چین بھارت جھگڑا کیوں جاری رہے گا ( دوسری قسط)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اونچے پائیدان پر براجمان رہنماؤں کا ایک بنیادی المیہ یہ بھی ہوتا ہے کہ انھیں ہمیشہ وقت کی کمی کا وہم رہتا ہے لہذا وہ عجلت میں بڑے بڑے کام انجام دینا چاہتے ہیں۔چنانچہ ٹھوکر لگنے اور منہ سے بڑا نوالہ ٹھونس لینے کا امکان بڑھتا جاتا ہے۔دوم یہ کہ عجلت پسند رہنما اوپر یا آگے تو دیکھ لیتے ہیں البتہ عقب یا پاؤں تلے دیکھنے کی فرصت نہیں ہوتی۔

جواہر لال نہرو کے ساتھ بھی یہی المیہ تھا۔ایفرو ایشیائی قائد بننے کے شوق میں وہ بھول گئے کہ پہلے محلے والوں سے خود کو منوا لیں تب آگے بڑھیں۔نہرو نے خود کو محلے میں منوانے کی کوشش تو کی مگر اتفاقِ رائے کے بجائے زور زبردستی کے ذریعے۔یعنی بین الاقوامی تاریخ کے عالم ہوتے ہوئے بھی اس علم کا خود پر انطباق نہ سیکھ پائے۔( بھٹو کا بھی شاید یہی المیہ تھا)۔

انیس سو باسٹھ کی چین بھارت جنگ سے چودہ برس پہلے نہرو نے کشمیر کے الحاق میں زور زبردستی کے ذریعے علاقائی ہیت کو اپنی مرضی سے بدلنے کی کوشش کی حالانکہ بطور مورخ انھیں علم ہونا چاہیے تھاکہ تاریخ سے زور زبردستی کسی قابلِ علاج جغرافیائی  زخم کو بھی ناسور بنا دیتی ہے۔

پھر نہرو جی نے اپنے تئیں اندازہ لگایا کہ چین  کیمونسٹ انقلاب کے بعد اندرونی اتھل پتھل کا شکار ہے اور پرانے اداروں کی شکست و ریخت کے بعد نئے ادارے بنانے اور مستحکم ہونے میں ابھی خاصا وقت درکار ہے۔

نیز چین کی پیپلز لبریشن آرمی نہ صرفڈھائی عشروں سے قوم پرستوں سے لڑ لڑ کر پیشہ ورانہ تھکن کا شکار ہو چکی ہے بلکہ اس کا اسلحہ خانہ بھی بھارت کو ورثے میں ملنے والے جدید نوآبادیاتی اسلحہ خانے کے مقابلے میں کہیں کمزور ہے۔بھارتی فوج کو دو عالمی جنگوں میں بھانت بھانت کے بین الاقوامی محاذوں پر لڑائی کا بیش بہا تجربہ بھی ہے لہذا یہی موقع ہے کہ چین کے اپنے پاؤں پر اٹھ کھڑے ہونے سے پہلے پہلے جارحانہ فارورڈ پالیسی کے تحت نئی فوجی چوکیاں تعمیر کر کے سرحدی حد بندی کو ہمیشہ کے لیے اپنے حق میں کر لیا جائے۔

بھارتی خفیہ اداروں کی بھی یہی رپورٹ تھی کہ چین فی الحال طاقت کے بھرپور استعمال کی سکت نہیں رکھتا۔  لداخ میں رہے ایک جنرل نے رائے دی کہ چینی ہمارے سامنے نہیں ٹھہر سکتے۔ہم ایک راؤنڈ فائر کرتے تھے تو وہ غائب ہو جاتے تھے۔صرف ایک الگ آواز ویسٹرن کمانڈ کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل دولت سنگھ کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دستے پوری ساڑھے تین ہزار کلو میٹر کی ہمالیائی سرحد پر بکھرے پڑے ہیں۔جب کہ سرحد پار چینوں کا کیل کانٹے سے لیس پندرہ ہزار فوجیوں پر مشتمل ایک پورا ڈویڑن پیش قدمی کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ ہمیں کم ازکم چار اضافی پہاڑی بریگیڈز کی ضرورت ہے اور اس کے لیے وقت درکار ہے۔

مگر اکثریت نے کہا کہ چین صرف ایک مسلح ڈویڑن کے بل پر کوئی بڑی حماقت نہیں کرے گا۔ اور اب تو سوویت یونین بھی اس کے ساتھ نہیں جو جنگ کی صورت میں اسے رسد بھیجتا رہے۔لہذا بھگوان کا نام لے کر شروع کرو۔یوں بھارت نے لداخ سے آسام تک فارورڈ پالیسی کے تحت یکطرفہ سرحدی حد بندی اور فارورڈ چوکیوں کی تعمیر شروع کر دی۔ حسبِ توقع فریقین کے درمیان ہلکی پھلکی مسلح چھیڑ چھاڑ معمول ہوتی گئی۔

مگر بھارت کے علم میں شائد یہ نہیں تھا کہ چین  سو سنار کی ایک لوہار کی، کی فوجی حکمتِ عملی کا سرپرائز  بھی دے سکتا ہے۔حملے سے ایک ہفتے قبل ماؤزے تنگ نے سینٹرل ملٹری کمیشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپنی روائتی بذلہ سنجی کو برقرار رکھا ’’ اب جب کہ نہرو نے سینگ پھنسا لیے ہیں اور ہمیں لڑنے پر مجبورکر ہی دیا ہے تو مروت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہم  ترکی بہ ترکی جواب دیں تاکہ نہرو کی دل شکنی نہ ہو‘‘۔

اور پھر بیس اکتوبر انیس سو باسٹھ کو چین نے دو محاذ کھول دیے۔ ایک شمال مشرق میں آسام کی جانب اور دوسرا وسط میں لداخ کی جانب۔بیس سے پچاس کلو میٹر تک تیزی سے پیش قدمی کی۔آسام کی سرحد کے اندر تینتالیس کلومیٹر پرے تیز پور قصبے پر قبضہ کر لیا۔اس کے بعد شمال مشرقی بھارت کا سارا میدانی علاقہ کھلا تھا مگر چینی رک گئے۔اسی طرح لداخ کے محاذ پر ڈیمچوک کے علاقے پر بھی چین نے قبضہ کر لیا اورکشمیرو شن جیانگ کے درمیان واقع اقصائے چن پر قبضہ مزید پکا کر لیا۔

اکیس نومبر کو چین نے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اپنی فوجیں رضاکارانہ طور پر بیس کلو میٹر پیچھے تک ہٹا لیں اور بھارت کو پیش کش کی کہ وہ بھی فوجیں پیچھے ہٹا کر باضابطہ سرحدی حد بندی کے لیے بات چیت شروع کرے۔

اس ایک ماہ کی لڑائی میں چین کے سات سو بائیس جوان کام آئے اور ایک ہزار بیالیس زخمی ہوئے۔ بھارت کے تیرہ سو سینتیس فوجی جان سے گئے اور ایک ہزار چالیس زخمی ہوئے ، سولہ سو چھیانوے بھارتی فوجی لاپتہ ہو گئے اور لگ بھگ چار ہزار قیدی بن گئے۔

اس جنگ نے خطے پر جو دورس اثرات مرتب کیے وہ آج تک غالب ہیں۔پہلی بار بھارت کو اندازہ ہوا کہ اونٹ پہاڑ تلے بھی آ سکتا ہے۔پہلی بار چین کو اندازہ ہوا کہ اندرونی ٹوٹ پھوٹ کے باوجود اس کے اندر ایک بڑی طاقت بننے کا کس بل باقی ہے۔ چین نے بین الاقوامی اسٹیج پر آمدِ نو کا اعلان اکتوبر انیس سو چونسٹھ میں پہلے ایٹمی دھماکے سے کیا۔ بھارت اس ایٹمی منزل سے ابھی دس برس پیچھے تھا۔ چین کا یہ ایٹمی دھماکہ مغرب کو خبردار کرنے سے زیادہ سوویت یونین کو کرارا جواب تھا جس نے عین اس وقت چین کا ساتھ چھوڑا جب چین عالمی طور پر تنہا اور عسکری ٹیکنالوجی کے میدان میں پسماندہ تھا۔

باسٹھ کی چین بھارت لڑائی کے سبب پاکستان کو پہلی اور آخری بار قدرت نے موقع دیا کہ جب بھارت نے وادیِ کشمیر سے اپنا واحد ماؤنٹین ڈویژن لداخ کی سرحد پرمنتقل کیا تو پاکستان دوسرا محاذ کھول کر جنگ بندی لائن پار کر کے جموں و سری نگر پر قبضہ کر لے۔

جب چینی سفیر نے ایوب خان کے سامنے یہ آئیڈیا رکھا تو سادہ دل ایوب خان نے اسے اپنے پیٹ میں رکھنے کے بجائے امریکا اور برطانیہ کے سفارت کاروں سے فوراً بانٹ لیا۔بات واشنگٹن اور لندن تک پہنچ گئی اور ایوب خِان کو فوری طور اعلی ترین سطح پر یقین دہانی کرائی گئی کہ اگر اس وقت پاکستان غیر جانبدار رہے تو جنگ کے بعد ہم کشمیر کا تنازعہ حل کرانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیں گے۔معصوم ایوب خان مان گئے اور پرامید تماشائی بن کے رہ گئے۔

اور جب حسبِ فطرت مغربی ممالک وعدے سے پھر گئے تو تین برس بعد ایوب خان نے اپنے تئیں طارق بن زیاد بن کر کشمیر آزاد کرانے کی ٹھانی۔تب تک بھارت چین سے لڑائی کے زخم چاٹ چکا تھا اور چینی بدمعاشی کے مقابلے کا واویلا مچا مچا کر جدید امریکی و برطانوی اسلحے کی مدد سے چار نئے ڈویژن کھڑے کر چکا تھا۔

بھارت کو چین کے مقابلے میں اٹھا رکھنے کے لیے نہ صرف امریکا اور برطانیہ کی بھرپور فوجی، اقتصادی و سفارتی امداد ملی بلکہ چین کے نظریاتی دشمن سوویت یونین نے بھی مگ لڑاکا طیاروں کی پہلی کھیپ دان کر دی اور یوں بھارت سوویت اسٹریٹیجک پارٹنر شپ کی طویل اننگز شروع ہوئی۔

دوسری جانب جب پاکستان نے پینسٹھ کی یکطرفہ مہم جوئی کے دوران یہاں وہاں دیکھا تو سیٹو اور سینٹو کے پیارے اتحادی، اور انیس سو انسٹھ کے فوجی معاہدے کا فریق امریکا چمپت ہو گئے۔ بلکہ امریکا اور برطانیہ نے تو کمال انصاف سے کام لیتے ہوئے بھارت اور پاکستان کو اسلحے کی فروخت پر ہی عارضی پابندی لگا دی کیونکہ لڑائی بھڑائی اچھی بات نہیں ہوتی۔ اب پاکستان کے سامنے بس ایک چین ہی کھڑا تھا کہ جس کے کندھے پر پاکستان اپنا سر رکھ سکے۔ یوں ایک تاریخی بندھن کی تاریخ شروع ہوئی۔

اپنے اپنے بے وفاؤں نے ہمیں یکجا کیا

ورنہ میں تیرا نہیں تھا اور تو میرا نہ تھا (فراز)

(آگے کیا ہوا۔اگلی قسط میں دیکھیں گے)

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply