گورنمنٹ ٹیکس، بھتہ اور بحریہ ٹاؤن کا شریفانہ غنڈہ ٹیکس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گورنمنٹ آف پاکستان ہر سال بجٹ میں ٹیکس ریٹ کا تعین کرتی ہے۔

اور یہ ٹیکس ریٹ وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ پاکستانی عوام کو کسی نہ کسی صورت میں ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً جنرل سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس وغیرہ ان میں سیلز ٹیکس جو عوام دواؤں سے لے کر ٹیلیفون کے بلز کے اوپر بھی ادا کرتا ہے۔ اور یہ ہر شہری پر فرض ہے۔

کراچی میں ایم کیو ایم کا دور حکومت تھا۔ شام کے وقت بھائی کے ساتھ سی انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینیجمنٹ اکاؤنٹنٹ آف پاکستان میں سیمینار میں شرکت کرنے کے بعد کیپری سنیما کے تنگ گلی میں خوش گپیوں میں مصروف اپنے منزل کی طرف رواں دواں تھے۔ پیچھے سے دو لڑکے آئے۔ ایک بائیک پر پسٹل ہماری طرف تانا اور دوسرا تلاشی لے کر جیبوں کا صفایا کر دیا۔ میں ایم اے جناح روڈ پہ دو بندوں کے کرائے کے لئے بھیک مانگتا رہا۔ لوگ کہتے رہے ہٹا کٹا آدمی شرم نہیں آتا بھیک مانگ رہا ہے۔

جب ہوش آیا شرٹ کے جیب میں ہاتھ ڈالا دو سو روپے نکل آئے۔ اللہ اللہ کر کے گھر پہنچ گئے۔ جو ہم سے چھین لیا گیا۔ یہ ڈکیتی تھی۔ اس کے علاوہ ایک بھتا ہوتا ہے جو ریٹ غنڈہ تعین کرتے ہیں ادا کرنا پڑتا ہے۔ ادا نہ کرنے کی صورت میں بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے۔

آج صبح بحریہ ٹاؤن سے میری بہت ہی قریبی عزیز کا پیغام موصول ہوا اور ساتھ 2019 کے بجلی کے بل کی تفصیلات منسلک تھی۔ تفصیلات کے مطابق 2019 کے بلز کی ادائیگی بھی پوری طرح ہوئی ہے۔ سال کا ایوریج چھ ہزار بنتا ہے۔ اور کوئی قابل ادائیگی رقم نہیں بنتی۔ اور اس کے علاوہ جنوری سے مارچ 2020 کا بل بھی ایوریج لگ بھگ 2000 کے حساب سے آیا ہے۔ لیکن اپریل کا بل دو بیڈ روم کا بغیر اے سی چلائے 50000 کا بل بھیجا ہے۔ جو سمجھ سے باہر ہے۔

میں اکاؤنٹ کے طالب علم کی حیثیت سے سوچ رہا ہوں کہ آخر اتنے پیسے کس چیز کے ادا کرنے ہیں۔ یہ کمرشل ایریا نہیں بلکہ رہائشی جگہ ہے۔ کسی بھی قسم کی مینوفیکچرنگ اپارٹمنٹ میں نہیں ہو رہی۔ یہ لوگ آٹھ سال سے بحریہ ٹاؤن میں رہائش پذیر ہے۔ اپنا سارا بلز وقت پر ادا کرتے ہیں۔ ایسی کوئی ادائیگی بنتی ہی نہیں ہے۔ کہیں شریفانہ غنڈہ ٹیکس تو نہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply