آپ عمران خان کی کون کونسی خوبی جھٹلاؤ گے!



عمران خان پاکستان کا وہ واحد لیڈر ہے جس کی خوبیاں آپ کو کسی دوسرے لیڈر میں نہیں ملے گی۔ وہ ایسے یکتا اور دانا لیڈر ہے کہ اس کا ثانی ڈھونڈنے سے نہیں ملے گا ان کی خوبیاں تو بیشمار ہیں کس کس خوبی کو ہم یاد کریں گے۔

جو سب سے اچھی خوبی ہے اور جس کی وجہ سے کافی پاکستانیوں نے بشمول خواتین نے ان کو دھڑا دھڑ سپورٹ کیا وہ یہ ہے کہ وہ ہینڈسم بڑا ہے۔ آپ باقی لیڈران پر نظر دوڑائیں کپتان جیسا ہینڈسم اور ینگ لوکینگ دوسرا کوئی نہیں۔ ہمیں اس سے کیا سروکار کہ انہوں نے مہنگائی اور بیروزگاری کتنی بڑھائی۔ سارا پاکستان بھوک سے مرجاوے تو مرجاوے، آٹا اور پٹرول ملے نہ ملے، دوائیں 300 % مہنگی ہو یا 400 % مگر خان ہینڈسم تو ہے۔

دوسری خوبی جس کی وجہ سے ہم ان کے مداح ہیں وہ یہ کہ وہ پرچی کے بغیر تقریر کرتا ہے۔ وہ گھنٹوں طویل تقریر بغیر پرچی کے کر سکتا ہے مگر پھر آپ نے ان کے الفاظ نہیں پکڑنے، جو منہ میں آیا وہ بول لیتا ہے۔ چاہے وہ پٹرول پانچ سو کا لیٹر کر دے ہمیں کیا، آٹا دس ہزار کی بوری ہو جائے تو کیا، گیس بجلی سب مہنگی ہو، لاکھوں لوگوں کا روزگار چھین لے کوئی ہمیں کوئی مسئلہ نہیں۔ وہ تقریر تو بغیر پرچی کے کر سکتا ہے۔ نواز شریف کی طرح نالائق تو نہیں ہے ہمارا کپتان۔

خان وعدے کا بڑا پکا ہے جو وعدے کیے سب آہستہ آہستہ پورے کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا تھا ان کو رولاؤں گا میں، چیخیں نکلواوں گا۔ تو اب انہوں نے بائیس کروڑ عوام کی چیخیں نکلوائیں ناں! ، انہوں نے کہا تھا غریب طبقے کو اوپر اٹھاوں گا۔ ابھی مہنگائی کرکے انہوں نے تو جانیں نکلوا دیے اور غریبوں کو تو ”اوپر“ اٹھا دیا ہے ناں! ۔ انہوں نے کہا تھا احتساب اپنوں سے شروع کروں گا۔ جہانگیر ترین کا احتساب کیا، اب وہ لندن میں مزے لوٹ رہا ہے۔ انہوں نے وعدہ تو پورا کیا ناں! تو پھر آپ کو اعتراض کس بات پر ہے؟

وارے آپ خان کی کون کون سی خوبی جھٹلاؤ گے! وہ جو بات کرتا ہے تو کرکے دکھاتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا شیخ رشید کو چپڑاسی بھی نہیں رکھوں گا تو انہوں نے وزیر بنوایا چپڑاسی تو نہیں بنایا! ۔ انہوں نے کہا تھا کہ میں میرٹ پر نوکریاں دوں گا۔ زرتاج گل اور مراد سعید ”میرٹ“ پر تو پورا اترتے ہیں ناں! ۔ تو آپ کو اس میں پریشانی کیا ہے؟

انہوں نے کہا تھا آئی ایم ایف کے پاس گیا تو خودکشی کروں گا تو اب اگر وہ خود خودکشی نہیں کرتا عوام کو تو خودکشی پر مجبور کیا ہے ناں!

دوسری بات انہوں نے کہا تھا آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا، اب خود تو نہیں گیا ہے کہ آپ لوگ اتنا شور مچا رہے ہیں بلکہ انہوں نے تو حفیظ شیخ کو بھیجا ہے ناں؟ انہوں نے کہا تھا کہ کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑون گا اور چھوڑا بھی تو نہیں سب لوٹوں اور کرپٹ سیاستدانوں کو اپنی پارٹی میں لے لیا۔

آپ لوگ بس خوامخواہ خان بیچارے کو نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا میں روزگار دوں گا، اب کم سے کم ریٹائرڈ جرنیلوں کو تو روزگار مل رہا ہے۔ اور انہوں نے کہا تھا نیا پاکستان بناؤں گا، اب بنایا تو ہے۔ اس نئے پاکستان میں پرانے پاکستان کی طرح فراوانی سے نہ پٹرول مل رہا ہے نہ چینی اور آٹا مل رہا ہے۔ نئے پاکستان کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ وہاں پر خوشحالی ہو، روزگار ہو، مہنگائی نہ ہو، معاشی برابری ہو۔ انہوں نے تو یہ کہا تھا کہ میں نیا پاکستان بناؤں گا، اب یہ غلطی تو تمہاری اپنی ہے کہ نئے پاکستان کو معاشی خوشحالی سے تعبیر کیا، نئے پاکستان سے مراد تو بربادی بھی ہو سکتی ہے، معاشی استحصال میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے، روزگار کا خاتمہ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ تو سوچ سوچ کی بات ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ میں پچاس لاکھ گھر بناؤں گا۔ آپ لوگ بڑے بھولے ہیں کہ سمجھ بیٹھے کہ شاید وہ اس دنیا کی گھروں کی بات کر رہا ہے دراصل وہ تو آپ کی آخرت والی گھروں کی بات کر رہا تھا۔ اتنی سفاک مہنگائی اور بیروزگاری لا کے وہ تو ہمارے آخرت والے مکان بنا رہا ہے اور آپ لوگوں کو آخرت بھیج رہا ہے لاکھوں لوگ ان کی دور حکومت میں بھوک سے مر کر آخرت میں مزے لوٹیں گے کیونکہ انہوں نے کہا تھا سکون صرف قبر میں ہے۔ تو اس طرح انہوں نے ایک اور وعدہ پورا کیا۔

ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان، خان جھکتا نہیں بکتا نہیں یہ ان کی خوبی ہے۔ جو بات خان ایک دفعہ کرتا ہے پھر وہ پیچھے ہٹنے والا نہیں، وہ کسی کے آگے ”نہیں“ جھکا اور ”نہ“ انہوں نے فوج سے اقتدار کی بھیک مانگی، انہوں نے کہا تھا پرویز الٰہی پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو ہے، ایم کیو ایم فاشسٹ پارٹی ہے ان سے اتحاد ممکن نہیں۔ اب اگر ان سے اتحاد کیا ہے، اس میں خان کا کیا قصور، اتحاد خان نے تو نہیں کیا ہے بلکہ ایم کیو ایم اور ق لیگ نے خود کیا ہوا ہے۔ اسی طرح خان نہ فوج کے سامنے جھکا، نہ مافیاز سے ہاتھ ملایا۔ انہوں نے کہا تھا سٹیٹس کو ختم کروں گا، اور سٹیٹس کو ختم کرتے ہوئے ٹکٹیں ساری اعظم سواتی، قریشی، خسرو بختیار، اور علی ترین جیسے غریبوں کو دلوائی۔

خان کی ایک اور خوبی یہ ہے وہ جو بھی بولتا ہے وہ سچ ثابت ہوتا ہے، انہوں نے کہا تھا جب حکمران چور ہو ڈاکو ہو تو ٹیکس بڑھاتا ہے۔ اور وہی ہوا آج ٹیکسز سب سے زیادہ بڑھ رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ انہوں نے کہا تھا جب اوپر ایماندار آدمی بیٹھا ہو تو لوگ ٹیکس دینا شروع کرتے ہیں تو اب جب وہ خود بیٹھا ہے تو اب ڈائرکٹ ٹیکس بڑھنے کی بجائے کم ہوئی ہے کیونکہ انہوں نے بولا تھا جب اوپر ایماندار آدمی ہو تو لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔ ورنہ نہیں دیتے ہیں۔

غرض آپ خان کی کون کون سی خوبی یعنی (یوٹرن) کو جھٹلاؤ گے، کس کس کارنامے پر بات کر سکو گے۔ ان کے کارنامہ ہائے عظیم تو بیشمار ہیں، وہ بادشاہ آدمی ہے جو منہ میں آیا بول دیا، ہم کس کس بات پر ان کو پکڑ لیں گے۔ ہم بے بس ہیں، کمزور ہیں، ناتواں ہیں۔

Facebook Comments HS