نفرت کی بھینٹ چڑھتی نئی نسل کا مستقبل

چترال اپر سے تعلق رکھنے والی انفلوئنسر ثنا یوسف کے قتل کے حوالے سے ملزم اور اس کیس سے متعلق کچھ ایسے حقائق سامنے آئے ہیں جو ہمارے معاشرے کو مستقبل میں مزید خونریز واقعات کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اس افسوسناک قتل کی مذمت کرنے اور انصاف کا مطالبہ کرنے کے بجائے، بعض حلقوں کی جانب سے اس واقعے پر ایسے جشن منائے جا رہے ہیں گویا ملزم نے کوئی نیک کام کیا ہو جس

Read more

برازیلین قصائی کا چترالی گاہک

ایک شخص جب دکان کھولتا ہے، اپنے گاہکوں کو متاثر کرنے کے لیے دکان کی آرائش کرتا ہے اور گاہکوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے مختلف اسکیمیں نکالتا ہے تاکہ کاروبار منافع بخش ہو، اور دکان کو بڑھانے کے لیے کوششیں کرتا ہے۔ اس سلسلے میں حکومتی ادارے بھی اس شہری کو مالی اور تکنیکی طور پر مدد فراہم کرتے ہیں عرب ممالک میں دنیا کے مختلف ممالک سے گوشت آتا ہے جن میں بھارت، پاکستان اور برازیل

Read more

محلے کا چودھری

ہم بچپن میں سنے تھے۔ گاؤں میں ایک آدمی ہوتا ہے۔ آدھی سے زیادہ یا پورا گاؤں اس کا جائیداد ہوتا ہے۔ گاؤں میں سیاہ و سفید کا مالک ہوتا ہے۔ اس کے کہے بغیر گاؤں میں کوئی پرندہ پر نہیں کر سکتا۔ اس کو چودھری، خان یا سائیں کہتے ہیں۔ گاؤں کے ہر معاملے پر اس سے مشاورت کی جاتی ہے۔ اس سے مشاورت اور اجازت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جاتا۔ چاہے معاملہ کتنا ہی چھوٹا کیوں

Read more

گورنمنٹ ٹیکس، بھتہ اور بحریہ ٹاؤن کا شریفانہ غنڈہ ٹیکس

گورنمنٹ آف پاکستان ہر سال بجٹ میں ٹیکس ریٹ کا تعین کرتی ہے۔

اور یہ ٹیکس ریٹ وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ پاکستانی عوام کو کسی نہ کسی صورت میں ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً جنرل سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس وغیرہ ان میں سیلز ٹیکس جو عوام دواؤں سے لے کر ٹیلیفون کے بلز کے اوپر بھی ادا کرتا ہے۔ اور یہ ہر شہری پر فرض ہے۔

Read more

آن لائن کلاسز اور چترال کے طلبا و طالبات کی مشکلات اور نمائندوں کا کردار

ہم لوگ ہمیشہ ہوا کے مخالف سمت چلنے کے عادی ہیں۔ پی ایم ایل این کے دور حکومت ہمارا ایم این اے مشرف کے پارٹی کا تھا اور باقی پی پی پی کے۔ خیر شہزادہ صاحب نے اپنی طرف سے چترالی قوم کی خدمت کرنے کی کافی حد تک کو شش کی۔ اور اس بار حکومت پی ٹی آئی کی ہم بے مولانا صاحبان کو منتخب کیا اور خان صاحب کی طرف سے ایک عدد وزیر زادہ جہیز میں ہمیں مل گیا، تاکہ چترالی نرالی قوم سے رابطہ منقطع نہ ہو۔ ہم نرالی قوم ہیں گورے مریخ میں میں پہنچ گئے ہم اب بھی پتلون کے خلاف احتجاج کرنے میں وقت ضائع کر رہے ہیں۔

Read more

میرا تعلق ضلع چترال سے ہے

ہم چترال کے باسی پر امن اور شریف ہوتے ہیں۔ شریف ایسے ہیں کہ اپنے حق کے لئے بھی نہیں بولتے۔ ویسے چترال میں اس وقت بھی امن تھا جس وقت پورے پاکستان میں قتل و غارت کا بازار گرم تھا۔ آئے روز دھماکے ہوتے تھے، دھماکوں کی کمینٹری ٹی وی چینلز پہ ایسی ہوتی تھی جیسا کہ ورلڈ کپ کا فائینل میچ چل رہا ہو۔ اس کے باؤجود چترال میں مسائل کی بھرمار اور وسائل کا فقدان ہے۔ چترال

Read more

مکس اچار سسٹم اور ٹھکیدار کی بیٹی

وایئرل ویڈیو میں جو دیکھایا گیا، وہ کسی فلمی سین اور کمانڈو ایکشن سے کم نہیں تھا۔ خیر شہری علاقوں میں ایسے کمانڈو ایکشن ہوتے رہتے ہیں۔ کمانڈوز کوئی خلائی مخلوق تھوڑی ہیں۔ جو بندہ اپنے فائلوں کو پہیہ لگاتا ہو۔ اس کے لئے اپنا کمانڈوز بھرتی کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ یہ بندہ تو ماہر نفسیات ہے لفافے کو دیکھ کر مضمون پڑھ لیتا ہے اور لفافے کے اندر مضمون، جاری ہونے والے آرڈرز، دستخط کرنے والے ہاتھوں،

Read more

آقا آپ عظیم ہیں، ظلم نہ کریں

ہم سب اپنے اپنے دنیا میں مگن تھے۔ ہمیں کون سا ایک دوسرے کی پرواہ تھی۔ ہم تو ایک دوسرے سے دوری اختیار کرنے، ملنا جلنا کم کرنے اور اپنے گھروں تک محدود رہنے کا بہانہ ڈھونڈ رہے تھے۔ کورونا آ گیا ہمیں ایک جاندار بہانہ مل گیا۔ ہم نے مادہ پرستی کو پیشہ ور اور انا پرستی کو خودی کا نام دیا۔ یہ سب گلے شکوے ہیں اب بولنے کا کیا فائدہ، اور رہی بات زمینی حقائق کی۔ اب

Read more

مولانا صاحب کے لئے ہمیں انصاف چاہیے

چترال میں دو قسم کے سیاسی رہنما پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ جو ترقی اور عوامی خدمت کے نام پہ ہمیں چونا لگا تے ہیں۔ ترقی تو ہم لوگ خبروں میں سنتے ہیں زمینی حقائق کچھ اور ہیں۔ خبروں، فیس بک اور پارٹی والوں کے نزدیک وادی چترال جنت کا نظارہ پیش کرتی ہے۔ حقیقت میں بائی روڈ بونی سے بروغل یا بونی سے گلگت کا سفر کرو گے آپ کو پتہ چل جائے گا کہ ترقی کی کون سی

Read more