جنریٹرز نہ ہونا، پینے کا صاف اور ٹھنڈا پانی نہ ملنا، گندے باتھ روم، پریکٹیکل وغیرہ کی مطلوبہ چیزوں کی عدم فراہمی اور صاف ستھرا ماحول نہ ہونا وغیرہ۔ اس کے علاوہ نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں جس کے باعث بچے کی صلاحیتوں کو کھل کر سامنے آنے کا موقع نہیں ملتا۔

طلبا کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے انھیں وہ توجہ نہیں ملتی جس کے وہ حقدار ہیں۔ اسی طرح سے ٹیچرز کی مناسب ٹریننگ نہیں کی جاتی جس سے انھیں تدریسی عمل میں معاونت ملے اور وہ بہتر طور سے پڑھا سکیں۔ یہ اور اس جیسے اور مسائل تو ہیں لیکن لوکل تعلیمی طریقہ کار کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس نظام تعلیم کے بچے خود مختار اور نظم و ضبط کے پابند ہوتے ہیں۔ اپنا کام توجہ اور فکر سے کرتے ہیں۔ سلیبس جامع اور مختصر ہوتا ہے مگر بار بار دہرائی، بے تحاشا لکھنے اور یاد کرنے کا کام جہاں انہیں بے حد مصروف رکھتا ہے وہیں ان میں محنت کا جذبہ پروان چڑھاتا ہے۔

کیمبرج

نجی سکولوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے بہت زیادہ فیس جو مڈل کلاس تو ادا کر ہی نہیں سکتی اور اپر مڈل کلاس جیسے تیسے کر کے پورا تو کر لیتی ہے مگر دو تین بچوں کی ایک لاکھ کے قریب فیس دینا بہر حال جیب پہ بوجھ تو ہے۔ اس کے علاوہ سبلنگ ڈسکاؤنٹ (ایک سے زیادہ بچوں کے داخلے پر فیس میں کچھ فیصد کمی) کی پالیسی بھی ختم کر دی گئی ہے۔ یہاں کی بڑی خوبی یہ ہے کہ بچوں کا بے انتہا خیال رکھا جاتا ہے ہر بچے کو انفرادی توجہ ملتی ہے، طلبا کے ساتھ کسی قسم کی مار پیٹ ان کی پالیسی نہیں۔

سہولتیں بہترین ہیں بلکہ بچے کو بگاڑنے کی حد تک سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ ٹیچرز ٹریننگ پر بہت زور دیا جاتا ہے، ورک شاپس اور میٹنگز کے ذریعے اساتذہ کو مسلسل سکھایا جاتا ہے اور ہیڈز ان کی بہتر کارکردگی کو یقینی بناتے ہیں۔ سلیبس بہت زیادہ اور مشکل ہے لیکن اس کو مکمل کروانے کی تمام ذمہ داری ٹیچر پر ہے، ٹیوشن یا والدین کو پڑھانے کی ضرورت نہیں، ہوم ورک بہت کم دیا جاتا ہے اور اگر کسی بچے کو کچھ سمجھنے میں مشکل درپیش ہے تو ٹیچرز اس کی انفرادی کلاس لیں گے۔ بچے کے ساتھ سختی بالکل نہیں کی جاتی جس سے وہ آرام طلب ہو جاتا ہے اور ذمہ داری کا احساس کھو دیتا ہے۔

اب دیکھا جائے تو کیمبرج سسٹم بہتر لگتا ہے مگر اتنی فیسیں بھرنا ہر کسی کے لئے ممکن نہیں۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی عام ہے کہ او اور اے لیول کرنے والے بچے یہاں کامیاب نہیں۔ لوکل سسٹم میں بچے پہ کام کا پریشر بہت زیادہ اور سہولتوں کا فقدان ہے۔ یہ دونوں سسٹم ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔ اور دونوں طرف ہی والدین مطمئن نہیں۔ افسوس کہ ہمارے تعلیمی نظام پہ کبھی توجہ نہیں دی گئی۔ کاش کہ معقول فیس، مناسب سہولیات، بہتر ماحول اور بہترین تدریسی عمل سب یکجا ہوتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply