قوم کی ترقی اور عورتوں کی تعلیم پر منحصر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


تمام مذاہب نے عورتوں کو ایک الگ اہمیت دی ہے لیکن جو اہمیت اسلام نے دی ہے وہ سب سے جدا ہے

وہ عورت جس کے قدموں کے نیچے جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ آج اسی جنت کو اس سماج نے بہت بری طرح روندا اور کچلا ہے، آج عورتوں کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے کامیابی کے لئے امیری، غریبی معنی نہیں رکھتی ہے پختہ ارادہ اور مقصد اہم ہوتا ہے اور اس سے بھی زیادہ آپ کا اپنے آپ پر اعتماد ہونا ضروری ہے ایسے حالات میں مسلمانوں میں ایسی اونچی اڑان کی بہت سخت ضرورت ہے اور جہاں تک لڑکیوں کا سوال ہے انھی بھی کچھ لوگ ایسی ذہنیت کے ہیں جو لڑکیوں کو اعلی تعلیم دلانے سے کتراتے ہیں ان کا یہ ماننا ہے ہے کہ لڑکی ہے زیادہ پڑھ لکھ کر کیا کرے گی شادی بعد گھر کا ہی کام کرنا ہے بچوں کو سنبھالنا ہے بعض والدین سے بات کرکے یہ معلوم ہوا ہے کہ وہ لڑکیوں کو ابتدائی تعلیم تک کی محدود رکھتے ہیں جیسے لکھنا پڑھنا آ جائے تھوڑا بہت دین کی معلومات ہو جائے بہت ہے جبکہ قوم کی بقا کا دار و مدار ایک عورت پر منحصر ہوتا ہے ایک عورت ہی قوم و معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے اگر شروع سے دیکھا جائے تو قوم کی ترقی کی ابتدا تعلیم یافتہ عورت سے شروع ہوتی ہے قوم کی بہتری میں ایک ماں کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے جب گھر میں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی پہلی غذا ماں کا دودھ ہوتا ہے اور اس کے بعد بچے کی آگے کی پوری زندگی کا خاکہ ایک عورت پر ہی منحصر ہوتا ہے ہر گھر کا ایک ہی نظام ہوتا ہے متوسط ​​طبقہ کا کنبے کا اصول ہوتا ہے کہ مرد حضرات روزانہ صبح کام کی عرض سے گھر سے باہر جاتے ہیں اور پھر شام کو لوٹتے ہیں اس بیچ بچوں کی پوری ذمہ داری ایک ماں پر ہوتی ہے جب ہم اپنی لڑکیوں کو اعلی تعلیم دلوائیں گے اور وہ دینی اور دنیاوی دونوں علم سے لبریز ہوگی تو ظاہر ہے وہ اپنے اولاد کی بہتر پرورش پر زور دے گی بہتر تعلیم کے لئے ہمیشہ کوشاں رہے گی اکثر والدین میں کئی بات کا انکشاف ہوا ہے پہلا یہ کہ وہ لڑکیوں کو تعلیم سے اس لئے دور رکھتے ہیں کہ اسکول گھر سے دور ہے دوسرا یہ کہ ابتدائی تعلیم حاصل کرانے پڑھائی بند کرا دیتے ہیں کالج میں بھیجنے سے ڈرتے ہیں ان کو بدنامی کا ڈر ہوتا ہے کہ کہیں لڑکی بہک نہ جائے لیکن بات آکر پھر وہیں رک جاتی ہے کہ جب اس کو ماں کے ذریعہ ایک اچھی پرورش حاصل رہے گی تو وہ کوئی بھی غلط قدم اٹھانے سے پہلے دس بار سوچے گی لیکن ہم شروع سے ہی غلطی کر جاتے ہیں بچوں کو تو خوب پڑھاتے ہیں اور بچیوں کو یہ کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ وہ پرائے گھر جائے گی یہ تو سیدھا سیدھا خود غرضی ہے آپ لڑکوں کی اعلی تعلیم پر زور دیتے ہو کیونکہ وہ آپ کی خاندان کا نام روشن کرے لیکن آپ لڑکیوں کو نظر انداز اس وجہ سے کرتے ہو کیونکہ و شادی کرکے دوسرے کے گھر جائے گی لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ بچی کہیں بھی جائے گی اور اپنے بچوں کو تعلیم دے گی تو قوم کا ہی بھلا ہوگا

وسیمہ کے والدین جیسی سوچ آج سبھی والدین کی ہونی چاہیے بے لوث ہو کر اپنے بچیوں کو جہاں تک ہو سکے تعلیم دلوائیں جس ان کا تو مستقبل تو بہتر ہوگا ہی ساتھ میں معاشرے کا بھی سدھار ہوگا بہار کے ایک گاؤں کا سچہ واقعہ ہے جو خود میں نے تحقیق کیا تو میرے ہوش اڑ گئے یہ کہانی یوں ہے کہ گھر میں دو بھائی تھے ایک مولانا جو دینی تعلیم سے بھر پور تھے اور دوسرے بھائی دینی اور دنیاوی دونوں میں کم تھے دوسرے بھائی کی بچیوں کو مولانا نے صرف دینی تعلیم دلا کر آگے پڑھائی سے روک دیا بولا کہ یہ لڑکی ذات ہیں زیادہ پڑھ کر کیا کریں گی تھوڑا بہت دینی معلومات ہو جائے شادی بعد چولہا چکی چلانا ہے اور اپنے بچوں کو نماز روزہ کرالیں یہی کافی ہے کیونکہ کالج جائیں تو بگڑ جائیں گی ماحول خراب ہے کچھ الٹا سیدھا ہوگیا تو معاشرے میں آپ کی ناک کٹ جائے گے مطلب یہ ہوا کہ اپنے غیر تعلیم یافتہ بڑے بھائی کو اتنا ڈرا دیا کہ وہ اپنے بچیوں کی تعلیم کو روک دیا اور اس بات کو سالوں گزر گئے مولانا کی بھی شادی ہوئی ان کی اولادیں ہوئیں لیکن مولانا نے اپنی بچے اور خاص کر بچیوں کو اعلی تعلیم دلوا رہے ہیں گاؤں کے اس شخص کو آج پچھتاوا ہو رہا ہی کہ کاش میں اپنی عقل لگائی ہوتی تو آج میری بچی بھی اعلی تعلیم یافتہ ہوتیں، دینی تعلیم کی ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی بہت ضروری ہے اسے سرے سے خارج نہی کر سکتے آج ہمارے تعلیم کو لے کر بیداری کی بہت ضرورت ہے قومی سطح پر ایک مہم چلانا چاہیے کہ خاص کر بچیوں کو اعلی تعلیم دلوایا جائے یہ ہماری اور آپ سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنے آس پاس اس بات کا دھیان دیں کہ کیا آج بھی ہمارے معاشرے میں بچیوں کو تعلیم سے دور رکھا جا رہا ہے اگر ایسا ہے تو ہمیں ان کا سمجھانا ہوگا اس کے علاوہ یہ بھی پتا کرنا ہوگا کہ تعلیم سے محرومی کی وجہ مالی حالات تو نہیں کیونکہ بعض اوقات یہ بھی واقعات پیش آئیں ہیں کہ والدین کی مالی حالت ٹھیک نہ ہونے کہ وجہ سے وہ بچوں کو تو ٹھیک ٹھاک پڑھا لیتے ہیں لیکن بچیوں کو نظرانداز کرتے ہیں ہمیں چاہیے کہ ایسے والدین سے بات کرکے ان کو ایسی سماجی تنظمیوں کے پاس لے جائیں جو مفت تعلیم کا پورا ذمہ لیتی ہے ایسی بہت سی تنظمیں آج ہمارے معاشرے میں کام کر رہی ہیں جو اسکالرشپ کے ذریعہ مفت تعلیم کا انتظام کرواتی ہے ایسی تنظمیوں سے لوگوں کو آگاہ کام کرا کر بچیوں کو تعلیم سے ہمکنار کروائیں اور ایک بہتر معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کریں۔

بچیوں کے تعلیم کا ایک اور اہم فائدہ یہ ہے کہ وہ اپنے پیر پر کھڑی ہوجاتی ہیں سماج میں اپنے حق کے لئے لڑ سکتی ہیں حیدرآباد ایک سچا واقعہ میرے سامنے آیا جسے سن کر میں بہت سوچ میں پڑ گیا وہ یہ کہ والدین نے اپنی لڑکی کو ماسٹرس کی ڈگری تک تعلیم دلائی اور شادی کر دی لڑکی اپنے سسرال گئی اور اور اپنے شوہر کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے لگی گھر میں ایک لڑکا بھی پیدا ہوا اور سب معمول کی بطابق چل رہا تھا لیکن ایک منحوس دن ایسا آیا کہ گھر میں ماتم پھیل گیا ان کے شوہر کی حادثاتی موت ہوگئی موت کے بعد اس عورت کی زندگی میں بہت پریشانیاں آنا شروع ہوگئی لیکن یہ پریشانی زیادہ دن تک قائم نہیں رہی کیونکہ وہ لڑکی تعلیم یافتہ تھی اس نے قریب کے اسکول میں پڑھانا شروع کیا اور آج وہ اپنے پیر پر کھڑی ہے اپنے بچے کے بہتر مستقل کے لئے جدوجہد کر رہی ہے ایک شوہر کی کمی تو اس کو زندگی بھر رہے گی لیکن وہ اب زندگی بھر کسی کی محتاج نہیں رہے گی ایسے حالات میں آپ کے اپنے لوگ بھی آپ کو زیادہ دن تک بٹھا کر نہیں کھلا سکتے اسی لئے اپنی بچیوں کی تعلیم پر زور دینے کی ضرورت ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
علی اشہد اعظمی، اعظم گڑھ، ہندوستان کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *