جولی کی پکار، ججا کا جواز، مردانہ تہذیب اور جماع باالجبر


\"farnood-01\"خواجہ سرا جولی پر تشدد کرنے والا ججا گرفتار ہوچکا ہے۔ لاک اپ کی طرف آتے ہوئے اخبار نویس نے اس سے پوچھا، آپ نے جولی پر تشدد کیوں کیا۔؟ ججا نے ترنت جواب دیا ’’وہ میری دوست ہے‘‘

انسان احساسات وجذبات کا مرکب ہے۔ مجھے جواب سنتے ہی ججا پہ پیار آگیا۔ دوستی؟ یعنی اس سماج میں کوئی انسان ایسا بھی ہے جو خواجہ سرا کو دوست سمجھتا ہے۔؟ ٹھیک ہے ججا نے تشدد کیا، وہ تو عورتوں پہ بھی ہوتا ہے،مگر یہ دیکھیئے کہ کھلے آسمان تلے ایک مرد اقرارکررہا ہے کہ جولی میری دوست ہے۔

ظاہر ہے یہ میرا جذباتی احساس تھا۔ اصل بات تو وہی ہے جو جولی نے بتائی ہے۔ ججا اور اس کے ساتھیوں نے اپنے مثانوں تک کا دباو ہم پر خارج کیا، رات بھر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے، بیلٹوں سے ہماری پشت پر ستم ڈھاتے رہے۔ فیصلہ تو خیر عدالت کرے گی، مگرجولی کے منہ پر ججا نے جس رعونت سے پاوں رکھا اوربے لباس کرکے جس طرح ان نے تازیانے برسائے، اس سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ کیسی کیسی چنگاریاں اس خاکستر میں ہیں۔

کچھ باتیں آپ کبھی نہیں بھولتے۔ دو باتیں میں نہیں بھول سکتا۔ گزشتہ برس ہندوستان کے شہر ممبئی میں ایک ویرانے سے گزرتی ہوئی مسافر بس کو چھ بندوق برداروں\"tg\" نے روک لیا۔ ایک جواں سال لڑکی کو کھینچ گھسیٹ کے اتارا اور نامعلوم مقام کی طرف لے گئے۔ پولیس نے تلاش شروع کی۔ کچھ دن بعد لڑکی مردہ حالت میں ملی۔ لاش بتارہی تھی کہ جنسی درندوں نے اس وجود کو بھنبھوڑا ہے۔ میڈیکل رپورٹس نے اسی خدشے کی تصدیق کردی۔ اب مجرموں کی تلاش شروع ہوئی۔ مرکزی کردار سمیت پانچ افراد شہر کے مختلف حصوں سے گرفتار کر لیے گئے۔ ملزمان کی عدالت میں پیشی کے موقع پر اخبار نویس نے مرکزی کردار کی طرف مائک بڑھاتے ہوئے پوچھا ’’جنسی تشدد پر تو چلو ہوگیا، تم لوگوں نے لڑکی کو قتل کیوں کیا آخر‘‘۔ اس سے پہلے کہ مجرم جواب دیتا، وکیل نے آگے بڑھ کر کہا ’’لڑکی اگر چیختی چلاتی نہیں، زیادہ مزاحمت نہ کرتی تو آج زندہ ہوتی‘‘۔

اس واقعے کے کچھ ہی عرصہ بعد پاکستان کے شہر لاھور میں ایک لڑکی اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنی۔ واقعے میں ملوث مرکزی کردار گرفتار ہوا، جس کی سیاسی وابستگی پنجاب کی ایک جماعت سے تھی۔ رانا ثناواللہ صاحب پنجاب کے وزیر قانون تھے۔ ایک پریس کانفرنس میں اخبار نویس نے رانا ثنااللہ صاحب سے اس واقعے کے متعلق بھی سوال کر دیا۔ رانا ثنا اللہ ،جو ایک ذمہ دار منصب پر بیٹھے تھے، منصب بھی پھر قانون کا تھا، انہوں نے نہایت ہی اطمینانِ قلب کے ساتھ فرمایا ’’دیکھیں جی اس معاملے کو سنجیدہ لینے کی قطعا کوئی ضرورت نہیں ہے، اس عورت سے متعلق ہمیں پتہ چلا ہے کہ وہ ایک پیشہ ور جسم فروش عورت ہے‘‘

اندازہ کیجیئے۔ مردِ حر ممبئی کا ہو کہ لاھور کا، دونوں کی تہذیب کا پاک خمیر ایک ہی مٹی سے اٹھایا گیا ہے۔ ممبئی میں ایک لڑکی قتل ہوئی۔ کیوں۔؟ کیونکہ وہ چیخی تھی چلائی تھی، اور ستم بالا ستم یہ کہ مزاحمت بھی کررہی تھی۔ یعنی جرم لڑکی کا اپنا ہے کہ وہ چیخی کیوں اور چلائی کیوں؟ لاھور میں جس خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، اسے سنجیدہ نہیں لینا چاہیئے۔ کیوں۔؟ کیونکہ وہ پیشہ ور تھی جسم فروش تھی۔ یعنی کہ وہ عورت جو پیشہ ور ہے، وہ فرد ہونے کی حیثیت سے ایک آزاد و \"ranaخود مختار وجود نہیں ہے۔ آپ کو اجازت ہے کہ کبھی بھی اس کی دیوار پھلانگ سکتے ہیں اور جب مزاج یار میں آئے اس کے جسم پر اس کی مرضی کے خلاف تصرف کر سکتے ہیں۔ اگرچہ شواہد سے ثابت ہوا کہ وہ خاتون ایسے کسی پیشے سے وابستہ نہیں تھی، فرض کرتے ہیں کہ جنسی جبر ایک پیشہ ور خاتون کے ساتھ ہی ہوا تھا، تو۔؟ تب یہ مقدس ومطہر تہذیب ہمیں یہی بتاتی کہ قصور خاتون ہی کا ہے۔ اب جب خاتون نے اسی راہ کا انتخاب کیا ہے، تو کیا فرق پڑتا ہے کہ کوئی شخص جبرا اس کے جسم سے تسکین کا سامان کشید کرے۔ کیا ہوا جو کوئی اسے آزار پہنچائے، اس کے سینے میں دل اور دل میں دھڑکن تو بستی ہی نہیں۔ پہلو میں دل تو بس وہی لیے پھرتے ہیں جن کو عالی اقدار نے قحبہ خانوں کا راستہ نہیں دکھایا۔ وہ قحبہ خانے، جہاں کسی بالکونی پہ بال پھیلائے کھڑی عورتیں تو ناپاکی کا مکروہ نشان ہے اور کمرے میں پاوں پسارے چاروں شانے چت لیٹے مرد طہارت کا لازوال استعارہ ہیں۔ یہی معاملہ کیا خواجہ سرا کا نہیں ہے۔؟ ہم مرد ہوں کہ عورت، یہ پورا معاشرہ اسے کس نگاہ سے دیکھتا ہے، آپ بھی جانتے ہیں، ہم بھی جانتے ہیں۔ اس دھرتی کی سب سے بڑی مثال پشاور کی علیشہ ہے، اول جس کے سینے میں غیرت مندوں نے چھ گولیاں اتاریں، اور پھر فقیہانِ بے توفیق نے جنازے کی چار تکبیریں کہنے سے انکار کردیا۔

چلیے، اب چلتے ہیں اس اگلے سوال کی طرف جواخبار نویس نے ججا سے کیا۔ اخبار نویس نے پوچھا، کیا آپ نے جولی پر اسی لیے تشدد کیا کہ وہ آپ کا دوست ہے؟ جواب ملاحظہ ہو۔ فرمایا ‘‘میں اسے غلط کام سے روکتا تھا، غلط کام کی وجہ سے میں نے اس کو مارا‘‘

\"Inیہ بات تو طے ہے کہ جولی ججا کی دوست نہیں تھی، اور اگر تھی بھی، تو دوستی کسی کوجبر و تشدد کا حق نہیں دیتی۔ خیر، یہ بھی زیربحث معاملہ نہیں۔ ایک سادہ سا نکتہ آپ کی پیش گاہی میں رکھنا چاہتا ہوں۔ دیکھیے، ججا نے فقط ایک جواز تراشا ہے۔ ٹھیک۔؟ میں یا آپ، کوئی بھی کہیں گھیرے میں آجائے تو اپنے اقدام کے لیے جواز ہی تراشے گا۔ جواز کسے کہتے ہیں۔؟ جواز کسی بھی بات یا اقدام کی اس تاویل کو کہتے ہیں جو سماج کے اجتماعی شعور کے لیے قابل قبول ہو۔ اب سوچیئے کہ ججا نے سوال کے ختم ہوتے ہی ترنت یہ کیوں کہا کہ جولی میری دوست ہے؟ سوچیئے، خوب سوچیئے۔ یہ جواز بتاتا ہے کہ ججا ظالم ضرور ہے مگر احمق نہیں ہے۔ وہ جانتا ہے کہ میں رانا ثنااللہ صاحب جیسے اعلی تعلیم یافتہ ہستیوں کے سماج میں رہتا ہوں۔ ہم عرض کریں۔؟ ججا نے اپنی سماجی روایت کے عین مطابق جواز تراشا۔ روایت یہ ہے کہ کسی بھی تعلق میں جس انسان کو جنسی برتری حاصل ہوگی، وہ اپنے سے کم تر کے وجود پر وہ اختیار بھی رکھتا ہے جو اختیار خود اس وجود کو بھی حاصل نہیں ہے۔ ہم نہ مانیں، تب بھی سامنے کی سچائی یہ ہے کہ اسی حاکمانہ روایت کے تحت ہم اپنی بہنوں، بیٹیوں یہاں تک کہ منگیتروں کے ساتھ برتاؤ رکھتے ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہے۔؟ اگر نہیں، تو رہنمائی کیجیئے، ہمیں خوشی ہوگی۔

اس حقیقت کو ایک دوسرے زاویئے سے دیکھنے کے لیے کچھ دیر آئینے کا رخ تبدیل کرتے ہیں۔ یہاں جائز ناجائز کی قطعا کوئی بحث نہیں، محض احترامِ انسانیت اور حریتِ فرد کو سامنے رکھ کردماغ کو سوچنے کی مہلت دیجیئے گا۔ زنا بالجبر تو خیر ہے ہی لائق تعزیر، مگر اس سماج میں کون ہے جو زنا بالرضا پر حرف گیر نہ ہو۔ \"transgender-torture-arrest1\"سبھی ہیں نا؟ آپ کا حق ہے، اس پر کوئی کلام ہی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس تہذیب کے کتنے رکھوالے ہیں جو جماع بالجبر کو بھی اخلاقی جرم تصور کرتے ہیں۔؟ اس اصطلاح کو تحلیل کرتےہیں۔ یعنی وہ عورت جو آپ کے عقد میں ہے، ٹھیک ہے قانونی اور شرعی نقطہ نگاہ سے وہ آپ کی محرم ہے، مگر کیا آپ اس عورت کی مرضی کے برخلاف، یا ایسے وقت میں کہ جب وہ آمادہ ہی نہیں ہے، وظیفہِ زوجیت ادا کرنا غلط سمجھتے ہیں۔؟ اس پر بہت عالمانہ جوابات آسکتے ہیں، مگر بات یہ ہے کہ ہم اسی سماج میں پروان چڑھے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ فرد کی آزادی کا اس پہلو سے احترام نہ ہمیں بتایا گیا ہے، نہ سکھایا گیا ہے، نہ پڑھایا گیا ہے، نہ سمجھایا گیا ہے اور نہ ہمارا اجتماعی شعور اس احترام پہ یقین رکھتا ہے۔ جس سماج کا اجتماعی شعور جماع بالجبر کومردانہ حق سمجھتا ہو، وہ اندازہ کیا جانا چاہیئے کہ جنس کے معاملے میں کس قدر اخلاقی پسماندگی کو ہم نے پاکیزہ تہذیب کا غلاف پہنا رکھا ہے۔ یہ ایک معمولی رخ ہے، مگر اتنا سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ ممبئی کے وکیل بابو، پنجاب کے وزیر قانون اور سیالکوٹ کا ججا اس قدر اطمینان اور عالمانہ شان کے ساتھ ایک مکروہ جواز کیسے تراش لیتے ہیں۔ یہ خمیر ہمارے آنگن سے اٹھایا گیا ہے۔ کوئی دن جاتا ہے کہ یہی تہذیب ملامت کے چار حرف لیے ہمارا تعاقب کرے گی اور ہمیں جائے پناہ نہیں ملے گی۔

Facebook Comments HS