زرتاج گل کی زر افشانیاں اور وزرا کی گل افشانیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر ماحولیات جنہیں وزیر ”مخولیات“ کہنا چاہیے، نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں پھر ایک مسخرہ سا بیان داغا ہے۔ موصوفہ نے کووڈ 19 کی تشریح فرماتے ہوئے ایسا دقیق اور دور رس نکتہ بیان کیا کہ وزیر اعظم سمیت سننے والوں کے چودہ طبق روشن ہو گئے ہوں گے۔ فرمایا کہ اس کا یہ نام کووڈ 19 اس لیے پڑا کہ اس وائرس کے 19 پوائنٹس ہیں یا یہ 19 طریقوں سے انسان پر حملہ کرتا ہے۔

دنیا بھر کے طبی عملے اور تجربہ کار ڈاکٹرز نے تو خبردار کیا تھا کہ کورونا وائرس آنکھ، ناک یا منہ کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر پھیپھڑوں، دل، جگر اور دوسرے آرگن کو ناکارہ بناتا ہے جس سے چند دن کے اندر اندر انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ مگر سابق مشیر اطلاعات اور منہ پھٹ قسم کی خاتون محترمہ فرودس عاشق نے عوام کو ایک چوتھے راستے کے بارے میں بھی آگاہی دی تھی یعنی یہ موذی اور جان لیوا وائرس ناک، کان اور آنکھوں کے علاوہ بھی انسان پر یلغار کر سکتا ہے۔ ان کے اس بیان کا عوامی حلقوں میں اتنا زیادہ مذاق بنا کہ کچھ ستم ظریفوں نے چہرے پر ماسک سجانے کے ساتھ ساتھ پیمپرز باندھنے کا مشورہ بھی دے دیا تھا۔

فردوس عاشق نے احساس پروگروام کے ذریعے مستحقین میں رقم کی تقسیم کے وقت ایک کثیر الاولاد خاتون کو جس طرح طنز و تعریض، تمسخر اور مذاق کا نشانہ بنایا تھا وہ بھی سب جانتے ہیں۔ حکمران پارٹی میں مسخرے وزیروں، مشیروں کی کی خاصی بہتات ہے۔ یوں تو ہر سیاسی پارٹی میں کچھ ایسے نابغے اور نمونے ضرور موجود ہوتے ہیں جو پوری پارٹی کے لیے جگ ہنسائی، رسوائی اور پسپائی کا باعث بنتے ہیں مگر پی ٹی آئی اس معاملے میں خود کفیل ہے اور اس کا مد مقابل دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔

خود وزیر اعظم اس بد زبان اور زبان طعن والی فوج ظفر موج سے نالاں رہتے ہیں اور تین وزرا کو اوٹ پٹانگ اور زہرناک و سفاک بیانات دینے کی وجہ سے بر طرف بھی کر چکے ہیں تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے کہ اس بد زبان اور گالم گلوچ بریگیڈ کے کھڑا کرنے میں خود وزیر اعظم کی اپنی بے پناہ کاوشوں کا بھرپور عمل دخل ہے۔ کیونکہ فواد چودھری، مراد سعید، فیصل واڈا، فردوس عاشق، شیخ رشید، فیاض الحسن چوہان اور زرتاج گل سمیت آج تک انہوں نے کسی وزیر یا مشیر سے اس کے بے تکے بیان پر وضاحت طلب نہیں کی۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ وزیر اعظم خود ایسے محیر العقول، بے سروپا اور مسخرے بیانات داغنے میں ید طولٰی رکھتے ہیں۔ ایسا منہ پھٹ وزیراعظم جب کسی وزیر سے اس کے بیان کی وضاحت طلب کرے گا تو مبادا آگے سے بیسیوں سوال ہوں اس لیے خاموشی میں عافیت ہے۔

انہیں موصوفہ نے پچھلے دنوں جناب وزیر اعظم کی قاتلانہ مسکراہٹ کا ذکر کر کے انہیں خراج تحسین پیش کیا تھا۔ تب یہ بات پاکستانیوں کے خواب و خیال میں بھی نہیں ہو گی کہ وزیر اعظم کی بے نیازانہ مسکراہٹ کے ساتھ ان کا بے پروا طرز عمل اور ناقص حکمت عملی واقعی بد قسمت پاکستانیوں کے لیے قتل عام کا سندیسہ ثابت ہو گی۔ اب تو بی این پی کے سربراہ نے بھی وزیر اعظم پر یہ الزام لگا دیا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر ملک میں کورونا وبا کو پھیلنے دیا۔

زرتاج گل ایسے لوگوں کو اپنے انتخاب کو درست ثابت کروانے کے لیے ہمہ وقت اپنے لیڈر کی جھوٹی موٹی شان میں رطب اللسان ہونا پڑتا ہے۔ موصوفہ بھی ہر پروگرام اور پریس ٹاک میں درجنوں بار وزیر اعظم کی قصیدہ خوانی فرما کر حق نمک ادا کر نے کی کوشش کرتی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل انہوں نے وزیراعظم کی ذات با برکات سے عجیب و غریب اور جادوئی کرشمہ سازیوں کو نتھی کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ عمران خان کو اللہ تعالٰی نے سیاسی بصیرت کے علاوہ بے شمار روحانی قوتوں سے بھی نواز رکھا ہے جن کو بروئے کار لا کر وہ پس دیوار بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ہمیں یہ تو نہیں معلوم کہ محترمہ کس دیوار کے پار دیکھنے کی بات کر رہی تھیں تاہم اب تو یہ حقیقت بھی کھل چکی ہے کہ پس دیوار دیکھنا تو دور کی بات ہے موصوف نوشتۂ دیوار پڑھنے سے بھی قاصر ہیں۔

بہر حال قائد اعظم کے چودہ نکات کے بعد زرتاج گل کے انیس نکات بھی پاکستانی سیاست میں تا دیر یاد رکھے جائیں گے۔ اس حکومت سے کورونا سمیت دوسرے عوامی مسائل تو حل ہونے سے رہے کیونکہ ایسا کرنے کی ان میں نیت ہے نہ اہلیت۔ الٹا وزیراعظم اپنی بے ربط تقریروں اور وزرا و مشیر اپنے بے ہنگم اور تمسخرانہ بیانات سے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکتے رہتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply