لداخ: وہ علاقہ جس پر خلیفہ ہارون الرشید کی بھی نظر تھی
چین کے بادشاہ اور پنجاب کے مہاراجہ شیر سنگھ لداخ اور تبت میں امن کے ضامن؟
جرنیل زورآور سنگھ کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے گلاب سنگھ نے لداخ میں فوری کارروائی کی اور اس کا انجام ایک تاریخی معاہدے کی صورت میں ہوا۔
سنہ 1842۔ پنجابی مہینے اسُو کی دو تاریخ (عیسوی کیلنڈر کے اعتبار سے تقریباً 15 اگست)۔ لداخ کے دارالحکومت لیہ میں جموں اور تبت کے حکمرانوں کے درمیان ایک امن معاہدے پر مہر لگائی گئی، جس کی ضمانت بعد میں چین کے بادشاہ اور لاہور کی حکوت کے حکمران مہاراجہ شیر سنگھ کے نام پر ایک اور معاہدے کے ذریعے دی گئی۔
مؤرخ کے ایم پانیکر نے اپنی کتاب ’گلاب سنگھ: فاؤنڈر آف کشمیر (کشمیر کے بانی)‘ میں اس معاہدے کی تفصیلات بتائی ہیں۔ کتاب میں پیش کیے گئے ان معاہدوں میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ ’چین کے بادشاہ، (تبت کے دارالحکومت) لہاسا کے دالائی لامہ اور کشمیر کے مہاراجہ کی دوستی ازل تک قائم رہے گی‘، اور زور دے کر روایات کے مطابق لداخ کی سرحدوں اور تجارتی سرگرمیوں کا احترام کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
انھوں نے لکھا ہے کہ کشمیر اور تبت کیونکہ پنجاب اور چین کی تابع ریاستیں تھیں اس لیے ان کے حکمرانوں (مہاراجہ شیر سنگھ اور چین کے بادشاہ کو پابند بنانے کے لیے فوراً ہی ان کے نام پر بھی ایک معاہدہ کیا گیا۔
یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان معاہدوں میں لداخ کی جن روایتی سرحدوں کی بات کی گئی ہے ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا تعین سنہ 1684 میں لداخ اور تبت کے درمیان جنگ کے بعد ایک معاہدے میں کیا گیا تھا اور اس جنگ میں مغل فوجوں نے لداخ کی مدد کی تھی۔
کشمیر کی فتح کے بعد لداخ فتح کرنا کیوں ضروری تھا؟
تاریخ میں بار بار دیکھا گیا کہ جو حکمران کشمیر پر قابض ہوئے انھوں نے لداخ کا بھی رخ کیا۔
سُکھ دیو سنگھ نے ایک انگریز فوجی افسر میجر ہیئرسے کا حوالہ دیا ہے جنھوں نے کہا تھا کہ ’اگر کوئی دشمن کشمیر پر حملہ کرنا چاہے تو وہ لداخ کے راستے کر سکتا ہے اور سردیوں میں تو یہ کام اور بھی آسان ہو گا۔‘
سُکھ دیو سنگھ لکھتے ہیں کہ کشمیر فتح کرنے کے بعد مہاراجہ سنگھ کو بھی احساس تھا کہ اس کے دفاع کے لیے لداخ فتح کرنا ضروری ہے۔
لداخ انڈیا، چین اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارت کا مرکز
مؤرخ کے وریکوُ نے کتاب ’ہمالین فرنٹیرز آف انڈیا: ہسٹاریکل، جیو پولیٹیکل اینڈ سٹریٹیجک پرسپیکٹیوز‘ میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ کمشیر اور لداخ دونوں علاقوں کے شاہراہ ریشم، تبت، وسطی ایشیا، ژنجیانگ کے قریب ہونے کی وجہ سے ان علاقوں کے درمیان مال اور انسانوں کے تبادلے کا بڑا ذریعہ رہے ہیں۔ لداخ ایک گزرگاہ تھی جہاں کچھ تیار کیا جاتا تھا نہ کسی مال کی زیادہ کھپت تھی۔
کے وریکو کے مضمون کا عنوان ہے ’انڈیاز گیٹ وے ٹو سینٹرل ایشیا: ٹرانس-ہمالین ٹریڈ اینڈ کلچرل موومنٹ تھرو کشمیر اینڈ لداخ 1846-1947‘۔
انھوں نے لکھا ہے کہ تبت کی لداخ اور کشمیر کے ساتھ تجارت سنہ 1684 کے معاہدہ تنگموسگانگ کے تحت ہوتی تھی جس میں تبت میں تیار ہونے والی شال-اون پر لداخ کو اجارہ داری حاصل تھی اور اس کے بدلے میں تبت والوں کو لداخ کے ساتھ ’برِک-ٹی‘ کی تجارت پر مکمل اجارہ داری دی گئی تھی۔ تبت سے آنے والی اون کشمیر جاتی تھی۔ تبت سے آنے والی چائے لداخ میں ہی استعمال ہو جاتی تھی۔
تبتی اور ڈوگرا حکام کے درمیان اوپر ذکر کیے گئے سنہ 1842 کے معاہدے میں ان تجارتی رشتوں اور بندوبست کو قائم رکھنے کا اعادہ کیا گیا تھا۔
انھوں نے سنہ 1842 کے معاہدے کی تفصیل بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ لداخی تاجروں کو تبت کے سفر کے لیے مفت ٹرانسپورٹ اور رہائش کا حق حاصل تھا اور بدلے میں یہی سہولیات تبت کے تاجروں کو ملتی تھیں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں



