مذہب اور سائنس کی اپنی اپنی حدود


ہم نے مذہب اور سائنس کو ہمیشہ سے اجتماعی طور پر شعوری یا لاشعوری لحاظ سے ایک دوسرے کے حدود میں گھسانے کی کوشش کی ہے۔ میں ذاتی طور پر چیزوں کو ٹکڑوں میں کاٹ کر، انہیں ایک دوسرے کی ضد قرار دیں کر ایک دوسرے سے برسر پیکار کرا دینے کے حق میں نہیں ہوں اور یہی نکتہ نظر مذہب اور سائنس کے بارے میں بھی رکھتا ہوں۔ میں نے اپنی استطاعت کے مطابق اس بارے میں علمائے دین سے بھی وقتاً فوقتاً رہنمائی لینے کی کوشش کی ہے اور اس نتیجے پر پہنچ چکا ہوں کہ سائنسی دریافتوں پر شرمندہ ہونے اور خفت مٹانے کے لئے خرافات گھڑنا یا اپنے عقائد میں ایسی دریافتوں کے بے جا اشارے تلاش کرنا خود مذہب کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ آپ مذہب کو مذہب رہنے دیں، سائنس قرار نہ دیں، اس کے سپر سائنس ہونے کا دعویٰ نہ کریں، مذہب کو مذہب کے حدود کے اندر مقدس رہنے دیں۔ اور اسی طرح سائنس کو سائنس مان لیں، اور اس کا کام اسی کو کرنے دیں۔

ہمارے اکثر مذہبی دوست عجیب الجھن میں رہتے ہیں کہ اگر لوگ ان سے مہنگائی، قدرتی آفات اور دیگر مسائل کی وجہ پوچھیں تو وہ کیا بتائیں، کیونکہ ان شعبوں سمیت کسی بھی شعبے سے متعلق کسی بھی سوال کا مذہبی جواب تو دینا ہی پڑے گا، ورنہ ذہنوں میں دھاک کی بقا کیسے ہوگی۔ اب یہ باتیں اور لاجک کچھ مخصوص شعبوں کے ماہرین ہی سمجھ اور سمجھا سکتے ہیں۔ لیکن اپنی لاعلمی تسلیم کرنا اگرچہ کسی بھی شخص اور خاص طور پر مذہبی حضرات کے لئے مشکل ہوتا ہے لیکن غلط جواب دینے کی بجائے اپنی لاعلمی تسلیم کرلینا بہرحال بہتر ہے۔

لیکن مشکل یہ ہے کہ یہ حضرات متعلقہ شعبے سے رجوع کرنے کو کہتے ہیں تو سامعین کم ہوتے ہیں اور اگر ہر سوال کا جواب دیتے ہیں تو توہمات کا بھانڈا پھوڑنے کے لئے روشن خیال لوگ تاک میں بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔ عام طور پر علما مذہب کی بقا کے لئے اپنے سامعین کی قربانی دینے کے لئے تیار نظر نہیں آتے اور ہم بطور معاشرہ پتہ نہیں ان سے کیا کیا امیدیں لگائے منتظر بیٹھے ہیں۔ ایک انسان کو شرمندگی اس وقت اٹھانی پڑتی ہے جب وہ دوسرے کے میدان کا کھلاڑی ہونے کا محض دعویٰ کرتا ہے، یعنی صرف دعویٰ۔

کیونکہ یہاں پر مشکل یہ پیش آتی ہے کہ مذہبی دوست سوچنے لگ جاتے ہیں کہ مذہب کی حدود بھی ہوتے ہیں کیا؟ اور یہی سب سے اہم سوال ہے، جس کا جواب پانے کے لئے آندھے مقلدین نے ضاہر ہے کوئی تگ و دو نہیں کی ہوگی۔ اکثر مذہبی دوست خود اس بات کا حوالہ دیتے ہیں کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا ہے کہ ہر سوال متعلقہ شعبے کے ماہر سے پوچھنا چاہیے لیکن عمل اس لیے نہیں کرتے کہ علوم کی اس دنیا میں چونکہ جہاں سیپیوں کے علم (concology) سے لے کر ہر پرندوں کے علم تک علوم ہی علوم ہیں اور ان کے پاس گرانقدر تحاقیق ہیں تو ایسے میں ان کے لئے علم کا دعویٰ کرنے کی جگہ ہی نہیں بچ پائے گی۔ اس لئے اب وہ جو بھی بات (اپنے حدود سے باہر) کریں گے وہ دوسرے کی ڈومین میں مداخلت تصور ہوگی۔

حالیہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کورونا وائرس کی مثال لے لیتے ہیں، پڑوس ملک ہندوستان میں گائے کے پیشاب کو اس کا علاج قرار دیا گیا۔ یورپ میں گرجوں کے دروازیں کھول دیے گئے، ہمارے پاکستان میں پیروں اور حکیموں نے بھی اس وائرس پر دسترس حاصل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لیکن ہوا وہی کہ کل ہی بی بی سی نے ایک رپورٹ جاری کی اور Dexamethasone (ڈیکسا یا ڈیکارن ) کو اس کا کسی حد تک علاج قرار دیا اور یقیناً یہی سائنس کی وقتی کامیابی ہے۔

ایسے ہی چند روز قبل ایک عالم دین سے بات ہوئی تو وہ پوچھنے لگے کہ آپ کے نزدیک الحاد پھیلنے کی وجہ کیا ہے اور میں نے عرض کی کہ اس کی وجہ علمائے کرام کا ان سوالات کا جواب دینے کی کوشش کرنا ہے جو ان کے شعبے سے متعلق نہیں ہیں۔ اس وقت مذہب کے نزدیک بنیادی سوال یہی ہونا چاہیے کہ اپنے شعبے کو عسکریت پسندی اور سیاسی استعمال کی شے ہونے سے کیسے بچا سکتے ہیں۔ بالفاظ دیگر، سب سے بڑا سوال اپنی ڈومین تلاش کر کے اس تک محدود رہنا ہے۔ اور اسی میں مذہب اور سائنس دونوں کی بقا ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “مذہب اور سائنس کی اپنی اپنی حدود

  • 21/06/2020 at 10:00 صبح
    Permalink

    It is indeed a eye opening piece.

Comments are closed.