کرونا سے پہلے ایک ہسپتال کا منظر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج جب لکھ رہی ہوں تو پاکستان کرونا وائرس کے حوالے سے دس خطرناک ممالک کی فہرست میں شامل ہوچکا ہے۔ ان حالات کے نفسیاتی اثرات سے بچاؤ کا واحد حل قلم ہے۔ مسلسل بگڑتی صورتحال اور آئے روز نمبرز کی اونچی چھلانگیں کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ معلوم ہو رہی ہیں۔

ہماری بے بسی کی انتہا یہ ہے کہ ہم نہ ہی لڑے اور نہ ڈرے بلکہ مسلسل اس ان دیکھے وائرس کا شکار ہو رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ لاعلمی، جہالت اور اجتماعی نفسیاتی مسائل ہیں۔ آج اس صورتحال میں ماضی کا ایک بھیانک دن بار بار یاد آ رہا ہے جو موجودہ صورتحال میں مزید خوف کا باعث بن رہا ہے۔

یہ ماضی کا ایک ایسا دن تھا جس کے کچھ گھنٹے سول ہسپتال سرگودھا میں گزرے تھے۔ یہ چند گھنٹے یاداشت پر صدیوں کا بوجھ چھوڑ گئے ہسپتال کے اندرونی مناظر کو دیکھنے کے بعد آنکھوں نے ساون کے بادلوں کا روپ دھار لیا میں یہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ یہ آنسو انسانیت کی تذلیل کے ماتم میں گر رہے ہیں جس اس بے بسی پر جس نے میرے پورے وجود کو گھیرے میں لیا ہوا تھا۔ اچانک ٹھوکر لگنے پر پورے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی غور کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ کسی عاشق یا مجنوں کی لاش نہیں جو یوں راہ میں پڑی ہے بلکہ ایک زندہ وجود جو زندہ سے زیادہ مردہ معلوم ہورہا ہے۔ اپنے مسیحا کے انتظار اور جگہ کی عدم موجودگی کی وجہ سے زمین پر بے سدھ پڑا ہے۔ میں چونکی یا اللہ تیرا خلیفہ وہ بھی اس حالت میں؟ رونگٹے کھڑے ہو گئے جیسے اچانک قیامت آنے کی خبر کانوں میں پڑی ہو۔

آنکھوں میں مزید دل خراش مناظر دیکھنے کی ہمت نہ ہونے کے باعث انہیں بند کر لیا مریضوں کے شور اور دوائیوں کی بو نے ماحول کو مزید خوفناک بنانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی۔ وہاں موجود اچھا بھلا بندہ بھی خود کو مریض محسوس کر رہا تھا۔ اس ماحول سے نکلنے کا واحد حل مرکزی دروازہ تھا جس سے مریض اس دنیا میں داخل ہو رہے تھے اور زندہ بچ جانے والے لوگ اسی دروازے سے باہر کی طرف بھاگ رہے تھے۔ مجھے عجیب طرح کی سوچوں اور وسوسوں نے گھیر لیا تھا۔ وجود کی ساری ہمت جمع کر کے انسانیت کی اجتماعی بے حسی اور بے بسی کا ماتم کرتی ہوئی باہر نکل آئی۔

مجھ سے غریب لوگوں کی زندگی کا ایک منظر بھی برداشت نہ ہوا مجھے ایوانوں میں موجود بھیڑیوں اور دیگر اہم اداروں میں بیٹھے منافقین کا سوچ کر گھن آنے لگی جو عوام کی بنیادی سہولیات اور صحت جیسی بنیادی سہولت دینے سے قاصر ہیں۔ میں وہاں سے واپس آنے کے بعد بھی آج تک اس بوجھ کو کم نہ کر پائی جو مناظر دیکھنے سے دماغ میں پیدا ہوا تھا۔ وہ بوجھ اس لئے بھی کم نہیں ہورہا تھا کیونکہ میں نے انسانی بے بسی کو بہت قریب سے دیکھ لیا تھا۔ میری پوری زندگی میں سے بھیانک تجربہ پہلے موجود نہ تھا۔ آج جب وائرس پاکستان کے کونے کونے میں پھیل چکا ہے۔ ایسے میں دل یہ سوچ کر رہی ہول کھا نے لگتا ہے کہ عوام کے ساتھ نارمل صورتحال میں جو سلوک ہسپتالوں میں روا رکھا جاتا ہے۔ وہ ناقابل برداشت اور ناقابل بیان ہے۔ اب تو بحران کی سی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔ ان تمام حالات میں ریاست بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ حکومتی حکمت عملیاں ان کی اپنی نا اہلی اور عوام کی جہالت کی نظر ہو گئی ہے۔ اس صورتحال میں وبا کو اپنے پنجے گاڑنے کا وقت مل گیا عوام اور حکومت کی آنکھ مچولی اور دیگر اعلی اداروں کے فیصلوں نے وبا کو پھیلانے میں موثر کردار ادا کیا۔

اب حالات کنٹرول سے باہر ہوتے جا رہے ہیں اور سونے پر سہاگہ یہ کہ بنیادی ضرورتوں کی کمی نے بے چین عوام کو مزید بے چین کر رکھا ہے۔ شاید پچھلے 70 سالوں سے یہ بے چینی پاکستان کی قسمت میں لکھ دی گئی ہے۔ ڈر ہے۔ کے اس بار کی بے چینی بپھرے ہوئے لاوے کی شکل اختیار نہ کر لے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply