او آئی سی کا جموں و کشمیر پر اجلاس: چین سے کشیدگی کے دوران کیا انڈیا کو اب اسلامی ممالک سے بھی جھٹکا ملنے والا ہے؟


او آئی سی

او آئی سی مسلم ممالک کی تعاون تنظیم ہے لیکن اس پر سعودی عرب کی اجارہ داری سمجھی جاتی ہے (فائل فوٹو)

اسلامی ممالک کی تعاون تنظیم او آئی سی کے جموں و کشمیر سے متعلق رابطہ گروپ کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس پیر کو ہو رہا ہے۔

یہ اجلاس پاکستان کی درخواست پر منعقد کیا جا رہا ہے۔

اس اجلاس میں انڈیا کے زیرانتظام جموں و کشمیر کی حالیہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ یہ رابطہ گروپ جموں و کشمیر کے لیے سنہ 1994 میں تشکیل دیا گیا تھا۔

اس کشمیر رابطہ گروپ کے ارکان میں آذربائیجان، نائجر، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی شامل ہیں۔

او آئی سی کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف العثیمین نے کہا ‘یہ اجلاس جموں و کشمیر رابطہ گروپ کی میٹنگوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس میں جموں و کشمیر سے متعلق بہت سے امور پر تبادلہ خیال ہوگا۔’

گذشتہ سال جب انڈیا نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تھی تو پاکستان نے او آئی سی پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ انڈیا کے خلاف سخت بیان جاری کرے۔ تاہم ایسا نہیں ہوا اور او آئی سی تقریباً غیر جانبدار رہا۔

در اصل او آئی سی ایک ایسی تنظیم سمجھی جاتی ہے جس پر سعودی عرب کا غلبہ ہے۔ سعودی عرب کی حمایت کے بغیر او آئی سی میں کچھ کرنا ناممکن سمجھا جاتا ہے۔

مودی اور ایم ایس بی

انڈیا کے وزیر اعظم اور سعودی عرب کے شہزادہ ولی عہد

سعودیہ عرب کا کردار

انڈیا اور سعودی عرب کے وسیع تر مشترکہ مفادات ہیں اور سعودی عرب کشمیر کے بارے میں انڈیا کے خلاف بولنے سے گریز کرتا رہا ہے۔ انڈیا کی جانب سے کشمیر کو دی جانے والی خصوصی چیثیت کے خاتمے پر بعد بھی سعودی عرب نے انڈیا کے خلاف کوئی بیان جاری نہیں کیا تھا۔

ایک اہم خلیجی ملک متحدہ عرب امارات نے تو یہاں تک کہا کہ یہ انڈیا کا داخلی مسئلہ ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اس موقف کو پاکستان کے لیے جھٹکے اور انڈیا کی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا گیا۔

لیکن ایک بار پھر او آئی سی کی جانب سے اس قسم کی میٹنگ کے انعقاد کو پاکستان اپنی کامیابی سے منسلک کرے گا۔ اس سے قبل اس طرح کی میٹنگ گذشتہ سال ستمبر میں ہوئی تھی۔

کشمیر کے معاملے پر او آئی سی کی غیرجانبداری کے حوالے سے پاکستان نے ترکی، ملائشیا، ایران کے ساتھ گروپ بندی کی کوشش کی تھی۔ اس کے لیے ترک صدر رجب طیب اردوغان، ایران کے صدر حسن روحانی، ملائشیا کے اس وقت کے وزیر اعظم مہاتیر محمد اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کوالالمپور سربراہی کانفرنس میں اتحاد قائم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

عمران خان

پاکستانی وزیر اعظم نے عین وقت پر اپنا دورہ منسوخ کر دیا تھا

لیکن سعودی عرب نے اسے او آئی سی کو چیلنج کیے جانے کے طور پر دیکھا تھا۔

بہرحال ترکی اور ملائیشیا کو کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے ساتھ کھڑے دیکھا گیا ہے جبکہ باقی اسلامی ممالک عام طور پر غیر جانبدار رہے۔ حالیہ دنوں میں او آئی سی کے رکن مالدیپ نے انڈیا کی حمایت کی ہے۔

او آئی سی کا اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد کیا جارہا ہے جب انڈیا اور دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت چین کے مابین کشیدگی جاری ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقے لداخ میں ہونے والی جھڑپ میں انڈیا کے 20 فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

دوسری جانب انڈیا کے لیے نیپال کی سرحد پر بھی نیا تنازع پیدا ہو گیا ہے اور پاکستان کے ساتھ تو پہلے سے ہی انڈیا کا رشتہ کشیدہ ہے۔ ایسی صورتحال میں او آئی سی کا اجلاس بہت اہم سمجھا جا رہا ہے۔

جموں و کشمیر پر او آئی سی کے اس رابطہ گروپ میں سعودی عرب بھی شامل ہے۔

شکایت

ایران، ملائیشیا اور ترکی طویل عرصے سے شکایت کرتے رہے ہیں کہ او آئی سی اسلامی ممالک کی ضروریات اور عزائم کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایران، ترکی اور ملا‏ئیشیا ایک ایسی تنظیم تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں جو سعودی تسلط سے آزاد ہو۔

اس کے پیش نظر ملائیشیا کے شہر کوالالمپور میں ایک سربراہی کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا لیکن پاکستان نے اس میں شرکت نہیں کی تھی۔

خیال رہے کہ دسمبر 2019 میں کوالالمپور میں منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس میں پاکستان کی عدم شرکت کو سعودی عرب کے دباؤ کے تناظر میں دیکھا گیا تھا۔

پاکستان اور سعودی عرب نے اس وقت ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے اس دعوے پر مبنی خبروں کی تردید کی تھی کہ پاکستان نے کوالالمپور سمٹ میں شرکت سعودی عرب کے مبینہ دباؤ پر نہیں کی تھی۔

اس سلسلے میں پاکستان کے اندر یہ تنقید ہوتی رہی ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اسلامی ممالک ہیں لیکن وہ مسئلہ کشمیر پر انڈیا کے ساتھ ہیں۔ اگرچہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان سے زیادہ انڈیا میں مسلمانوں کی آبادی ہے۔ جموں و کشمیر پر او آئی سی کے اس رابطہ گروپ میں ترکی اور پاکستان بھی شامل ہیں جو انڈیا کے خلاف بات کر سکتے ہیں۔

اگر اس میٹنگ میں کوئی تجویز منظور کی جاتی ہے تو بھی انڈیا کو سعودی عرب سے توقع ہوگی کہ وہ اس تجویز کی زبان میں کس حد تک توازن قائم کرا سکتا ہے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp