پینتیس سال قبل لکھا گیا تجزیہ، خدا کرے آج درست نہ ہو!


جسٹس قاضی فائز عیسٰی کیس کے فیصلے کے بعد ہمارے قومی مزاج میں پائی جانے والی قبائلی عصبیت، اس عصبیت سے جذباتی لگاؤ، اور اس بے لچک لگاؤکے نتیجے میں پھوٹنے والے انتہا پسندانہ رویے ایک بار پھر طشت از بام ہیں۔

گزشتہ کئی سالوں سے بظاہر دائیں اور بائیں بازو کی نظریاتی تقسیم کسی نا کسی طرح آپس میں گڈ مڈ ہوکر معدوم ہو چکی ہے۔ کش مکش اب دو معاشرتی طبقات میں برپا ہے۔ ایک طبقہ متوسط اور نسبتاً تعلیم یافتہ پاکستانیوں پر مشتمل ہے کہ دو خاندانوں کو جس نے باری باری ملک پر حکومت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ بھٹو کے سحر سے جو آزاد ہے۔ کثیر تعداد میں تارکین وطن ہیں۔ نوجوان نسل کہ چوتھے صنعتی انقلاب کے برپا ہونے سے کچھ سال پہلے جس نے آنکھ کھولی۔

سمٹی ہوئی دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں کے خدو خال اور اپنی محرومیوں کے اکثر اسباب سے جو آگا ہ ہے۔ سیاسی خاندانوں سے بیزار ہیں، مگر جمہوری اقدار، سولین بالا دستی اور انسانی حقوق پر مبنی نظام اور نظریات سے جو بیگانہ نہیں۔ کڑے احتساب اورملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے لئے اکتا کر جنہوں نے تمام تر امیدیں عمران خان کی غیرروایتی قیادت سے وابستہ کی تھیں۔ یہ طبقہ سر دست حکومت کی کارکردگی سے کسی حدتک مایوس اور بظاہرایک بار پھرلاتعلقی کے خول میں لوٹ چکا ہے۔ تاہم اس سے وابستہ لوگوں کو یہ باور کرانا کہ تباہ حال معیشت کا ذمہ دار تنہا عمران خان ہے، اس قدر آسان نہیں۔

تقسیم کے دوسری طرف، روایتی سیاستدانوں کے گروہ کو جہاں معاشرے کے ان طاقتور طبقات کی حمایت حاصل ہے کہ جن کے مفادات ان خاندانوں کی اقتدار میں واپسی سے وابستہ ہیں، تو وہیں ان کی پشت پر وہ ’جمہوریت پسند‘ بھی بوجوہ پوری قوت سے کھڑے نظر آتے ہیں، جو پارلیمانی جمہوریت اور سول بالا دستی کا رومانوی تصور رکھتے ہیں۔ ان ’جمہوریت پسندوں‘ کی نظر میں موجودہ احتساب اور کرپشن کا نعرہ محض ایسے ہتھیار ہیں جنہیں ان کی دانست میں ’غیر جمہوری قوتیں‘ ایسے تمام سیاست دانوں اور ججوں کے پر کاٹنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں جو سویلین بالا دستی کے لئے راہ عزیمت اختیار کرتے ہیں۔ ذاتی طور پر مذکورہ ’جمہوریت پسندوں‘ کے اخلاص کا قدر دان ہونے کے باوجود میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ بہت سے زیر عتاب عناصر جن کا ماضی مالی اور فکری بددیانتی سے آلودہ نظر آتا ہے وہ بھی جمہوریت اور سویلین بالا دستی کے سنہری پھریروں کے سائے میں عافیت ڈھونڈنے ’جمہوریت پسندوں‘ کے پہلو میں آن بیٹھے ہیں۔

چنانچہ جس طرح حکومت کی آغوش عافیت میں پائے جانے والوں میں سے کچھ کے خود اپنے معاملات مشکوک بتائے جاتے ہیں، اسی طرح جمہوریت پسندوں کے اندر بھی ایسے عناصر موجود ہیں کہ جمہوری رویوں سے جن کا کچھ خاص لینا دینا نہیں ہے۔ ایسے عناصر میں وہ بلند آہنگ دانشوروں کی کھیپ بھی شامل ہے کہ جن میں سے اکثر الیکٹرانک میڈیا کے ہیجانی دورکی پیداوار ہیں۔ جسٹس عیسٰی کیس کے فیصلے کے بعد جو اب حرکت میں ہیں۔ ہر دو اطراف ایڑھیاں گاڑے بد گمانی کی دھول اڑاتے صف آرا ہیں۔ انصاف نہیں، جو اپنے اپنے ’نظریات‘ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

فیصلہ سنتے ہی کاتا اور لے بھاگی کے مصداق، قد آور وکیلوں نے کورٹ کے باہر کھڑے کھڑے مٹھائی کے ٹوکرے کھول دیے۔ فتح کے نشے میں سرشار الیکٹرنک میڈیا کی پیداوار کچھ خواتین و حضرات نے ٹویٹر پر انقلاب کے نقارے بجا دیے۔ رات گئے نشہ اترا تو بد گمانی نے آن گھیرا۔ اگلے ٹویٹ میں ایک نے تو فیصلہ ہی صادر کر دیا، ’ایف بی آر اس معاملے میں انصاف نہیں کر سکتا‘ ۔ پاکستان بار کونسل نے فیصلے کے خلاف اپیل میں جانے کا اعلان کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اداروں، بالخصوص ایف بی آر کے خلاف مہم یکسر حیران کن نہیں ہونی چاہیے۔

جناب حامد خان سے ٹی وی پر پوچھا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں معاملات موافق نہ آنے کی صورت میں وکلاء کا لائحہ عمل کیا ہوگا تو بتایا گیا ’اس بات کا فیصلہ یہ دیکھ کر کہ سپریم جوڈیشل کونسل کسی دباؤ میں ہے یا کہ نہیں، وقت آنے پر کیا جائے گا‘ ۔ یاد رہے کونسل، چیف جسٹس آف پاکستان سمیت ملک کے سینئر ترین ججز پر مشتمل ہوگی۔ اب یہ ہمیں نہیں بتایا گیا کہ کونسل کے معزز ارکان از خو د حامد خان صاحب کو خود پر محسوس ہونے والے دباؤ کی اطلاع دیں گے یا کہ پھراس دباؤ کو ناپنا اور وکیلوں کے اگلے لائحہ عمل کا فیصلہ حامد خان صاحب اور دیگر وکلاء رہنماؤں کی صوابدید پر چھوڑا جائے گا۔

خورشید کمال عزیز فوجی آمروں او ر فوجی حکومتوں کے سخت ناقدین میں شامل رہے ہیں۔ 1985 ء میں چھپنے والی اپنی ’مرڈر آف ہسٹری‘ نامی کتاب میں تعصب اور دروغ گوئی پر مبنی عمومی رویوں کا تجزیہ کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ بچپن سے لے کر بلوغت تک طالب علموں کوسکولوں میں پڑھایا جانے والا نصاب ہی انہیں دوغلا پن اور جھوٹ بولنا سکھاتاہے۔ خورشید کمال صاحب کے نزدیک، ’ایک عام پاکستانی فطرتا جذباتی مزاج رکھتا ہے۔ فوراً اشتعال میں آتا، کھل کر ہنستا اور گلا پھاڑ کر روتا ہے۔

اس کا یہ انفرادی رویہ اس کے سیاسی مزاج میں بھی جھلکتا ہے۔ پر شوراور ہنگامہ خیز اجتماعات، سیاسی رہنماؤں کی خون گرما دینے والی تقریریں اور فلک شگاف نعرے، غداری کے الزامات اور گالم گلوچ خوب بھاتے ہیں۔ نسیں پھلائے ملا اسے چیخ چیخ کر بتاتے ہیں کہ وہی حق پراور مخالفانہ نقطہ نظر کفر پر مبنی ہوتا ہے۔ درس گاہوں میں اسے چڑ چڑے اساتذہ اورطالب علموں کے تشدد پر آمادہ مسلح جتھوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ ادیب خود پسند اور دانشور زعم برتری کے مارے ملتے ہیں۔

ان سب لوازمات کی آمیزش سے ایک ایسا پاکستانی پروان چڑھتا ہے کہ جو بظاہر تعلیم یافتہ مگر طبعا جھگڑالو ہوتا ہے۔ جس کے مزاج میں عدم برداشت، خود پسندی، خود ترحمی اورزود رنجی جیسے اجزائے ترکیبی بالعموم پائے جاتے ہیں۔ دلیل سے فراریت، بحث میں بد زبانی، ہر قیمت پر مخالف نظریے پر فتح مندی کی خواہش اور اپنی خود ساختہ دنیا کی د ائمی حقانیت پر اندھے اعتقاد جیسے رویوں کے حامل افراد معاشرے میں کثرت سے ملتے ہیں۔ زعم پارسائی میں مبتلا، جھوٹ اور دھوکہ دہی میں رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر بھی جوشرمسار نہیں ہوتے۔ اپنی پاک دامنی پر مصر رہتے ہیں‘ ۔ (صفحات 246، 245 ایڈیشن، 2015 سنگ میل پبلیکیشن)

یقیناً خورشید کمال صاحب کے خیالات سے مکمل اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔ خصوصاً اگر پینتیس سال قبل لکھا گیا تجزیہ اگر ہمارے حالیہ دو چار سالوں میں نظر آنے والے عمومی رویوں کا درست عکاس ثابت ہو تو یہ بہت بڑی بد قسمتی کی بات ہو گی۔

اہم سوال یہ نہیں کہ معزز جج صاحب پر دھرے گئے الزامات کے پس پشت ان کے کچھ فیصلے کارفرما ہیں یا کہ معاملہ کچھ اور ہے۔ اہمیت تو اس امر کی ہے کہ مستقبل کے چیف جسٹس کا دامن ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہونا چاہیے۔ یہی محمد ﷺ کے دین کا تقاضا ہے۔ یہی پاکستان کا آئین بھی کہتا ہے۔ باقی سب قانونی مو شگافیاں ہیں۔ ادارہ جاتی تعصب سے اوپر اٹھ کردوسری چادر کا حساب مانگنے کی روش معاشرے میں جڑ پکڑے گی تو ہی دوسرے مقدس اداروں میں بھی سراسیمگی پھیلے گی۔

Facebook Comments HS