لداخ: وہ علاقہ جس پر خلیفہ ہارون الرشید کی بھی نظر تھی


لداخ کے دولت مند کشمیری مسلمان

وریکو کہتے ہیں کہ اس معاہدے کے تحت وقتاً فوقتاً لداخ سے لہاسا میں دالائی لامہ کے لیے تحائف بھی بھیجنے ضروری تھے۔ اس مذہبی مشن پر جانے والے مزدوروں کو تجارت کا مال لے کر جانے کی بھی اجازت تھی۔ اس کو ’لاپچک‘ مشن بھی کہا جاتا تھا اور سنہ 1842 میں لداخ کے پوری طرح جموں میں ضم ہونے کے بعد اس کی مذہبی اہمیت ختم ہو گئی تھی۔ اسی طرح تبت سے آنے والے کارواں کو ’چبا‘ کہا جاتا تھا۔

’لاپچک‘ کی مذہبی حیثیت ختم ہونے کے بعد یہ تجارت پیشہ ور تاجروں کے ہاتھوں میں چلی گئی جو زیادہ تر لیہ میں آباد کشمیری مسلمان تھے جو اس کام سے بہت منافع کماتے تھے۔

وریکو نے اپنے مضمون میں ایسے ہی ایک تاجر حاجی نذر شاہ کا ذکر کیا ہے۔ وریکو نے سوین ہیڈن کے حوالے سے لکھا ہے کہ جب وہ سنہ 1906 میں تبت جاتے ہوئے حاجی نذر شاہ کے گھر رکے تو وہ وہاں ’چاندی اور سونے کے برادے اور اہم پتھروں سے بھرے صندوق دیکھ کر حیران رہ گئے تھے۔‘ یہ سب مال تبت جانا تھا۔

وریکو لکھتے ہیں کہ ہیڈن کو معلوم ہوا کہ نذر شاہ کا لاپچک کی تجارت سے سالانہ منافع 25 ہزار روپے تھا۔ ’نذر شاہ اور ان کے خاندان کے تقریباً ایک سو افراد کو یہ ذمہ داری کشمیر کے مہاراجہ کی طرف سے سونپی گئی تھی اور اس وقت انھیں یہ خفیہ کام کرتے 50 سال ہو گئے تھے۔‘

انھوں نے لکھا ہے کہ لیہ کو علاقے کے کارواں روٹوں کے نیٹ ورک میں مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ وہ لکھتے ہیں کہ وسطی ایشیا اور انڈیا سے تاجر اپنے کارواں لے کر گرمیوں میں آتے تھے اور خزاں میں واپسی کا سفر شروع کرتے تھے۔ ان تاجروں میں سب سے مقبول روٹ سرینگر لیہ یارکند روٹ تھا۔

ریکو لکھتے ہیں کہ ڈوگرا حکمرانی کے دوران لداخ اور تبت کے درمیان سالانہ لاکھوں روپے کی تجارت ہوتی تھی۔ ’اس تجارت کو سنہ 1950 میں تبت کے چین کا حصہ بننے کے بعد بڑا دھچکا لگا اور پھر سنہ 1959 میں تبت میں ہنگاموں کے بعد بالکل رک گئی۔

لداخ

ہمالیائی تجارتی نیٹ ورک اور چین کو افیون کی فروخت

وریکو لکھتے ہیں کہ 19ویں صدی کے وسط میں کشتوار اور بوشہر میں بننے والی افیون مشرقی ترکستان کو ایکسپورٹ کی جانے لگی جہاں چینی تاجر اور سول اور فوجی حکام اس کو استعمال کرتے تھے۔

’چین کی طرف سے سنہ 1839 میں افیون پر پابندی کے باوجود 210 من سالانہ تک یہ ڈرگ انڈیا کے تاجروں کی طرف سے چینی کسٹم حکام کے تعاون سے مشرقی ترکستان ایکسپورٹ کی جا رہی تھی۔‘

بلتستان اور لداخ

یہ وہ زمانہ تھا جب ہر برس بڑی تعداد میں بلتی سارا سال لیہ آتے تھے۔ وریکو لکھتے ہیں کہ یہ بلتی اپنے ساتھ خوبانی، خوبانی کا تیل، مکھن، انگور، بادام، برتن، چائے کے برتن اور گرم کپڑے لاتے تھے۔ واپسی پر یہ لوگ لداخ سے انڈیا کی کاٹن، سونے اور چاندی کے دھاگے، چائے، یارکندی چمڑے کی مصنوعات وغیرہ اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔

’بلتستان سے ہر سال 400 سے 500 من خوبانی تبت پہنچتی تھی اور سنہ 1870 کے بعد یہ مقدار 1500 من ہو گئی تھی۔‘

بہت سے بلتی کچھ برسوں کے لیے مزدوری کرنے جموں، پنجاب یا یارکند (چینی ترکستان) تک بھی سفر کرتے تھے۔

وریکو نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ سنہ 1840 کی دہائی میں لداخ میں سالانہ ساڑھے سات لاکھ روپے کی تجارت ہوتی تھی۔

انھوں نے اپنے مضمون کا اختتام کرتے ہوئے خواہش کا اظہار کیا ہے کہ اس خوبصورت تاریخ کو یاد کرنے اور ان بھرپور رابطوں کو دوبارہ بحال کرنے کے بارے میں غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ’ایک بار پھر ہم اس طرح کے میل ملاپ سے فائدہ اٹھا سکیں‘۔

۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp