بجٹ، نوآبادیاتی عہد کی ایک یاد

ہمارے ہاں مختلف قسم کے میلے لگائے جاتے ہیں جن میں مذہبی میلے یعنی عرس (جس میں عقیدت مند لوگ شرکت کرتے ہیں ) سماجی میلے، جیسے بیساکھی کا تہوار جس میں اس ثقافت سے جڑے لوگوں کا ایک بڑا حصہ شامل ہوتا ہے اس کے علاوہ ادبی میلے بھی سجائے جاتے ہیں جس میں ادب سے محبت کرنے والے افراد جوش و خروش سے حصہ لیتے ہیں۔ بیساکھی کے علاوہ دیگر میلوں کو سجانے اور ان کی کامیابی کو

Read more

بہا الدین زکریا کا قاضی

زندگی سے جنگ کرنے والا ہی زندگی جینا جانتا ہے کیونکہ وہ زندگی کی قیمت سے خوب آگاہ ہوتا ہے جو تمام عمر اس نے چکائی ہوتی ہے۔ محنت کش باپ کا بیٹا جب نظام کی چکی میں پس کر کسی عہدے پر پہنچتا ہے تو وہ اس نظام کی رگ رگ سے واقف ہوتا ہے۔ وہ یہ جانتا ہے کہ نظام ہر انسان کے لئے ایک جیسا کام نہیں کرتا وہ ان حالات پر کڑھتا ہے اور اس کا

Read more

جانے کیوں جی بھرا سا رہتا ہے

نومبر کی آج پہلی تاریخ ہے موبائل کی سکرین روشن ہوتے ہی مجھے احساس ہوا، کیا تاریخ بدل چکی ہے؟ یہ ایک بڑا سوال تھا، کون سی تاریخ؟ ہماری تاریخ؟ یا واقعی دوسری تاریخ دوسری تاریخ سے شاید میرا مطلب مہینے کی تاریخ تھا میں چونک گئی، عجیب ہندسوں کا گورکھ دھندا ہے یہاں ہر طرف ہی نرالا کھیل ہے میں نے ہڑ بڑا کر کہا لیکن اس پر مستزاد یہ کہ کھیل میں شریک افراد کھیلنا جانتے ہی نہیں۔

Read more

کلیات یگانہ میں ترتیب اور تلاش کا طریقہ کار

اردو ادب میں یہ روایت اور رواج ہے کہ شاعر یا فنکار کے ذہنی ارتقا کو سمجھنے کے لیے اس کی تخلیقات کو ادوار میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ ان ادوار سے تخلیق کار کے موضوعات اور اسالیب کے درجہ بدرجہ ارتقا کا علم ہوتا ہے۔ اس ارتقا میں بہت سے معاشرتی، سیاسی، ذہنی اور انفرادی عوامل ہوتے ہیں۔ اس ارتقا کی درست نشان دہی کا پہلا عنصر یہ ہے کہ تخلیقات کی تاریخیں معلوم ہوں یعنی کون سی

Read more

تھالی کا بینگن – ایک ثقافتی استعارہ

ہر تخلیق چاہے وہ کسی بھی نوعیت کی ہو اپنے اندر ایک خاص طرح کا اظہار لیے ہوئے ہوتی ہے جس کو کہانی کار اپنے الفاظ کی صورت میں ایک منفرد رنگ عطا کرتا ہے اور پھر اس رنگ سے سماج کی اس انداز میں منظر کشی کرتا ہے جو عام فرد کے بس کی بات معلوم نہیں ہوتی یہی رویہ ہمیں کرشن چندر کے افسانے تھالی کا بینگن میں نظر آتا ہے جو آج بھی گزرے اور موجود سماج

Read more

پاکستانی ریاست کا نظریاتی سراب

کتاب کے سرورق سے شروع ہونے والا سراب جس کی کہانی میں ہر رنگ اپنا وجود منوانے سے قاصر نظر آتا ہے بالکل اسی طرح جیسے پاکستانی ریاست میں بہت سے وجود اپنی شناخت کے اظہار سے قاصر ہیں رنگوں کی کہانی میں یہ سراب اور زیادہ پیچیدہ معلوم ہوتا ہے جس میں مسلسل مختلف رنگوں کے درمیان ایک دوسرے پر غلبہ پانے کی جنگ جاری رہتی ہے۔ سرورق پر رنگوں کی شکل میں بکھرا یہ سراب اپنے سینے پر

Read more

مختلف ادوار میں ادیب کی بدلتی ہوئی سماجی حیثیت

اجتماعیت کا دور جس میں ادیب کو کوئی الگ شناخت حاصل نہ تھی ایسے دور میں پیدا ہونے والا ادب اجتماعیت پر مبنی تھا اسے کسی ایک فرد کے ساتھ موسوم نہیں کیا جاتا تھا۔ جب کہ دوسرے دور کا ادب جسے ہم کلاسیکی ادب کا نام دیتے ہیں اس میں ہمیں ادیب تین حصوں میں بٹا دکھائی دیتا ہے پہلے نمبر پر ایسا ادیب جو دربار اور درباری روایت سے براہ راست جڑا ہوا ہوتا ہے دوسرے نمبر پر

Read more

بجٹ کی تاریخ اور ہم

ہمارے ہاں مختلف قسم کے میلے لگائے جاتے ہیں جن میں مذہبی میلے یعنی عرس (جس میں عقیدت مند لوگ شرکت کرتے ہیں ) سماجی میلے جیسے بیساکھی کا تہوار جس میں اس ثقافت سے جڑے لوگوں کا ایک بڑا حصہ شامل ہوتا ہے اس کے علاوہ ادبی میلے بھی سجائے جاتے ہیں جس میں ادب سے محبت کرنے والے افراد جوش و خروش سے حصہ لیتے ہیں بیساکھی کے علاوہ دیگر میلوں کو سجانے اور ان کی کامیابی کو

Read more

ادھورا لمس

وہ ہر ادھوری چیز کو دیکھ کر اپنے ادھورے پن کو تسکین دیتی تھی وہ زندگی میں مسلسل ادھورے پن کا شکار تھی کبھی کبھی اسے ادھورے پن کی نفسیات بہت بھلی لگتی تھی وہ تکمیل کے مقابلے میں جب بھی ادھورے پن کو سامنے رکھتی تو ہمیشہ اسے کششں ادھورے پن میں نظر آتی کیونکہ شاید وہ تکمیل کی لذت سے ناآشنا تھی جبکہ اس کے برعکس وہ ادھورے پن سے روز نبرد آزما ہوتی تھی اور اس سے

Read more

جوناتھن کلر کا ساختیاتی تصور

ادب کی دنیا میں مختلف ادوار کے تحت تبدیلیاں ہوتی رہیں۔ ترقی پسند، جدیدیت اور مابعد جدیدت بذات خود ادبی تنقیدی نظریات نہیں ہیں بلکہ یہ مختلف ادوار ہیں جن کے تحت مختلف ادبی و تنقیدی رجحانات نے جنم لیا۔ جدیدیت کے تحت جو تنقیدی نظریات اردو ادب میں متعارف ہوئے ان میں ساختیاتی تصور اہم نظر یہ کے طور پر ابھرا۔ ساختیات نے نہ صرف زبان و ادب کی ماہیت کے بارے میں، بلکہ ذہین انسان کی کارکردگی کے

Read more

رمضان سیریل چپکے چپکے

رمضان کے مہینے میں پیش کیا جانے والا ڈرامہ سیریل ”چپکے چپکے“ اس وقت ریٹنگ کے نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے سوشل میڈیا پر بھی اس کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے ابلاغیات کے ماہر جی گربنر نے 1976 ء میں تفصیلی انداز سے ”کاشت کا نظریہ“ پیش کیا تھا، جسے Cultivation Theory کہتے ہیں۔ بحوالہ Journal of Communication، 29 ( 10 ) ، 177۔ 196۔ ) ۔ گربنر کا پیش کردہ نظریہ کہتا ہے کہ ٹیلی

Read more

مہجری ادب کی روایت اور معاصر مہجری ادب

پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیں ہم ایسے کون خدا تھے کہ اپنے گھر رہتے ادب میں ایسی تمام تخلیقات جو بھلے ہی شعر میں ہوں کہ نثر میں، تخلیق کار کی ”ہجرت“ یعنی ”ایک مقام سے دوسرے مقام کی جانب نقل مکانی“ کے عہد میں اس کی اپنے سے محبت اور اس کی یادوں پر مبنی ذاتی تجربات، مشاہدات و احساسات کا احاطہ کرتی ہوں تو انہیں عرف عام میں ”مہجری ادب“ کہا جاتا ہے۔ اگر ”ہجرت“ کا تذکرہ

Read more

میری امی کا ناصر رضا

آج سے چند سال پہلے سات رمضان ایک ایسا دن جس دن میری ماں سے دنیا کا سب سے قیمتی وجود ہمیشہ کے لئے دور ہو گیا۔ مجھ پر اس روز دکھ، درد، تکلیف اور بے بسی کے کئی معانی عیاں ہوئے۔ جب آپ کی دنیا میں سب سے قیمتی ہستی اپنی دنیا کے قیمتی وجود کے چلے جانے پر گریہ کناں ہو تو وہ لمحات قیامت سے کم نہیں ہوتے۔ میری ماں جن کے بارے میں بچپن سے یہی

Read more

یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں

پاکستان کے قیام سے لے کر موجودہ صورتحال تک فی الحال کوئی ایک جملہ جو مجھے تسلی دے رہا ہے تو وہ ایک ایسے شاعر کا مصرعہ ہے ، جس نے ہم سب سے پہلے زندگی کی حقیقتوں کو نہ صرف محسوس کیا بلکہ اس محسوس کی گئی تلخی کو الفاظ کا روپ دے کر ہمیشہ کے لیے امر کر دیا

اور وہ مصرعہ ہی اس تحریر کا عنوان ہے ”یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں“

Read more

شالا جوڑی سلامت رہوی

ہمارے سماج میں کچھ باتیں ایسی شاندار ہیں جو شاید کسی اور سماج کو نصیب نہیں، ہمیں اپنے آپ کو خوش قسمت تصور کرنا چاہیے کہ ہم ایک ایسے سماج کا حصہ ہیں جہاں سب سے زیادہ کھیل انسانی نفسیات اور جذبات کے ساتھ کھیلا جاتا ہے۔ کھیلنے والا اپنا ہو یا پرایا، اس سے فرق نہیں پڑتا بلکہ معاملہ کھیل اور کھیل سے حاصل ہونے والے فائدے کے اردگرد گھومتا ہے۔ عام طور پر ہم فقیروں کو سماج میں

Read more

اپنی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو

اپنی مٹی ہی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو سنگ مرمر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے موجودہ سماج کی عکاسی اس سے بہتر الفاظ میں نہیں کی جا سکتی ،حال ہی میں اسلام آباد کے ایک ریسٹورنٹ میں پیش آنے والے واقعے نے کئی پچھلے زخم بھی تازہ کر دیے ، میں نے جب ہوش سنبھالا اور سکول کا منہ دیکھا تو اس وقت انگلش میڈیم کا ہر طرف چرچا تھا، اسکول میں بچوں کی قابلیت کا واحد معیار

Read more

”‏ہم سب“ کو آزادیٔ فکر کا پرچار کرتے ہوئےپانچ برس مکمل ہو گئے۔

نیا لکھنے والا جب اس چیز کا ادراک کرتا ہے کہ سماج کے بہترین لکھاری جس پلیٹ فارم سے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں ، وہی پلیٹ فارم اس کو بھی میسر ہے تو ایسے میں اس پر ایک ناقابل بیان کیفیت طاری ہوتی ہے ۔ یہی کیفیت اس کے قلم کو قوت اور حرارت بخشتی ہے اور اس میں آگے بڑھنے اور کچھ اچھا کرنے اور لکھنے کی لگن کو پیدا کرتی ہے ، ہمارے ہیرو یہ لوگ ہیں جنہوں نے ایسے ذرائع بنائے جن کے ذریعے ہم مختلف طبقات زندگی سے وابستہ لوگ اپنا کتھارس کر سکتے ہیں اور اپنے خیالات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں۔

Read more

ادھورا وجود

زمیل سے میری پہلی ملاقات حادثاتی طور پر سر گیلانی کے دفتر میں ہوئی تھی اس دن میں ذرا تاخیر سے پہنچی کمرے میں چائے کا دور چل رہا تھا سر کا میز جس پر دنیا جہان کا علم بکھرا ہوتا تھا آج قدر سمٹا ہوا نظرآ رہا تھا میز کے سامنے انگریزی لباس پہنے خوبرو نوجوان موجود تھا میں آگے بڑھی فضا میں ایک عجیب اور غیر مانوس سی خوشبو پھیلی ہوئی تھی سر مجھے دیکھتے ہی بولے اوئے!

Read more

رضیہ کیسے بنتی ہے؟

اس کی زندگی مسلسل کروٹوں کا شکار تھی ہر بار ایک نئی کروٹ اس کی زندگی تبدیل کر دیتی یہ مسئلہ اس کے ساتھ بچپن سے چلا آ رہا تھا جب حوا خواب کی دنیا میں کچھ نیا اور من چاہا پالینے کے قریب ہوتی تو کروٹ ہی وہ عمل ہوتا جس سے وہ خواب میں من چاہا پانے کی بجائے حقیقت کی دنیا میں خالی ہاتھ واپس لوٹ آتی کروٹ کا یہ پہلا احساس اسے انتہائی تلخ معلوم ہوا

اسے ہر بار من چاہی چیز ایک کروٹ کی دوری پر کھڑی نظر آتی۔

Read more

چارلس ڈکنز: معاشرے کا نباض ادیب

کسی بھی ا دیب کی حالات زندگی سے اس کی تخلیقات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے چارلس ڈکنز 7 فروری 1812 ء کو لینڈ پورٹ برطانیہ میں پیدا ہوا۔ ڈکنز کا بچپن انتہائی نامساعد حالات میں گزرا۔ اس کا باپ بحری pay office میں کلرک تھا یہ خاندان نے نچلے اور اوسط طبقے سے تھا باپ john کا تعلق نوکروں کے خاندان سے تھا ماں الزبتھ معمولی بیوروکریسی میں سے تھی اقتصادی طور پر یہ خاندان غیر

Read more

عورت کا المیہ

رات کا اندھیرا اپنے پر پھیلائے ہوئے تھے زہرہ اس اندھیرے میں آنکھیں کھولے کچھ دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی جیسے اسے روشنی سے زیادہ اندھیرے میں دکھائی دے رہا ہو کبیر کو اس سے روٹھے ایک لمحہ ہوا تھا وہ ایک لمحہ قیامت بن کر زہرہ پر ٹوٹا تھا کبیر سے تعلق جس کمزور ذریعے سے بنا تھا ابھی تک اسی کمزوری کا شکار تھا اسے معلوم نہیں تھا کہ یہ فیس بکی تعلق جس کا آغاز رنگین

Read more

موت اس کی ہے کرے جس پہ زمانہ افسوس

جہاں فکر حسین (ع) کا ذکر ہو گا، عشق خانوادہ ء پیمبر رحمت (ص) کی بات ہو گی، مرحلہ ء شام غریباں میں چراغ بجھنے سے قبل ہچکیوں کی لو بڑھے گی، تو ایسے میں طالب جوہری کا ذکر بھی ہو گا۔ ۔ ۔

علامہ طالب جوہری 1939 کو انڈیا میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم اپنے والد مولانا مصطفی جوہری کے زیر نگرانی حاصل کی، 1949 میں اپنے والد کے ہمراہ پاکستان آئے، 10 سال نجف میں اعلی دینی تعلیم حاصل کی، علامہ طالب جوہری کو نجف اشرف کے ممتاز عالم، آیت اللہ سید عبداللہ شیرازی، آیت اللہ سید علی رفانی، آیت اللہ سید محمد بغدادی، آیت اللہ باقر الصدر نے فارغ التحصیل ہونے کی سند دی! علامہ 1965 کو کراچی واپس آئے۔ ، پانچ سال جامعہ امامیہ کے پرنسپل رہے، اس کے بعد گورنمنٹ کالج ناظم آباد کراچی میں اسلامیات کے مدرس کی حیثیت سے تقرر ہوا

Read more

کرونا سے پہلے ایک ہسپتال کا منظر

آج جب لکھ رہی ہوں تو پاکستان کرونا وائرس کے حوالے سے دس خطرناک ممالک کی فہرست میں شامل ہوچکا ہے۔ ان حالات کے نفسیاتی اثرات سے بچاؤ کا واحد حل قلم ہے۔ مسلسل بگڑتی صورتحال اور آئے روز نمبرز کی اونچی چھلانگیں کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ معلوم ہو رہی ہیں۔

ہماری بے بسی کی انتہا یہ ہے کہ ہم نہ ہی لڑے اور نہ ڈرے بلکہ مسلسل اس ان دیکھے وائرس کا شکار ہو رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ لاعلمی، جہالت اور اجتماعی نفسیاتی مسائل ہیں۔ آج اس صورتحال میں ماضی کا ایک بھیانک دن بار بار یاد آ رہا ہے جو موجودہ صورتحال میں مزید خوف کا باعث بن رہا ہے۔

Read more