زمین، چاند اور سورج کی آنکھ مچولی
وائکنگ اساطیر میں سکول اور ہیٹی نامی دو اساطیری بھیڑیے سورج اور چاند کا تعاقب کرتے ہیں اور ان میں سے کوئی جب کسی ایک کو پکڑ لیتا ہے تو سورج اور چاند گرہن لگتے ہیں جس سے دن میں اندھیرا چھا جاتا ہے۔ اس سے لوگ خوفزدہ ہو جاتے، ادھر ادھر بھاگتے ہیں، اس وقت تک شور شرابا کرتے ہیں جب تک کہ وہ ان کو چھوڑ نہ دیں۔ ایسی ہی اساطیر تھوڑے بہت رد و بدل کے ساتھ تقریباً ہر کلچر میں موجود ہیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ لوگوں نے یقیناً یہ دیکھ لیا ہو گا کہ یہ عمل بے ترتیبی سے نہیں بلکہ وقت کے یکساں وقفوں کے ساتھ ایک نظم سے وقوع پذیر ہوتے ہیں اور ان کے چیخنے چلانے کے عمل سے مکمل طور پر بے خبر ہیں۔
بابلی تہذیب والے ان گرہنوں کی پیشین گوئی کافی درستی سے کر لیتے تھے۔ کائنات کو سمجھنے کی جستجو میں آج ہم بہت آگے نکل آئے ہیں۔ آج ہم نے فضا میں اتنی دور تک دیکھ لیا ہے کہ کہ ان فاصلوں کے مقابلے میں سورج ایک قدم جتنی دوری پر موجود دکھتا ہے۔
آج کا سورج گرہن ہمارے لیے اس لحاظ سے بھی زیادہ دلچسپی کا باعث ہے کہ ایک تو یہ قریب قریب مکمل سورج گرہن تھا اور دوسرا یہ کہ یہ پاکستان کے کئی علاقوں سے دیکھا گیا۔ تو چلیں یہ کیوں نہ دیکھ لیا جائے کہ یہ گرہن کا عمل ہوتا کیسے ہے؟
ہمیں معلوم ہے کہ چاند زمین اور زمین سورج کے گرد محو طواف ہے۔ اس لحاظ سے چاند جو زمین کے گرد گھوم رہا ہے وہ سورج کے گرد بھی گھوم رہا ہے اور اس طرح یہ ممکن ہے کہ کچھ خاص اوقات پر چاند زمین اور سورج کے عین درمیان میں آ جائے۔ جب بھی ایسا ہوتا ہے تو سورج کی روشنی زمین تک نہیں پہنچ پاتی اور اس عمل کو سورج گرہن کہتے ہیں۔ اسی طرح جب کبھی اس طواف میں زمین چاند اور سورج کے درمیان آ جائے تو اس عمل کو چاند گرہن کہتے ہیں۔
مکمل سورج گرہن کے لیے بہت ساری شرائط کی تابعداری ہونا ضروری ہے اور سورج۔ زمین۔ چاند کے نظام میں یہ شرائط نہایت احسن طریقے سے پوری ہوتی ہیں۔ جیسا کہ:
1) چاند کا سائز اتنا ہونا چاہیے کہ وہ سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لے
2) سورج، چاند اور زمین ایک قطار میں ہوں
3) اور یہ کہ ( 2 ) کے پورا ہونے کے ساتھ ساتھ چاند، زمین اور سورج کے درمیان میں ہو۔
اتفاق سے ہمارے سورج، زمین اور چاند کے نظام میں یہ شرائط کچھ خاص اوقات میں مکمل طور پر پوری ہوتی ہیں۔ ان شرائط کا پورا ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سورج اور چاند کا سائز ایک جیسا ہے۔ بلکہ سورج کا قطر چاند سے قریب قریب چار سو گنا زیادہ ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ زمین سے چاند کی نسبت تقریباً چارسو گنا زیادہ دور بھی ہے۔ اس کی وجہ سے چاند اور سورج دونوں زمین سے تقریباً ایک جیسے دکھتے ہیں اور اسی وجہ سے جب بھی مکمل سورج گرہن ہوتا ہے تو اس میں چاند سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لیتا ہے اور زمین پر دن میں اندھیرا چھا جاتا ہے۔ ہمارے نظام شمسی میں ایسا اور کسی سیارے اور اس کے چاند کے ساتھ نہیں ہوتا۔
لیکن مکمل سورج گرہن کا لگنا ایک نایاب موقع ہوتا ہے جو سالوں بعد ہوتا ہے اور اس کو دیکھنے کے لیے آپ کو اس خاص جگہ پر بھی موجود ہونا چاہیے جہاں پر سے آپ مکمل سورج کو چاند سے ڈھکا ہوا دیکھ سکیں۔ ظاہر ہے سورج گرہن کے دوران جب چاند کا سایہ زمین پر پڑتا ہے تو وہ زمین کو مکمل نہیں ڈھانپ سکتا اور اس لیے اس نظارے کو کچھ خاص مقامات سے ہی دیکھا جا سکتا ہے۔
جب بھی چاند زمین اور سورج کے درمیان آتا ہے تو یہ لازم نہیں ہے کہ ہمیشہ مکمل سورج گرہن ہی ہو۔ بلکہ زیادہ تر سورج گرہن جزوی ہوتا ہے۔ اس کو آپ تصویر کی مدد سے زیادہ اچھے طریقے سے سمجھ سکتے ہیں۔
تصویر میں روشنی کی شعاعوں کی مدد سے زمین پر پڑنے والے چاند کے سائے کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے دکھایا گیا ہے۔ ظل محض (Umbra) وہ احاطہ ہے جہاں پر چاند کا زمین پر پڑنے والا سایہ بہت گہرا ہوتا ہے اور دن میں بھی رات کا سا سماں لگتا ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں پر موجود لوگوں کے لیے مکمل سورج گرہن ہوتا ہے۔ اس کے ارد گرد ایک اور علاقہ بنتا ہے جہاں پر مکمل تاریکی نہیں ہو پاتی اور اس احاطے میں موجود لوگ سورج کے کچھ حصے کو ابھی بھی دیکھ سکتے ہیں۔ یہ علاقہ سایہ خفیف (Penumbra) کہلاتا ہے اور یہ علاقہ جزوی گرہن کی وجہ سے بنتا ہے۔
یہاں پر ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ جب چاند زمین کے گرد ایک چکر تقریباً انتیس دن میں مکمل کرتا ہے تو اسے تو ہر ماہ سورج اور زمین کے بیچ آ جا نا چاہیے اور ہمیں ہر ماہ سورج گرہن دکھنا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ چاند کا مدار زمین کے سورج کے گرد مدار کے ساتھ تقریباً پانچ درجے کا زاویہ بناتا ہے جس کی وجہ سے ہر بار جب یہ چکر لگا کر سورج والی طرف جاتا ہے تو اس کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا جس کی وجہ سے ہم گرہن نہیں دیکھ سکتے۔ سال میں دو بار ایسا موقع آتا ہے چاند کا سایہ زمین پر پڑتا ہے اور ہم سورج گرہن کا نظارہ کر سکتے ہیں۔
پاکستان میں کس طرح کا سورج گرہن ہوا؟
آج کا سورج گرہن ایک تیسری طرح کا سورج گرہن ہے جس میں چاند سورج کو مکمل تو نہیں ڈھانپ سکتا لیکن اس کے درمیانی حصئے کو ڈھانپ لیتا اس طرح کہ سورج ہمیں ایک حلقے یا رنگ کی طرح نظر آتا ہے اس لیے اس حلقہ آتش بھی کہتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیوں کہ چاند کا زمین کے گرد مدار دائروی (circular) نہیں بلکہ بیضوی (elliptical) ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ چاند کے مدار میں دو نقاط ایسے ہیں جہاں پر اس کا زمین سے فاصلہ اوسط فاصلے سے کم یا زیادہ ہو گا۔ وہ نقطہ جہاں پر چاند کا زمین سے فاصلہ اوسط فاصلے سے زیادہ ہو اس کو اوج قمر (apogee) جب کہ اوسط فاصلے سے کم فاصلے والے نقطے کو حفیض القمر (perigee) کہتے ہیں۔ آج ہونے والے سورج گرہن میں چاند اوج قمر پر تھا اور اس طرح وہ سورج کو مکمل نہیں ڈھانپ پایا اور نتیجتاً سورج ایک حلقہ آتش نظر آنے لگا۔
کیا یہ منظر پاکستان میں ہر جگہ سے دیکھا جا سکا؟ نہیں۔ مکمل سورج گرہن کے نتیجے میں بننے والا ظل محض کا دائرہ رقبے میں سطح ارض کے مقابلے میں بہت کم ہوتا ہے اس لیے اس کو کچھ خاص علاقوں سے ہی دیکھا جا سکا۔ ان میں سکھر اور لاڑکانہ کا علاقہ شامل ہے۔ چونکہ زمین اور چاند اس عمل کے دوران بھی حرکت میں ہوتے ہیں اس لیے گرہن کی وجہ سے زمین پر پڑنے والا سایہ سطح زمین پر حرکت کرتا ہو ایشیا سے افریقہ میں داخل ہوا۔ جہاں اس کا اختتام ہوا۔
کائنات کو سمجھنے کی اس جستجو میں ہم نے اساطیر سے جان چھڑا لی لیکن ان کے ساتھ توہمات ہمارے معاشرے میں اپنی جڑیں اتنی مضبوطی سے گاڑ چکی ہیں کہ ان سے ہم ابھی تک جان نہیں چھڑا سکے۔ پاکستان میں بہت سارے لوگ اب بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دوران سورج گرہن اگر کوئی حاملہ عورت سورج کو دیکھے گی یا چھری یا چاقو سے کوئی چیز کاٹے گی تو اس کا اثر پیدا ہونے والے بچے پر ہو گا، یعنی وہ اندھا ہو گا یا اس کے جسم کو کوئی حصہ یا اعضا کٹا ہوگا جیسے کہ کان، ناک یا ہونٹ پر کٹ لگا ہونا۔
حالاں کہ ایسا ہونے کا سورج گرہن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ ایسا ہونا محض جینینی ہے۔ ہاں ہمیں سورج کو برہنہ آنکھ سے نہیں دیکھنا چاہیے اور سے آپ کی نظر پر اثر پڑنے کا خطرہ ہوتا ہے اور وہ اس لیے کہ گرہن کے دوران ہماری آنکھوں میں پڑنے والی روشنی کی شدت کم ہو جاتی ہے اور آنکھ کی پتلی کھل جاتی ہے تا کہ زیادہ روشنی کو جذب کر کے دیکھنے کا احساس پیدا کر سکے۔ یہ بالکل وہی عمل ہے جو اندھیرے یا کم روشنی میں ہماری آنکھ کرتی ہے۔ برہنہ آنکھ سے دیکھنے کا خطرہ یہ ہوتا ہے کہ جب گرہن ختم ہوتا ہے روشنی کی شدت اچانک بڑھنے سے زیادہ روشنی آنکھ میں چلے جانے سے بینائی جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔




