کورونا وائرس کے سبب فلم انڈسٹری کو ہونے والے نقصان سے کیسے نمٹا جائے گا؟


عالیہ بھٹ

Alia Bhatt/Facebook
دنیا کی دیگر صنعتوں کی طرح فلم انڈسٹری بھی کورونا وائرس کی وجہ سے بے حد متاثر ہوئی ہے

گزشتہ تین ماہ سے کورونا وائرس کے سبب پوری دنیا میں فلم انڈسٹری یا اس سے منسلک کاروبار ٹھپ پڑا ہے، کاروبار کو ہونے والے اس نقصان سے فلم انڈسٹری کیسے نمٹے گی۔

دنیا بھر میں تھیٹر بندر ہورہے ہیں۔ نوکریاں ختم ہورہی ہیں۔ یہ کسی کو نہیں معلوم کہ سنیما کا پروجکٹر پھر کب چلے گا۔

کووڈ 19 کے بحران کے حوالے سے ایک دیکھا جائے تو فلم انڈسٹری بھی اسی طرح متاثر ہوئی ہے جیسے کہ ديگر صنعتیں۔ صرف ایک معاملے میں یہ دوسری صنعتوں سے مختلف ہے۔ اور وہ یہ موجودہ حالات میں ہم لوگ الگ الگ سٹریمنگ پلیٹ فارمز پر جاکر اپنے انٹرنمنٹ کا مواد تلاش کررہے ہیں اور ایسے فلمیں دیکھ رہے ہیں جو سلور سکرین کے لیے بنائی گئیں تھیں لیکن کووڈ 19 کی وجہ سے ریلیز نہیں ہوسکیں۔

فلم شائقین گھر پر بیٹھ کر زيادہ فلمیں دیکھ رہے ہیں۔ سوال یہ کہ کورونا کی وباء کے ختم ہونے کے بعد کیا سنیما جاکر فلمیں دیکھنے کا رواج جاری رہے گا۔

اس بار ےمیں چین سے ملنے والے اشارے کوئی خاص مثبت نہیں ہیں۔ فروری 2019 میں چین کے فلم شائقین نے 63۔1 ارب ڈالر کے سنیما کے ٹکٹ خریدے جو ایک مہینے میں کسی بھی ملک کے لیے ایک ریکارڈ ہے لیکن فروری 2020 میں ایسا نہیں ہوا۔

کورونا وائرس کی وباء پھیلنے کے بعد چین میں فلم تھئیٹر بند ہوگئے۔ مارچ میں لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد سنیما گھروں کو کھولنے کی کوشش ہوئی لیکن ڈسٹریبیوٹرز نے نئی فلمیں ریلیز کرنے سے انکار کردیا اور فلم دیکھنے والے گھر سے باہر نہیں نکلے۔ حکومت کا نوٹس موصول ہونے کے بعد 500 سنمیا ہالوں کو بند کردیا گیا۔

برطانیہ میں مشہور ٹائنیسائڈ سنمیا نے چندا اکھٹا کرنے کی مہم شروع کی ہے تاکہ وہ دوبارہ کھل سکے۔ نیویارک کے مشہور لنکن سینٹر جہاں نیو یارک فلم فیسٹول ہوتا ہے وہاں معاشی تنگی کی وجہ سے بہت سے ملازموں کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔

آن لائن سٹریمنگ

بڑے سٹوڈیو نے سنیما گھروں کے مالکان کی مشکل میں اضافہ کیا ہے۔ وہ حال ہی میں ریلیز کی جانے والے فلموں کو بھی آن لائن ہی ریلیز کررہے ہیں۔ ڈزنی نے امریکہ میں پریمئر کے ایک ماہ بعد ہی اینیمیشن فلم ‘آنوارڈ’ کو کرائے پر مہیا کرادیا۔ اسی طرح یونیورسل نے ‘ دا انوزیبل مین’ اور ‘ دا ہنٹ’ کو اپلوڈ کردیا۔

برلن فلم فیسٹیول میں اعزاز یافتہ ‘ نیور رئرلی سم ٹائمز آلویز’ کی امریکہ میں ریلیز ہونے کے کچھ ہی ہفتے بعد کردی گئی۔ فلم سٹوڈیو کو یہ لگتا ہے کہ وہ وہ براہ راست لوگوں کے گھر پہنچ کر منافع کما سکتے ہیں تو سنمیا گھروں کو اپنی کمائی میں حصہ دار کیوں بنائیں۔

اصل میں سٹریمنگ پلیٹ فارمز منافع کمارہے ہیں اور سنیما ہال برے حال ہیں۔ گھر پر انٹرٹنمنٹ کا مطالبہ اتنا زیادہ ہے کہ نیٹفلکس اور ڈزنی پلس نے اپنی پکچر کوالٹی کم کرنے کا اعلان کیا تاکہ انٹرنٹ دیٹا کم خرچ ہو اور فلمیں آسانی سے ڈاؤنلوڈ ہوجائیں۔

سنیما کی تاریخ میں کئی بار اس طرح کے المیے پیش آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

’کورونا وائرس انڈیا کی معیشت کو تباہ کر کے رکھ دے گا‘

کورونا وائرس: عالمی معیشت کی بحالی میں کتنا وقت لگے گا؟

کورونا وائرس کے دور میں فلم انڈسٹری

Alamy
فلم انڈسٹری کو ماضی میں بھی کئی بار اس طرح کے معاشی بحران کا سامنا رہا ہے

ماضی میں کس طرح سے فلم انڈسٹری نے وباء کا سامنا کیا؟

آج کی طرح ایک صدی پہلے بھی یہی تشویش تھی کہ وائرس کے باعث سنیما گھر ہمیشہ کے لیے بند ہوجائیں گے۔ 1918 سے 1920 کے درمیان سپینش فلو نے پانچ کروڑ لوگوں کی جان لی تھی۔ اس سے قبل پہلی جنگ عظیم میں چار کروڑ لوگوں کی جان لی تھی۔

وائرس پھیلنے کے بعد سنمیا ہال بند ہوگئے تھے حالانکہ تب کا لاک ڈاؤن آج کی طرح نہیں تھا۔ شہری حکومتوں کو فیصلہ کرنے کا حق تھا۔ برطانیہ میں سنمیا ہال بند کیے جانے پر کافی تنازعہ ہوا تھا۔ فلم ہسٹورین/تاریخ داں لارینس نیپر کے مطابق پہلی جنگ عظیم کے دوران ‘ سنیما ہال کھلے تھے’ اور بہت مقبول تھے۔

برطانوی حکومت نے عوام کی خوشی کے لیے سنیما ہالوں کو کھلے رکھنا ضروری سمجھا تھا۔ عوام اس سے مصروف رہتے تھے اور ان کو پرسکون رکھنے میں مدد ملتی تھی۔ سنمیا جانے کی وجہ سے شراب خانوں سے دور رہتے تھے۔ نیپر کہتے ہیں، ” نشے کی لت حکمرانوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ تھا جبکہ سنیما اشتہار کا اہم ذریعہ تھا۔

برطانیہ میں سپینش فلو کی وباء کے دوران سنیما ہال کبھی بند نہیں۔ حالانکہ وہاں بیٹھ کر فلم دیکھنے کو بہتر بنانے کے لیے بعض اقدامات کیے گئے۔ لندن میں ہر تین گھنٹے میں سنیما ہالوں کی کھڑکیاں کھولی جاتی تھیں تاکہ تازہ ہوا آئے۔ بعض علاقوں میں بچوں کے سنیما ہال جانے پر پابندی تھی وغیرہ وغیرہ۔

مقامی سطح پر فیصلے کیے جانے کی آزادی کا یہ فائدہ تھا کہ جہاں پابندیاں نہیں ہوتی تھیں وہاں سیلیولائڈ پرنٹ بھیج کر فلمیں دکھائی جاتی تھیں۔ ایڈنبراہ میں فلو کے دوران پابندیوں کے باوجود ‘ یوم صلح’ یا آرمسٹس ڈے کے موقع پر سنیما گھروں کو کھولنے کے لیے حوصلہ افضائی کی جاتی تھی اور ایک ہفتے تک ہاؤس فل شو چلتے تھے۔ اسی طرح سے امریکہ میں فلو پھیلنے کے بعد علاقائی سطح پر سنیما بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

ہالی وڈ میں فلو کی اثر

ہالی وڈ کے مرکز لاس اینجیلس میں فلو بہت زیادہ پھیلا ہوا تھا۔ کیلیفورنیا کے سنیما ہالوں کو ساتھ ہفتوں کے لیے بند کیا گیا تھا۔ فلم پرڈیوسروں نے اس دوران نئی فلموں کی ریلیز پر پابندی لگا دی تھی۔ اس وباء سے سنیما ہال متاثر ضرور ہوئے لیکن وباء کے ختم ہونے کے بعد ان کا وجود بدلا اور انہوں نے زیادہ ترقی کی۔

فلم ناقد رچرڈ براڈی نے ماضی کے حالات کا موجودہ حالات سے موازنہ کرتے نیو یورکر میں لکھا ہے۔ ” متعدد چھوٹی کمپنیاں بند ہوگئیں۔ سنیما کا نیا روپ سامنے آیا۔ بڑی کمپنیاں مزید بڑی ہوگئیں، بڑے سٹوڈیو بنے جنہوں نے فلمیں بنانے اور انہیں ریلیز کرنے کا کام شروع کیا۔ فلو اور جنگ کے خاتمے نے فلم انڈسٹری کے ایک نئے دور میگا ہالی وڈ کو جنم دیا جو آج پھر سے دوہرایا جارہا ہے”۔

ہالی وڈ میں شائقین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔ 1930 کی دہائی میں سنیما گھروں میں سب سے زیادہ تعداد میں لوگ فلم دیکھنے آئے۔

جب کسادبازای کا دور شروع ہوا تھا سنیما نے لوگوں کو محضوض کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1929 کے مقابلے 1939 میں ریلیز ہونے والی فلم ” گون ود دا ونڈ” اب تک کی سب سے کامیاب ریلیز ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران تمام مسائل کے باوجود سنیما پھلا پھولا۔ برطانیہ سمیت کئی ممالک نے سنیما کو اشتہار کا اہم ذریعہ سمجھا۔ ایک ایسی جگہ جہاں انفورمیشن دی جا سکے اور عوام کی حوصلہ افضائی کی جاسکے۔ جنگ شروع ہونے پر برطانیہ میں ایک ہفتے کے لیے سنیما ہالوں کو بند کیا گیا لیکن اس کے بعد پھر دھوم دھام سے کھولا گیا۔

نیپر کہتے ہیں ، ” سنیما ہال عوام کے ایک دوسرے سے ملنے ملانے، سماجی تقریبات، اور بیرونی ممالک میں رہنے والے لوگوں کے لیے اپنے وطن سے جڑے رہنے کا ذریعہ تھا۔

کورونا وائرس کے دور میں فلم انڈسٹری

Alamy
دوسری جنگ عظیم کے دوران تمام مسائل کے باوجود سنیما پھلا پھولا

ٹی وی کو خطرہ

1950 کی دہائی میں آواز اور تصاویر پر مبنی انٹرٹنمنٹ کے ذرائع پر اب صرف سنیما کی جاگیر نہیں رہ گیا تھا۔ 1950 میں ٹی وی آیا اور حکومت اب لوگوں کے ڈرائنگ روم میں براہ راست خبریں دکھا سکتی تھی۔ اس لیے سنیما اشتہار کا واحد ذریعہ نہیں رہ گیا تھا۔

آج کے دور میں ساری معلومات موبائل فون پر لگی ہے۔ ٹی وی خریدنے کے بعد اسے دیکھنا مفت تھا۔ اداکار اور پرڈیوسر اچانک چھوٹے باکس کی طاقت سے سکتے میں پڑ گئے۔

1946 میں برطانیہ اور امریکہ میں سنیما جانے کے اعدادوشمار بہت زیادہ تھے اس کے بعد سال د سال ان کی تعداد کم ہونے لگی۔ 1950 کی دہائی کی شروعات میں مبینہ طور پر بائیں بازوں کی سوچ رکھنے والوں کو فلمیں بنانے سے باہر رکھا گیا۔

سنیما ہال کے بارے میں عزیم فلم ساز ڈیوڈ او سیلزنک نے 1951 میں کہا تھا ” ہالی وڈ مصر کی طرح ہے۔ پرامڈوں سے بھرا ہوا ہے۔ یہ پھر کبھی واپسی نہیں کرے گا”۔

لیکن سنیما کبھی ختم نہیں ہوا، بلکہ 1970 کی دہائی کی شروعات میں سمر بلاک بسٹر کے آنے کے بعد بعد یہ پھر سے زندہ ہوگیا۔ شائقین کی تعداد بڑھنے لگی۔ سٹوین سپلبرگ کی فلم جاز( 1975) کے بعد فلمیں بڑے پیمانے پر مارکیٹنگ کے ساتھ ریلیز ہونے لگی۔

کورونا وائرس کے دور میں فلم انڈسٹری

Alamy
دوسری جنگ عظیم کے دوران تمام مسائل کے باوجود سنیما پھلا پھولا

ویڈیو ٹیپ کا چیلنج

1980 کی دہائی میں ایک اور چیلنج کا سامنا ہوا۔ ٹی وی نے اگر سنیما ہالوں میں شائقین کی تعداد کم کی تو ویڈیو ٹیپ کو ان کی تعداد مزید کم کرنے کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ 1976 میں جب وی ایچ ایس ٹیپ آئے تو گھر بیٹھ کر فلم دیکھنا ممکن ہوا۔

فلموں کے ٹیپ کرائے پر ملنے گلے سنیما ہال جانا مجبوری نہیں رہا۔ لیکن اصل میں اس نے سنیما ہال جاکر فلم دیکھنے کے تجربے کو مزید دلچسپ بنادیا ہے۔

کوونٹن ٹورٹنو نے بھلے ہی 1980 کی دہائی کو امریکی فلموں کی تاریخ کا سب سے برا دور کہا ہے لیکن اس دہائی میں بھی باکس آفس پر پیسہ دوگنا ہوگیا۔

سنیما کی موت نہیں ہوئی، بلکہ ویڈیو سے فلم سٹوڈیو کو آمدنی کا نیا ذریعہ مل گیا۔ کیسیٹ خرید کر رکھنے سے فلم کے شائقین کا جنون بڑھا اور انہوں نے اپنے پسندیدہ ہدایت کاروں کی نئی فلموں کو بڑے پردے پر دیکھنے کی جستجو مزید بڑھی۔ اس کے نتیجے میں سنمیا مالکان نے جدید ملٹی پلیکس بنائے اور بزنس کو تقویت ملی۔

سٹریمنگ پلیٹ فارم

ویڈیو گیا تو سنیما کے لیے نیا دشمن پیدا ہوگیا- سٹریمنگ پلیٹ فارم۔ گزشتہ چند برسوں میں نیٹفلکس اور ایمیزن نے سنیما کو دوہری مار دی۔ یہ گھر کے صوفے پر بیٹھے بیٹھے شائقین کو زیادہ سے زیادہ فلمیں آفر کررہے تھے ساتھ ہی ان کوالٹی بھی زبردست تھی۔

2015 میں فلم سٹار دسٹن ہافمین نے کہا تھا ، ” مجھے لگتا کہ اس وقت ٹی وی سب سے اچھا ہے اور فلموں کا دور سب سے برا ہے۔ میں گزشتہ پچاس سالوں سے فلموں میں کام کررہا ہوں۔ یہ سب سے برا دور ہے۔”

نیٹفلکس کے مارکٹن سکاسرس اور نواحہ بومباچ جیسے نامور ہدایت کاروں کو اپنی جانب رجوع کیا لیکن انہوں نے ماضی کے ان ضوابط قبول کرنے سے انکار کردیا جو چند ماہ پہلے تک سنیما گھروں کو فلم سکرین کرنے کا خصوصی اختیار دیتے تھے”۔

وباء سے پہلے سنیما جانے کی روایت کمزرو پڑنے لگی تھی۔ 2018 میں برطانیہ ایک دہائی میں پہلی بار سنیما کے ٹکٹ سستے ہوئے تھے۔ 2019 میں ٹکٹوں کی قیمت مزید کم ہوئی۔ حالانکہ باکس آفس میں کل کمائی بڑھی لیکن بہت کم فلم کامیاب ہوئیں، جن میں زیادہ تر کامک بک سپر ہیرو والی فلمیں تھیں”۔

ڈزنی نے 2019 میں 11 ارب ڈالر کمائے لیکن بعض چھوٹے ڈسٹریبیوٹر اپنے وجود کو بچانے کی جدوجہد میں مصروف رہے۔ بڑے سٹوڈیوز نے اپنے سٹریمنگ پلیٹ فارم قائم کرلیے اور اس بازار میں بھی اپنا سکہ جما لیا۔

‘نیو نارمل’

کورونا وائرس سے متاثر اس دنیا میں سٹریمنگ پلیٹ فارم کے ساتھ لڑائی بہت چھوٹی لگتی ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے دنیا بھر کے سنیما گھر ایک ساتھ ایک جھٹکے میں بند ہوئے ہیں۔ فلموں کی شٹونگ بند ہوگئی ہے۔ فلم فیسٹول کی تاریخ یا تو آگے بڑھا دی گئی ہے یا انہیں منسوخ کردیا گیا ہے۔

‘دا فاسٹ اینڈ فیوریس’ کو 2021 تک منسوخ کردیا گیا ہے۔ جیمس بانڈ کی نئی فلم ‘ نو ٹائم ٹو ڈائی’ کو نومبر تک روک دیا گیا ہے۔ ‘بلیک وڈو’ کی ریلیز کو بھی منسوخ کردیا گیا ہے۔ دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کا ذریعہ معاش متاثر ہوا۔ ہوسکتا ہے بعض سنیما ہال دوبارہ کبھی نہ کھلیں۔

فرانسیسی فلم سیلز ایجنٹ ایلے ڈرائیور کے شریک ایڈیٹر ایڈیلن ٹیسور کا کہنا ہے فلمی دنیا کے سامنے جس طرح کا بحران اور غیر یقینی کی صورتحال اس وقت ہے اس کے مستقبل کے بارے میں ابھی سوچنا مشکل ہے۔

ان کا کہنا ہے ” ہم چيزوں کے صحیح ہونے کی امید میں اعلانات کردیں؟ ابھی بہت جلد بازی ہوگی۔ ابھی ہم اپنی انڈسٹری کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہر انسان مستقبل میں ہونے والے نقصان کا اندازہ لگا رہا ہے۔ جو ہورہا ہے وہ کسی ایک انڈسٹری کی بات نہیں ہے۔ اس نئی دنیا کو ہم دھیرے دھیرے قبول کریں گے”۔

وائرس کی وجہ سے عجیب و غریب چیزيں ہورہی ہیں۔ ہالی وڈ کے سٹوڈیو نیٹفلکس کے ہاتھ ملا چلے ہیں۔ کان فلم فیسٹول کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ بعض اہم فلم فیسٹول آن لائن ہورہے ہیں اور لوگ اپنے گھر میں بیٹھ کر ہی فلموں کے پریمیئر شو دیکھ رہے ہیں۔

فلپ نیچبل برطانیہ میں کرزن کے سی اے او ہیں اور سنیما ہالوں کی چین چلاتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ وائرس نے انڈسٹری کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا ہے، ” فی الحال تو باکس آفس پر ہونے والے نقصان کو سمجھنا ہے۔ جب سنیما ہال کھلیں گے تو سپلائی چین کے ساتھ نئی طرح کے چلینیجز سامنے آئیں گے جو ابھی دکھائی نہیں دے رہے ہیں”۔

مایوسی کیوں نہیں ہونی چاہیے؟

سنیما اپنے وجود کی لڑائی لڑرہا ہے۔ موجودہ حالت میں سٹریمنگ پلیٹ فارم اور تھیئٹر ونڈو کے ذریعے نذریعے میں اہم تبدیلی لا سکتی ہے۔ کرزن پہلے ہی آن ڈیمانڈ ریلیز ماڈل اختیار کرچکا ہے۔

نیچبل کہتے ہیں، ”تھیئٹر یا سٹریمنگ؟ حال میں اس پر کافی بحث ہوئی ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کی فلمیں دیکھنی کی عادت میں کتنا اثر پڑے گا اس کے بارے میں اندازے لگائے گئے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس سے کوئی مدد حاصل ہوگی۔ یہ غیر یقینی کی صورتحال ہے۔ ہمیں نئے طریقے سے سوچنے کی ضرورت ہے۔”

اس ساری نا امیدی کے باوجود تاریخ گواہ ہے کہ سنیما نے کبھی شکست قبول نہیں کی ہے۔

1918 کی وباء کے بعد لوگ سنیما گھروں پر ٹوٹ پڑے تھے۔ ویڈیو نے سنیما جانے کے تجربے کو مزید دلچسپ بنا دیا تھا۔

ہفتوں یا مہینوں تک گھر میں بند رہنے اور ٹی وی اور کمپوئٹر سکرین پر فلموں دیکھنے کے بعد بڑے پردے پر فلم دیھکنا جادوئی لگے گا۔ گھر پر فلمیں دیکھنا اور اور سنیما کے بڑے پردے پر فلمیں دیکھنا دو الگ اور مختلف تجربے ہیں۔ اسی بات کو دھیان میں رکھتے ہوئے ہدایت کار یہ چاہیں گے کہ لوگ ان کی فلمیں سب سے پہلے سنیما گھروں میں دیکھیں۔

امید کی کچھ اور وجوہات بھی ہیں۔ حال میں گلوبل باکس آفس پر آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔ آسکر اعزاز یافتہ فلم ‘ پیراسائٹ’ نے مغربی دنیا میں کمائی کی۔ اس سے یہ معلوم ہوتا کہ سنیما اب ایک گلوبل کاروبار بن گیا ہے۔ ملٹی پلیکس کے آنے کے بعد خود سنیما گھر بھی شاندار ہوگئے ہیں۔

نیچبل کا خيال ہے کہ سنیما اپنے لیے کوئی اور راستہ تلاش کرلے گا جیسا کہ اس نے ماضی میں کیا تھا۔

ان کا کہنا ہے ” جنگ، وباء اور متعدد تکنیکی تبدیلیوں کو اس نے برداشت کیا ہے۔ اندھیرے کمرے میں جمع ہوکر ایک عظیم فلم کو دیکھنا ایک نایاب تجربہ ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ سنیما گھر پھر سے کھلیں گے تو جشن کا ماحول ہوگا۔ شائقین اپنے گھروں سے نکل بڑی سکرین پر فلم دیکھنے کے لیے واپس سنیما ہال کا رخ کریں گے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp