آصف فرخی کا اپنے پیاروں کو دلاسہ

آج صبح سویرے انتظار حسین بڑی بے چینی سے چہل قدمی کر رہے تھے انہیں جب سے پتہ چلا کہ آصف فرخی میرے شہر میں آئے ہوئے ہیں تو ان سے ملنے کا اضطراب اور بھی بڑھ گیا تھا۔ آصف سے ملے بہت دن ہو گئے تھے ابھی اسی سوچ بچار میں تھے کہ آصف فرخی ہاتھوں میں کچھ کاغذات تھامے چلتے آ رہے ہیں انتظار حسین نے بڑھ کر گلے لگایا خوشی اور رنج کے ملے جلے جذبات کا اظہار کیا اور پھر بولے ارے آصف! اتنے بہت سے کام ادھورے چھوڑ کر اس شہر میں کیوں آ گئے ہو؟

سنا ہے تمہارے یہاں آ جانے سے حمید شاہد بہت پریشان ہے، ناصر عباس نیر دنیازاد کے نئے شمارے کے لئے بہت فکرمند ہے، نجیبہ عارف بھی کام ادھورا رہ جانے پر بڑی ملال ہے، کشور ناہید کو بھی یہ خیال دامن گیر ہے کہ اب تراجم کے لئے فون کر کے کون اکسائے گا، افضال احمد نیا پورٹریٹ بنا کر تمہیں تحفے میں دینے کے لیے گھر کے کئی چکر کاٹ چکے ہیں، فاطمہ حسن بھی تمہارا پوچھتی پھر رہی ہے اور وجاہت مسعود بھی نئے ویڈیو کالم کے انتظار میں ہیں تمہیں ابھی وہاں سے نہیں آنا چاہیے تھا۔

آصف فرخی انتظار حسین کی باتیں سن کر دھیرے سے مسکرائے ان کا ہاتھ تھاما اور بولے انتظار صاحب میں تو صرف قید مقام سے گزرا ہوں کام میں تو آج بھی مصروف ہوں یہ دیکھیے میں نے دنیازاد کا نیا مسودہ رات ہی ترتیب دیا ہے اس میں فہمیدہ ریاض کی نظمیں ہیں، خالدہ حسین کے افسانے ہیں، مشتاق یوسفی کی فکر انگیز مگر ظرافت سے بھرپور باتیں ہیں، سبین محمود کے انسانی حقوق پر مضامین ہیں اور سب سے بڑھ کر آپ کی تحریریں بھی اس میں شامل کرنی ہیں مگر اس دفعہ دنیازاد کا موضوع ہے بے لوث محبت، انسان سے، علم سے، ادب سے، اور اپنے کام سے۔ دیکھو آپ سب پریشان نہ ہوں میں سب کو ملتا رہوں گا اپنی چھوڑ جانے والی تحریروں میں دنیازاد کا یہ نیا شمارہ ضرور آئے گا بس تم اسے محسوس کرو اس کے ایڈیشن شائع کرتے رہنا کیونکہ یہی میرا مقصد تھا اور یہی آپ سب کو دلاسا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words