سرکاری خزانہ، ڈالی، بھتہ اور ٹیکس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان بنا تو زراعت ہماری آمدنی کا بہت بڑا ذریعہ تھی۔ زمیندار طبقے کا تمام سال زیادہ تر لین دین اجناس اور خدمات کی شکل میں ہوتا تھا۔ اناج، کپاس اور دوسری فصلوں کے بدلے میں یا فصل کے موقع پر نقد ادائیگی کے وعدے پر انہیں ہر چیز مل جاتی تھی۔ نقدی، روپے، پیسے کا لین دین محدود تھا۔ سرکار کو ‘ٹیکس’ کی ادائیگی بھی اجناس اور خدمات کی شکلوں میں ہوتی تھی۔ رعایا جنہیں اب شہری کہتے ہیں بڑے ہوں یا چھوٹے صاحب لوگوں سے خاص موقعوں پہ ملتے تھے تو انہیں ڈالی پیش کرتے تھے- گھی، مکھن، شہد مرغی ، پھل یا دوسری اجناس کی شکل میں۔ یہ دستور انگریز بہادر کے دور میں بھی تھا اور اس کا ذکر قدرت اللہ شہاب نے اپنی یاد داشتوں میں بھی کیا ہے۔ صاحب لوگوں کی سبزیاں، پھل، گوشت اور دوسرے لوازمات بھی اسی طرح مہیا کئے جاتے۔ تھے- یہ رشوت یا کرپشن نہیں تھی۔ کار سرکار کا نذرانہ تھا۔ جو لوگ اپنی خوشی سے دیتے تھے۔ اس کی شرح مقرر نہیں تھی۔ ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق دیتا تھا۔ ‘ٹیکس’ کی دوسری شکل بیگار تھی- اس میں علاقے کے کاشتکار پبلک ورکس کے کاموں میں بلا اجرت مزدوری کرتے تھے۔ جیسے نہر سے کھیت تک آنے والے کھالوں کی صفائی، نہروں کی صفائی، کچے راستے بنانا۔ یہ کام علاقے کے بڑے زمیندار، چودھری، سردار، وڈیرے اور خان کرواتے تھے۔ جو ڈپٹی کمشنر اور تھانے کی زبان میں معتبر سمجھے جاتے تھے۔ ان معتبر حضرات کے بغیر تھانے میں رپٹ بھی درج نہیں ہو سکتی تھی اور ضمانت بھی نہیں ہو سکتی تھی- اور مزارع ان کی زمینوں پر اپنی جھگیاں ڈالتے تھے۔ اس لئے وہ بیگار دلوانے کے اہل تھے۔

جب پاکستان بنا تو مغربی پاکستان کے زیادہ تر بڑے زمیندار مسلمان تھے اور مشرقی پاکستان کے زیادہ تر بڑے زمیندار ہندو تھے جو نقل مکانی کر کے مغربی بنگال چلے گئے۔ ان کے جانے سے بیگار اور آبپاشی کا نظام ٹوٹ پھوٹ گیا۔ سرکار نے فورڈ فاؤنڈیشن کی مدد سے مشرقی پاکستان میں دیہی ترقی کا کام شروع کیا تو آپباشی کا نظام بحال کرنے کا کوئی طریقہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ ان دنوں برطانوی سول سروس سے مستعفی ہونے والے ایک سینیر افسر اختر حمید خان کومیلا ضلعے میں وکٹوریہ کالج کے پرنسپل کے طور پر کام کر رہے تھے۔ ان کے تجربے کی بنیاد پر ان سے مشورہ کیا گیا۔ تو انہوں نے سوچ بچار کے بعد مشورہ دیا کہ کاشتکاروں کی تنظیمیں بناؤ اور جو کام بڑے زمیندار کرتے تھے ان کی تنظیمیں خود کریں۔ بعد میں وہ پاکستان اکیڈیمی فار رورل ڈیولپمنٹ کومیلا کے ڈائریکٹر بنے تو انہوں نے تھانہ ٹریننگ اینڈ ڈویلپمینٹ سنٹرز کے ذریعے آدھے مشرقی پاکستان میں اسی طرح کی تنظیمیں قائم کر دیں۔ اس مضبوط روایت کی وجہ سے وہاں بریک (BRAC) اور گرامین بنک جیسے تناور ادارے قائم ہوئے اور دنیا ان سے سیکھنے پہنج گئی۔

مغربی پاکستان میں ڈالی اور بیگار کا خدمتی نظام قائم رہا۔ یہاں پر بڑے زمینداروں کا زور 1990 کی دہائی میں ٹوٹا۔ مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں لوک اداروں نے روزگار ، تعلیم اور صحت – یعنی افرادی قوت کی ترقی کے کام میں حکومت کا بوجھ سنبھال لیا اور نجی ذرائع سے عوامی مفاد کے کام کئے تو مغربی پاکستان میں بڑے زمینداروں کی جگہ مافیا نے لے لی اور عوامی وسائل کو ذاتی دولت جمع کرنے کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ اس روایت کا تعلق ہمارے عدالتی نظام سے ہے۔ مشکل یہ ہےکہ کار سرکار کے اخراجات اور اپنی جیب بھرنے کے لئے وصولیاں دونوں آپس میں گڈ مڈ ہیں۔ ہمارا عدالتی نظام تھانے اور کچہری پر قائم ہے۔ تھانے کو جو بجٹ ملتا ہے۔ اس سے تھانے کے اخراجات اور جرائم کی تفتیش کا کام نہیں ہو سکتا۔ تھانے کو مجرموں کے خلاف گواہی دینے والے نہیں ملتے۔ یہ اخراجات تھانے میں آنے والے فریقوں سے معاملہ رفع دفع کرنے میں مدد کے لئے وصولی کر کے پورے کئے جاتے ہیں ۔ پنجاب میں اسے چٹی کہتے ہیں۔ جو شخص چٹی دلانے کا کاروبار کرتا ہے اسے چٹی دلال کہتے ہیں۔ چٹی کو عام زبان میں بھتہ کہا جاتا ہے۔ بھتے کی اور بھی شکلیں ہیں۔ اگر ناجائز کام کرانے کیلئے بھتہ دیا جائے تو اسے مٹھی گرم کرنا کہتے ہیں۔ اگر جائز کام کرنے کیلئے بھتہ دیا جائے تو اسے چائے پانی کا خرچہ کہتے ہیں۔ اس طرح کے الفاظ دینے اور لینے والوں کا پردہ رکھنے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ ہم ویسے بھی پردہ داری کے بہت پابند ہیں۔ جیسے منو بھائی نے کہا تھا

چادر جنرل رانی دی تے چار دیواری جالب دی

اس کرپشن کی ذمہ داری ٹیکس چوروں اور سبسڈی خوروں پر ہے، پولیس پر نہیں۔ چوری کرنے والے حکمران ٹیکس نہیں دیتے تو بھتہ لینے کی جوابدہی بھی نہیں کر سکتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کرپشن اور بھتے کے نئی شکلیں ہماری اشرافیہ کے مختلف دھڑوں نے ایجاد کی ہیں ۔ بنیادی اصول یہ رہا ہے کہ قوانین نہ بدلے جائیں تاکہ مشکل قوانین کے ذریعے عوام کے حقوق دینے سے انکار کیا جا سکے۔ جائز کام غیر قانونی طریقے سے کیا جائے۔ اس فن کے ماہرین نے اس کے ساتھ ایک نیا کلیہ بھی ڈھونڈا ہے وہ یہ ہے کہ ناجائز قام قانونی طریقے سے کیا جائے۔ اور ہر چیز کو خلط ملط کر کےاس پر مسلسل شور مچایا جائے۔ عوام کی صورتحال اس شور و غوغا میں اس غریب مراثی جیسی ہو گئی ہے جو آدھی رات کو چور چور کا ہنگامہ سن کر کمبل پہن کر گلی میں آیا تو چور اس کا کمبل چھین کر بھاگ گیا- واپسی پر بیوی نے پوچھا کس بات پر لڑائی تھی تو اس نے کہا میرا کمبل چھیننے پر۔ ہماری اشرافیہ کے مختلف دھڑے ایک دوسرے پر چور چور کے الزامات لگا کر عوام کا کمبل اتار چکے اور ان سے داد وصول کرنے کی توقع بھی رکھتے ہیں ۔ ہمارا نظام قانونی چوروں کو پکڑ نہیں سکتا۔ اور غیر قانونی طریقے سے خدمت کرنے والوں کو صلہ نہیں دے سکتا۔ کرپشن کا حل قومی سطح پر سچ اور صلح کا کمیشن بنا کر نئی قانون سازی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اس بنیادی تبدیلی سے پہلی عام شہری بہت کچھ کر سکتےہیں لیکن کرپشن کی نت نئی اور ہمہ گیر شکلوں کی وجہ سے ایک قومی سمجھوتے کے بغیر اس کا مستقل حل نہیں ہے۔ وجہ؟

 ایوب خان کے دور ترقی سے اب تک ہم نے کرپشن کی نئی شکلیں ایجاد کی ہیں تاکہ ایک درباری طبقے کو اقتدار میں رکھا جا سکے- ایوب خان کے زمانے میں پرمٹ، لائسنس، سستے قرضے دیے جاتے تھے۔ پھر سیاستدان، سول اور غیر سول افسران، میڈیا سب اس کی لپیٹ میں آ گئے- مشرقی پاکستان میں فوجی ایکشن اور سمری عدالتوں سے یہ بیماری بالائی طبقوں تک پہنچی۔ پھر افغانستان میں امریکی جہاد کے دنوں میں ہیروئن اور اسلحے کی تجارت سے اسے مزید فروغ ملا۔ اس کے بعد کاروباری طبقے کے حکومت میں آنے کے بعد ہارس ٹریڈنگ ، لفافہ جرنلزم، اور کار خیر کے لئے چندے کا آغاز ہوا۔ بوری بند لاش بننے سے بچنے کے لئے بھتہ وصولی، اغوا برائے تاوان کے دھندے کا آغاز ہوا۔ اور سرکاری ملازمتوں کا حصول، تبادلے، شناختی کارڈ اور پاسپورٹ سب کی قیمتیں مقرر ہو گئیں۔ اس تمام عمل میں ریاست کے بنیادی کاموں کی نجکاری ہو گئی ہے- اور ایک مافیا طبقہ اس نجکاری کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ عام لوگ اس مافیا نظام سے گلیوں بازاروں میں بڑی کامیابی سے لڑ سکتے ہیں- آئندہ نشستوں میں اسے بیان کرنے سے پہلے میں اگلی نشست میں قانونی رشوت اور غیر قانونی خدمت کا بیان کروں گا۔ قومی سطح پر اس کا ایک ہی حل ہے۔ سچ اور صلح کے لئے قومی مکالمہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “سرکاری خزانہ، ڈالی، بھتہ اور ٹیکس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *