انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی: ’کوئی ہمارے علاقے میں داخل ہوا نہ ہی کسی فوجی چوکی پر قبضہ ہوا‘
انڈیا اور چین کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ نہ کوئی ہمارے علاقے میں داخل ہوا نہ ہی کسی پوسٹ پر قبضہ ہوا۔’
اس اجلاس میں کانگریس کی رہنما سونیا گاندھی سمیت مختلف جماعتوں کے رہنما آن لائن شامل ہوئے اور اجلاس کا آغاز ہلاک ہونے والے 20 فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کر کے کیا گیا۔
انڈیا کے خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس میں کہا گیا کہ انڈیا امن اور دوستی چاہتا ہے لیکن وہ اہنی خودمختاری کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’ابھی تک جن سے کوئی سوال نہیں کرتا تھا، جنھیں کوئی روکتا نہیں تھا، اب ہمارے جوان انھیں کئی سیکٹرز میں روک رہے ہیں، متنبہ کر رہے ہیں۔‘
Neither anyone has intruded into our territory nor took over any post: PM Narendra Modi at all-party meeting on Ladakh face-off
— Press Trust of India (@PTI_News) June 19, 2020
کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے اس اجلاس میں یہ سوال اٹھایا کہ کیا اس معاملے میں انٹیلیجنس کی طرف سے کوئی چوک ہوئی تھی؟
خبررساں ادارے اے این آئی نے ذرائعے کے حوالے سے بتایا کہ اجلاس میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ’کہیں کوئی انٹیلیجنس ناکام نہیں ہوئی۔
We failed to use all avenues of talks to ease LAC tension, lost valuable time, and the result was loss of 20 lives: Sonia Gandhi
— Press Trust of India (@PTI_News) June 19, 2020
لیکن وزیر اعظم کے اس بیان کے بعد کئی اور سوال اٹھنے لگے ہیں۔
انگریزی اخبار دی ہندو کی ڈپلومیٹک ایڈیٹر سوہاسنی حیدر نے پوچھا کہ ’وزیر اعظم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آج جہاں چینی فوجی ہیں وہ سارا ان کا علاقے ہے۔ ہمارے فوجی انڈین علاقے میں مارے گئے ہیں یا چینی علاقے میں؟‘
’اور وزارت خارجہ نے یہ کیوں کہا کہ تھا کہ چین نے ایل اے سی پر انڈیا کی جانب سے گلوان میں کچھ تعمیرات کرنے کی کوشش کی تھی۔‘
1) Does the PM mean all land where Chinese troops are at present is their territory ? 2) Did our soldiers die on Indian territory or Chinese territory? 3) Why did MEA say that China had tried to "erect a structure" in Galwan on our side of LAC, hindered patrolling etc? https://t.co/TnAhbl4s5p
— Suhasini Haidar (@suhasinih) June 19, 2020
انڈین ایکسپریس کے سوشانت سنگھ نے پوچھا کہ ’20 فوجی مارے گئے، 76 زخمی ہیں، 10 قید کر لیے گئے، کس لیے؟‘
20 dead. 76 injured. 10 taken captive. [For what?]
— Sushant Singh (@SushantSin) June 19, 2020
دفاعی امور کے تجزیہ کار برہم چیلانی نے کہا کہ ’کیا مودی کا یہ بیان اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ انڈیا نے وادی گلوان میں چین کی جانب سے جبراً بدلی گئی صورتحال کو قبول کر لیا ہے۔‘
Does Modi's statement signal India is willing to live with China's forcible change of the status quo in the Galwan Valley and at Lake Pangong? By occupying unoccupied areas, China has put a halt to India's patrolling of those areas and built positions overlooking Indian defenses.
— Dr. Brahma Chellaney (@Chellaney) June 19, 2020
خبررساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینرجی نے آل پارٹیز اجلاس میں کہا ’انڈیا کو ٹیلی کام، ریلوے، ایوی ایشن کے شعبوں میں چین کی کمپنیوں کو اجازت نہیں دینی چاہیے۔‘
چینی فوج کے ‘ہتھیاروں’ کی تصویریں منظرِ عام پر، دس انڈین فوجی رہا’
انڈین ذرائع ابلاغ میں چلنے والی خبروں کے مطابق چینی حکام نے پیر کی شب انڈیا اور چین کے درمیان ہونے والی سرحدی جھڑپ کے بعد گرفتار کیے گئے دس انڈین فوجیوں کو رہا کیا ہے۔
اس جھڑپ میں ایک کرنل سمیت 20 انڈین فوجی ہلاک بھی ہوئے تھے اور اس دوبدو لڑائی میں مبینہ طور پر چینی فوجیوں کی جانب سے کیل لگی آہنی سلاخوں کے استعمال کی بھی اطلاعات ہیں۔
انڈین اخبار دی ہندو نے جمعے کو عسکری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ رہا کیے جانے والے افراد میں ایک لیفٹیننٹ کرنل اور تین میجر بھی شامل ہیں۔
انڈین حکومت نے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی ہے اور نہ ہی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کے فوجی لاپتہ ہیں یا چینی فوجی حراست میں تھے۔
چین نے اپنے فوجیوں میں کسی کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے جبکہ انڈیا کے 76 فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر اپنی حدود میں دراندازی کا الزام لگایا ہے۔
انڈین میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق یہ جھڑپ تقریباً 14 ہزار فٹ بلند پہاڑوں کی افقی ڈھلوانوں پر ہوئی جس کی وجہ سے بعض فوجی نیچے تیز بہاؤ والے دریائے گلوان میں گر گئے جس کا درجۂ حرارت صفر سے بھی کم تھا۔


