میں زہر ہلاہل کو قند کیسے کہ دوں
پاکستان میں ہر فرد کا مزاج بن چکا ہے کہ وہ اپنے مزاج کے خلاف کوئی بات بھی سننے کے لئے تیار نہیں۔ سیاسی، مذہبی، سماجی تنظیموں سے وابستگی ہو یا وہ جنھیں اس قسم کی کوئی بیماری سرے سے ہے ہی نہیں، کوئی ایسی بات جو اس کی سیاسی سوچ یا قائم کردہ کسی بھی قسم کی رائے سے متصادم ہو، اس کے لہجے میں تلخی ضرور گھول دیا کرتی ہے اور اس کے بعد یہ ممکن ہی نہیں رہتا کہ وہ اپنے اختیار و قدرت کے مطابق جوابی وار کرنے سے چوک جائے۔
دین اور مذہب کی باتیں پاکستان میں ثانوی سی ہوکر رہ گئی ہیں، اب سیاسی وابستگیوں نے اس کی جگہ اتنی شدت کے ساتھ لے لی ہے کہ ہر سیاسی مخالف کافر و مشرک سے بھی کہیں بڑھ کر گناہ گار دکھائی دینے لگا ہے۔ یہ بات محض ہوائی نہیں بلکہ پاکستان میں دو تین دہائیوں میں جتنی قتل و غارت سیاسی بنیاد پر ہوئی ہے، پوری دنیا میں مذہبی یا مسلکی اختلاف پر نہیں ہوئی ہوگی۔ اسلام کی تعلیمات بے شک یہی کہتی ہیں کہ ایک مسلمان کا خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے یا جب کہیں بھی مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں مار پیٹ پر اتر آئیں، ان کے درمیان صلح کراؤ لیکن شاید یہ ہدایات (نعوذ باللہ) پاکستانی مسلمانوں کے لئے نازل نہیں ہوئی تھیں اس لئے یہاں، سیاسی جماعتیں ہوں، مذہبی تنظیمیں ہوں یا سیاسی و مذہبی مزاجوں کے امتزاج والے گروہ، وہ تو تلاش میں ہی ایسے مواقعوؤں کے رہتے ہیں۔
اختلا فات اگر سیاسی بنیاد پر ہوں یا ذاتی نوعیت کے تو شاید دین اسلام پھر بھی کوئی ایسی لچک رکھتا ہو کہ موقع سے فائدہ اٹھا کر ”دنیوی“ مفاد حاصل کر لینے میں کوئی حرج محسوس نہ ہوتا ہو لیکن معاملات اگر اس حد تک خراب ہوچکے ہوں کہ فریق ایک دوسرے سے اپنے خون کی پیاس بجھانے اور ہاتھ رنگنے پر تلے بیٹھے ہوں اور یہ باتیں اتنی الم نشرح ہوں کہ کسی بھی آنکھ سے چھپی ہوئی نہ ہوں تو ایسی صورت میں کسی بھی فریق کا ساتھ یہ کہہ کر دینا کہ ”دشمن کا دشمن دوست“ تو کیا اسلام اس بات کی کوئی ذرہ برابر لچک کہیں سے کہیں تک بھی دکھانے کی تعلیم دیتا ہوا نظر آتا ہے؟ یاد رہے کہ یہ بات کسی کافر گروہ میں اختلافات کی روشنی میں نہیں کہی جا رہی بلکہ مسلمان ملک کے مسلمان سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اختلافات کو سامنے رکھ کر کی جا رہی ہے۔
مشرقی پاکستان کی ایک واضح اکثریت ایک سیاسی رائے رکھتی تھی جو ایک بہت طویل عرصے تک پاکستان سے بغاوت پر قطعاً نہیں تھی لیکن کچھ زمینی حقائق ایسے بنے جب ایک سیاسی سوچ رکھنے والی آبادی پاکستان سے علیحدگی کی جانب چل نکلی۔ بغاوتیں کسی بھی ملک میں ہوں تو ان کو دبانا حکومتوں کا فرض ہوا کرتا ہے نہ کہ ملک میں نظریاتی اختلافات رکھنے والی جماعتوں کو آلہ کار بنایا جاتا ہے۔ بد قسمتی سے مقامی مخالف آبادی کو ہمنوا بنایا گیا جس کی وجہ سے آج تک وہ آبادی زیر عتاب ہے اور ان کو قربانی کا بکرا بنانے والے آج تک ان کی جانب مڑ کر دیکھنا گوارا نہیں کرتے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے ان کی ہمنوائی میں ایک اکثریت زیر عتاب رہی پھر ان کا غلبہ ہمنواؤں کی جان کا عذاب بن کر رہ گیا۔
پاکستان میں اب بھی کئی علاقے ایسے ہیں جہاں آبادیوں کو پاکستانی حکومتوں سے شدید شکایتیں ہیں لیکن ان کا حل طاقت میں ہی تلاش کیا جا رہا ہے۔ حکومتوں کا ہر قسم کی شدت پسندانہ لہر کو دبانا قانونی حق ہے لیکن اکثر مقامات پر مقامی آبادیوں کو مد مقابل کھڑا کر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے کچھ قتل و غارت گری ان کی آپس کی لڑائیوں کی وجہ سے ہوتی ہے اور کچھ کسی مغلوب کے غالب آجانے کی صورت میں۔
کراچی میں ایسا ہی کچھ گزشتہ تین دہائیوں سے زیادہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہاں بھی حکومتیں سرکاری و غیر سرکاری سطح پر بہت کچھ کھیل کھیلتی چلی آ رہی ہیں۔ حکومتوں کا ملک دشمن عناصر کے خلاف از خود سامنے آنا قانونی حق ہی نہیں بلکہ اولین فرض بھی ہے لیکن مقامی آبادیوں کے سہارے یا کچھ گروہوں کی حوصلہ افزائیاں جیسے اقدامات نہایت سنگین جرم ہے۔ مجرموں کو قابو میں کرنے کا مطلب اختلافات رکھنے والوں کی حوصلہ افرائی، حالات کو خانہ جنگی کی جانب لیجانے کے مترادف ہے۔
ساتھ ہی ساتھ وہ ساری جماعتیں جن کا فلسفہ ”دشمن کا دشمن دوست“ ہے ان کو بھی اپنی سوچ میں تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ کراچی ہی میں نہیں، پورے پاکستان میں ایک پاکستانی مسلمان کے ہاتھوں دوسرا پاکستانی مسلمان مارے جانے کی وجوہات بھی یہی ہیں جو اب ایک نئے غیظ و غضب کو ہوا دیتی نظر آ رہی ہیں۔ ایسی ساری جماعتوں کو پاکستان کا ماضی کسی صورت فراموش نہیں کرنا چاہیے اس لئے کہ حوصلہ افزائیاں کرنے والے میدان چھوڑنے میں کبھی دیر نہیں لگایا کرتے اور پھر یہی دیکھا گیا ہے کہ مغلوبوں کا غلبہ میدان حشر سجا کر رکھ دیا کرتا ہے۔
جو کام سیاسی یا مذہبی جماعتوں کے ہیں وہ انھیں خوب اچھی طرح سمجھ لینے کی ضرورت ہے اور جو فرائض امن و امان بحال رکھنے والے اداروں کے ہیں، انھیں ان پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ مقامی آبادیوں کو ایک دوسرے کے مد مقابل لاکھڑا کرنے کے کبھی اچھے نتائج نہیں نکل سکتے بلکہ ماضی کی طرح خانہ جنگی جیسے حالات کو ضرور جنم دے سکتے ہیں۔


