عورت کی سگی
گالی کا عورت کی ذات سے کچھ ایسا ہی رشتہ ہے جیسے کسی سگی جڑواں بہن کا اپنی دوسری بہن سے، جیسے ایک کے بنا دوسری کا ذکر ادھورا۔ شاید کسی زمانے میں عورت اور گالی ایک دوسرے سے کسی کمبھ میلے میں بچھڑ گئی تھیں لیکن پھر انسانیت اور خیر سگالی کے جذبے سے بھرپور کسی مرد نے بچھڑی ہوئی ’گالی‘ کو اس کی بہن ’عورت‘ سے ملوایا اور کچھ اس طریقے سے ملوایا کہ تب سے لے کر اب تک ان دونوں بہنوں کو زیادہ دیر تک یا مکمل طور پے ایک دوسرے سے جدا کرنا یا دونوں میں قطع تعلقی کروانا ناممکن سا عمل بن کر رہے گیا۔
اکثر و بیشتر گالی کو مرد کی ذات سے بھی جوڑا جاتا ہے اور اس کی شان میں بھی قصیدے پڑھ کر اس چار چاند لگانے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن اس عمل سے بھی مقصود ان دونوں سگی بہنوں کا رشتہ ظاہر کرنا ہوتا ہے۔ مثلاً کسی مرد کو گالی دینے کے پیچھے بھی اسی پرانے رشتے کی پختگی کی یاد تازہ کروانے کی نیت ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے مرد کی خالصتاً اپنی ذات کے لئے صرف چند ایک ہی گالیاں ہیں۔
غیر منصف قدرت نے مرد کو اس سدا بہار زیور سے آراستہ کرنا مناسب و معقول نہیں سمجھا اور اپنی فضیلتوں کی بارش زیادہ تر عورت پر برسا کر اسی تک ہی محدود رکھی۔ خیر اس کار خیر میں فقط مرد نے عورت کے لئے تن تنہا خدمات انجام نہیں دیے، عورت نے خود بھی دوسری عورت کی شان و حرمت کو اجاگر کرنے میں خوب محنت کی ہے اور انعامی پھل کی صورت میں خود نادانستہ طور اپنے لئے بھی وہی القاب محفوظ کرلئے جو وہ اپنی ہمزاد کے لیے کہا کرتی تھی۔
کچھ جھوٹوں اور مکر بازوں کا کہنا ہے کے مرد عورت کو خود سے کمتر مانتے ہیں اسی لئے انہیں اپنے ساتھ جنگوں میں شریک نہیں کرتے اور مرد میدان جنگ میں ہمیشہ دوسرے مرد سے ہی لڑنا اپنی شان اور شجاعت مانتا رہا ہے۔ جبکہ درحقیقت ایسا نہیں ہے جنگیں اکثر دو مختلف میدانوں میں لڑی جاتی دیکھی گئی ہیں، پہلے جنگ میں مرد مرد کے مدمقابل ہوتا ہے اور وہاں ہار یا جیت کسی کی بھی ہو لیکن پھر جنگ دوسرے میدان پے بھی یعنی عورت کی عصمت، اسی شرمگاہ کے ساتھ بھی ضرور چل رہا ہوتا ہے۔
کبھی یہ دونوں جنگیں بیک وقت چل رہی ہوتی ہیں اور کبھی کوئی پہلے میدان جنگ میں فتح حاصل کرنے کے بعد پھر دوسرے میدان پے حملہ آور ہوتا ہے اور عصمت دری نفسانی درندگی کا مظاہرہ دکھا کر دوبارہ اس دوسرے میدان میں بھی فتح اپنے نام کر لیتا ہے۔ عورت کو مرد نے کبھی کسی میدان میں تنہا نہیں چھوڑا اسے ہمیشہ اپنا مساوی جانا باقی حاسدین تو حسد میں اندھے ہوتے ہیں بھلا انھیں یہ سب سچ کہاں نظر اور سمجھ میں آئے۔


