اترپردیش کا چرواہا اور کمشنر آفس مکران کا مومن

میرے خیال میں عوام اور اشرافیہ کے طریقہ کار کا دو فقروں میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے۔ اشرافیہ ہر کام چھپا کے کرتی ہے۔ یا اپنے آپ کو خصوصی مقام کا اہل سمجھتی ہے-عوام ہر کام دوسروں کو ملا کے کرتے ہیں اور دوسروں کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھتے ہیں۔ عوام کی اخلاقیات کو کیوں برتری حاصل ہے اسے سمجھانے کے لئے دو کہانیاں، جیسے میں نے وصول کی ہیں، من و عن آپکے سامنے پیش

Read more

جڑانوالہ میں رانا عبد الرحمان نے مقامی حکومت کا کامیاب تجربہ کیسے کیا؟

ہمارے حکومتی نظام میں تبدیلی لانے کا کام سب سے آسان مقامی حکومت کی سطح پر ہے۔ اور تبدیلی کا کام ہمیشہ آسان سے مشکل کی طرف ہونا چاہئے۔ اگر شروع ہی مشکل سے کریں تو ناکامی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ تبدیلی لانے کا کام کوئی بھی کر سکتا ہے۔ تبدیلی لانے والے بندے میں سب سے بڑا گن یہ ہوتا ہے کہ وہ پنچایتی ہوتا ہے۔ اسے دوسروں کے ساتھ مل کے چلنا آتاہے۔ اسے مونچھیں نیچی رکھنی

Read more

ایک عام شہری کرپشن کا غبارہ کیسے پھوڑ سکتا ہے؟

غیر ملکی قرضے، سرکاری منصوبے اور بھتہ خوری ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اس دھندے میں سیاستدان اور سرکاری افسران دونوں شریک ہوتے ہیں۔ ہر سرکاری لین دین میں بھتہ لینے کی گنجائش ہوتی ہے۔ پاکستانی نژاد برطانوی دانشور طارق علی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستانی اشرافیہ کے لوگ اپنی نجی محفلوں میں اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ وہ دونوں ہاتھوں سے سرکاری خزانہ لوٹ رہے ہیں۔ ائر مارشل اصغر خان مرحوم

Read more

قرضے، حکومت اور عوام: چند مغالطے

ہمارے ملک میں اس وقت یہ بیانیہ عام ہے کہ ہمیں قرضوں نے کنگال کر دیا ہے۔ یہ آدھا سچ ہے۔ بعض اوقات آدھا سچ پورے جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ ذرا غور کیجئے۔ آج سے چالیس سال پہلے جنرل ضیا الحق کی ولولہ انگیز قیادت نے ہمیں امریکی سرپرستی میں ایک عالمی ‘جہاد’ کے معرکہ میں داخل کر دیا۔ ہم امریکی محاز کی صف اوّل میں شامل ہو گئے۔ چین اس وقت امریکہ کے مخالف کیمپ کا حصہ

Read more

سرکاری خزانہ، ڈالی، بھتہ اور ٹیکس

پاکستان بنا تو زراعت ہماری آمدنی کا بہت بڑا ذریعہ تھی۔ زمیندار طبقے کا تمام سال زیادہ تر لین دین اجناس اور خدمات کی شکل میں ہوتا تھا۔ اناج، کپاس اور دوسری فصلوں کے بدلے میں یا فصل کے موقع پر نقد ادائیگی کے وعدے پر انہیں ہر چیز مل جاتی تھی۔ نقدی، روپے، پیسے کا لین دین محدود تھا۔ سرکار کو ‘ٹیکس’ کی ادائیگی بھی اجناس اور خدمات کی شکلوں میں ہوتی تھی۔ رعایا جنہیں اب شہری کہتے ہیں

Read more

کرپشن، سازشیں اور بے لاگ تجزیے

میرے پچھلے کالم میں پاکستانی معیشت کی ٹیڑھی بنیادوں پر میرے دوستوں نے نہایت نرم اور گرم تبصرے کئے ہیں- میں یہ کالم مکالمے کے طور پر لکھ رہا ہوں، منبر سے تقریر کے طور پر نہیں۔ اور آپ سب کا دلی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں- لیکن آج کی نشست میں کچھ باتیں اپنے مکالمے کے مقصد اور طریقہ کار کے بارے میں کہنا چاہتا ہوں۔ پاکستانی معیشت کو سمجھنے کا مقصد اسے تبدیل کرنا ہے۔ اور یہ سمجھنا

Read more

ہم نے پاکستان کی معیشت کی بنیاد کیسے ٹیڑھی رکھی؟

ہمارے بہت سے گناہ ہمارے اجتماعی گناہ ہیں جن کی ذمہ داری کسی ایک فرد، جماعت، سوچ یا عقیدے پر ڈال کر کفارہ ادا کرنے کی کوشش نے ہمیں مسلسل ناکامیوں سے دو چار کیا ہے۔ ہمارا سب سے بڑا گناہ آنکھوں کے سامنے موجود حقیقت کو نہ دیکھنا ہے۔ دوسرا گناہ اپنے اندر موجود بے رحمی سے آنکھیں بند کرنا ہے ذرا غور کیجئے تو آپ کو دو دلچسپ حقیقتیں واضح طور پر نظر آئیں گی۔ ایک یہ کہ

Read more