سٹاک ہوم میں اک پگڑی آوارہ پھرتی ہے

یہ 1962 کی بات ہے، میں کیمبرج یونیورسٹی میں طالب علم تھا اور اس دن محض وقت گزاری کی خاطر ہال میں داخل ہوا تھا۔ ہال اساتذہ اور طلبا سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ہال کا دروازہ کھلتا ہے اور کالے چوغوں میں ملبوس تین شخص اندر داخل ہوتے ہیں۔ وہ کیمر، میتھیوز اور عبدالسلام ہیں۔ ہال میں ایک سناٹا چھا جاتا ہے۔ اگلی قطار میں بیٹھا ایک لڑکا پیچھے مڑتا ہے اور بظاہر کسی سے بھی مخاطب ہوئے بنا کہتا ہے ”جب یہ بولتے ہیں تو قابلیت ٹپکتی ہے“ ۔ (گورڈن فریزر)۔

Read more

یکساں نظام تعلیم کا نسخہ بے اثر کیوں؟

اگر آپ سڑک پر چلتے ہوئے کیلے کے چھلکے پر سے پھسل کر گر جائیں تو آپ ایسا کیا کریں گے کہ آئندہ پھسلنے سے بچا جا سکے؟ کیا آپ اس جگہ کو پیٹنا شروع کر دیں گے جہاں گرے تھے یا آپ ایک قدم پیچھے جائیں گے اور گرنے وجہ کو ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے؟ یقیناً آپ ایک قدم پیچھے جائیں گے اور کیلے کے چھلکے سے جان چھڑائیں گے، یعنی اسے راستے سے ہٹا دیں گے اور

Read more

کیا سائنس کی بھی زبان ہوتی ہے؟

زبان کے مسئلے اس ملک کے قیام سے ہی اس کے ساتھ ہیں۔ اردو کو قومی زبان بنانے میں جو مسائل اور اعتراضات قیام پاکستان کے وقت تھے ان کا حل اب بھی بحث کا متقاضی ہے۔ آج جو مسئلہ زیر بحث ہے وہ یہ ہے کہ جب اردو کو قومی زبان بنا لیا گیا تو پھر سرکاری اور خاص کر تعلیمی اداروں میں کتنا اس کو لاگو کیا گیا؟ اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ علاقائی زبانوں کے بعد جس زبان کو اس ملک کے زیادہ تر افراد سمجھتے ہیں اور اس میں اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں وہ اردو ہے تو پھر اس ملک کے تعلیمی ادارے جو علم کی ترسیل کرتے ہیں اور نصاب، جس کو بنیاد بنا کر تعلیم دی جاتی ہے، وہ کس حد تک اس زبان میں میسر ہے جس کو استاد یا طالب علم پڑھ اور سمجھ سکیں۔

کیوں کہ خالی پڑھ لینا کافی نہیں ہے۔ جب تک کسی چیز کو سمجھ نہ لیا جائے اس پر سوال اٹھانا اور اس سے منسلک نئے تصورات کو جنم دینا ممکن نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو خلیج زبان کو نہ سمجھ سکنے کی وہ سے پیدا ہوا ہے وہ ہماری سائنسی پسماندگی سے جری بہت ساری وجوہات میں سے ایک ہے۔ بلکہ شاید یہ کہنا غلط نہ ہو کہ یہ ایک بنیادی وجہ ہے۔

Read more

ہارون رشید کے نام ایک خط

محترم ہارون رشید صاحب۔ امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہوں گے۔ اور ہوں گے بھی کیوں نہیں؟ آخر آپ ربع مسکوں میں واحد مرد مجاہد ہیں جو سارے عالم اسلام کے دشمنوں کے سامنے ڈٹے ہیں اور گاہے بگاہے ان دشمنانان ملت کے کالے کرتوں میں ملوث دیسی خبر گیروں کو بے نقاب بھی کرتے رہتے ہیں۔ اب اگر خدا نے آپ کے ذمے اتنا اہم کام سونپا ہے تو ظاہر ہے اسے آپ کی صحت اور تندرستی کا

Read more

زمین، چاند اور سورج کی آنکھ مچولی

وائکنگ اساطیر میں سکول اور ہیٹی نامی دو اساطیری بھیڑیے سورج اور چاند کا تعاقب کرتے ہیں اور ان میں سے کوئی جب کسی ایک کو پکڑ لیتا ہے تو سورج اور چاند گرہن لگتے ہیں جس سے دن میں اندھیرا چھا جاتا ہے۔ اس سے لوگ خوفزدہ ہو جاتے، ادھر ادھر بھاگتے ہیں، اس وقت تک شور شرابا کرتے ہیں جب تک کہ وہ ان کو چھوڑ نہ دیں۔ ایسی ہی اساطیر تھوڑے بہت رد و بدل کے ساتھ تقریباً ہر کلچر میں موجود ہیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ لوگوں نے یقیناً یہ دیکھ لیا ہو گا کہ یہ عمل بے ترتیبی سے نہیں بلکہ وقت کے یکساں وقفوں کے ساتھ ایک نظم سے وقوع پذیر ہوتے ہیں اور ان کے چیخنے چلانے کے عمل سے مکمل طور پر بے خبر ہیں۔

Read more

سائنس کا پول بھی کھل ہی گیا – ایک عرض

غضنفر عباس صاحب کا مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ مضمون کی نوعیت سے لگتا ہے کہ سائنس سے کافی نالاں ہیں۔ بھلا ہو ان کا جنہوں نے غضنفر صاحب کو سائنس کے متعلق ایسی باتیں بتائیں کہ یہ تو کسی بھی مسئلے کا حل یوں نکال لیتی ہے جیسے کوئی شعبدہ باز اپنی چھڑی سے سانپ بنا لیتا ہے۔ جتنے بھی بڑے سائنسدان حال میں موجود ہیں یا ماضی میں گزرے ہیں کسی نے بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ سائنس کے پاس ہمارے تمام مسائل کا فوری حل موجود ہے۔

سائنس تو بذات خود حضرت انسان کی اس کائنات کو سمجھنے کی سعی ہے اور اس کی اساس انسان میں پائی جانے والی جستجو اور تجسس ہے۔ نظام قدرت کو سمجھنے کی لگن میں ہی ہم یہاں تک پہنچے ہیں جہاں ہم موجود ہیں۔ ہم اپنے اردگرد جو کچھ بھی دیکھتے ہیں اور اس ٹیکنالوجی سے مزین دنیا میں جتنے بھی لوازمات کا لطف اٹھاتے ہیں وہ انسانی ضرورت ہی کی دین ہیں۔ کبھی یہ ضرورت ہے تو کبھی بقا کی جنگ کا نتیجہ۔ بالکل جیسے کہتے ہیں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔

Read more

آئن سٹائن کی سب سے بڑی غلطی؟

ڈارک انرجی کا نام تو سب نے سن رکھا ہے لیکن میں فی الوقت کونیاتی مستقل یا پھر صرف لیمبڈا ہی کہوں گا۔ کہتے ہیں آئن سٹائن نے اسے اپنے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کہا تھا۔

کچھ دن قبل مجھے ایک سوال ملا جو ڈارک انرجی یا کونیاتی مستقل کے متعلق تھا۔ یہ سوال بہت دلچسپ تھا جو مجھے ایک کہانی کی طرف لے جاتا ہے جس کے ساتھ آئن سٹائن کا محبت و نفرت کا تعلق رہا ہے۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ جب آئن سٹائن نے اپنا عمومی نظریہ اضافیت دیا تو اس نے اس کو اس نے ایک حقیقی کائنات پر لاگو کرنا چاہا۔ یاد رہے کہ یہ وہ وقت ہے جب پس منظری شعاعوں یا دوسری کہکشاؤں کے بارے میں اتنا نہیں معلوم تھا اور ظاہر ہے آئن سٹائن بھی اس سے بے خبر تھا۔

Read more

عبدالسلام، الخازنی اور ہمارا ”نواں نکور“ سائنسدان

پاکستان کے مشہور سائنسدان پلٹ سیاستدان جناب کیپٹن (ر) صفدر صاحب نے گزشتہ روز ایک قرار داد پاس کرائی ہے جس میں انہوں نے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ فزکس کا نام عبدالسلام کے نام سے تبدیل کر کے مشہور پاکستانی ہیت دان الخازنی کے نام پر رکھنے کی سفارش کی ہے۔ یاد رہے کہ یہ کیپٹن صاحب کا ایک اور سائنسی کارنامہ ہے۔ وہ پاکستان کی سائنس میں بالعموم اور طبیعیات میں بالخصوص ترقی کے اکلوتے علم

Read more