ایک نجی ادارے کی حقیقت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں جوہر آباد ضلع خوشاب کے ایک نجی کالج میں انگریزی ادب کی طالب علم ہوں۔ جہاں ٹرم سسٹم کا نظام فائز ہے۔ یہ ادارہ یونیورسٹی آف سرگودھا کے ساتھ منسلک ہے۔ انٹرمیڈیٹ (پری میڈیکل) میں فرسٹ ڈویژن لینے کے بعد ہر طالب علم کی طرح میں بھی کسی اچھے ادارے سے میڈیکل سائنس کی تعلیم جاری رکھنا چاہتی تھی مگر خاندان والوں کی باتوں اور سوچ نے میرے گھر والوں کو مجبور کر دیا کہ میں اپنے شہر میں ہی پڑھوں، عورت ذات کا باہر جانا مناسب نہیں ہوتا۔

خیر مجبور ہو کر مجھے اپنی خواہشات کو مارنا پڑا اور علاقے کے ایک نامور کالج میں داخلہ لے لیا۔ اس ادارے کے سڑکوں پر لگے بڑے بڑے پینا فلیکس اور ادارے کی تشہیر کرتے ہوئے بڑے بڑے دعوے، جیسا کہ کوالیفائڈ فیکلٹی، سیکیور ماحول، اور بہتر مستقبل کے مواقع اور ٹاپ کرنے والے کو گاڑی کا انعام وغیرہ نے مجھے بھی خوش کر دیا کہ شاید میرے گھر والوں کا انتخاب درست تھا۔ مگر گزرتے وقت کے ساتھ سارے دعوے جھوٹ ثابت ہونے لگے۔

چار سال کی اس ڈگری میں 16 فیس کی انسٹالمنٹس جمع کروانی ہوتی لیکن ان کی 16 نا جانے کب پوری ہوں گی خدا جانے۔ کوالیفائڈ فیکلٹی کے نام پر ایسے اساتذہ جن میں سے اکثر کو انگریزی گرائمر بھی نہیں آتی۔ اس کے علاوہ سٹوڈنٹس کو لوٹنے کے لیے کبھی یونیورسٹی فنڈ اور کبھی کلچرل فیسٹیول کے نام پے پیسے مانگے جاتے۔ پارٹیز میں الگ پیسے بٹورے جاتے۔ پھر پرنسپل کی خوشامد کرنے کے لیے پھولوں کے بوکے اور کیک منگوائے جاتے اور انوی ٹیشن کے لیے کارڈز بنوائے جاتے۔

داخلے کے وقت اے سی رومز کا دعوی کیا جاتا ہے مگر گرمی میں اے سی ہمیشہ خراب کر دیا جاتا ہے۔ شکایات کے لیے پرنسپل آفس جاتے تو جھوٹی تسلیاں دے دی جاتی۔ پانی کا ایک کولر رکھا جاتا جس میں کیڑے تیر رہے ہوتے۔ ایک دفعہ چھپ کر کیڑوں کی تصویر بنا کر کالج کے وائس پرنسپل کو دکھائی تو الٹا مجھے ہی ڈانٹ دیا گیا کہ کالج میں موبائل کیوں لے کر آئی۔ اب ان کو کیا خبر کی ہم یونیورسٹی کی کلاسیں لے رہے اکثر دن میں نوکریاں کرتے ہیں اور شام میں کالج آتے ہیں تو موبائل ضروری ہے۔

خیر بات ابھی ختم نہیں ہوئی، کلاس رومز کے باہر ٹھرکی پہرے دار بٹھائے جاتے جن کو آفس بوائز کہا جاتا ہے، ان کا کام صرف آتی جاتی لڑکیوں کو گھورنا اور پل پل کی خبر پرنسپل کو دینا ہوتا ہے۔ ایک استاد کی میں شکر گزار ہوں اور شاید ہماری پوری کلاس شکر گزار رہے گی، کچھ عرصے کے لیے ہمیں پڑھانے آئے اور شاید پڑھانے کا حق ادا کر دیا۔ پہلے پہل تو ان کے بارے میں بھی یہی لگتا تھا کہ فضول میں وقت برباد کر رہے ہمارے کورس سے ہٹ کر بہت کچھ پڑھا رہے لیکن بعد میں اندازہ ہوا کہ وہ تو ہمیں وہ سب پڑھا رہے جو ایک ادب کے سٹوڈنٹ کو پڑھنا چاہیے۔

ادارے سے تنگ آ کر انہوں نے بھی ادارے کو چھوڑ دیا۔ اور ان کے جانے کے بعد آنے والے سمیسٹر میں ہمیں اندازہ ہو گیا کہ جو ہم اب پڑھنے جا رہے وہ تو باتوں باتوں میں وہ استاد ہمیں بہت پہلے پڑھا کر چلے گئے۔ رزلٹ آیا تو ان کا سبجیکٹ ہائی سکورنگ رہا کیونکہ پیپر تو سرگودھا یونیورسٹی والے خود چیک کرتے تھے۔ تو یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ ان کا پڑھایا ہوا فضول نہ تھا۔ اس طرح کچھ اور استاد بھی بہت اچھے ہیں اور کچھ تو ایسے جن کو استاد کہنا بھی توہین ہو گی۔

بچیوں کو کلاس کے بعد روکنا، فیس بک اور انسٹاگرام پر ریکویسٹ بھیجنا، اپنی فیمیل سٹوڈنٹس کا نمبر مانگنا اور گندی نظروں سے کلاس میں دیکھنا ان کی فطرت میں شامل ہے۔ اور ایسے اساتذہ سے بھی کالج کی انتظامیہ بے خبر نہیں ہے بلکہ جانتے ہوئے بھی ان کی پردہ پوشی کی جاتی ہے۔ اکثر اساتذہ کو وقت پر تنخواہ نہیں دی جاتی اور ابھی کچھ دن پہلے اسی وجہ سے ایک اور استاد بھی کالج سے رخصت ہو گئے کیونکہ انہوں نے اپنے حق کی آواز اٹھائی۔

مجھے معلوم ہے کہ آج یہ سب راز فاش کرنے کے بعد شاید کالج والوں کی طرف سے میرے خلاف ایکشن لیا جائے یا شاید گھر والے بھی یہ بولیں کے تم چھوڑو جیسا چل رہا چلنے دو، کیونکہ میرا تو الحمدللہ کالج میں آخری سال ہے۔ میرے لکھنے کا مقصد میرے بعد آنے والوں کی رہنمائی کرنا ہے۔ ہر سال نئے آنے والے سٹوڈنٹس کو موٹیویٹ کرنے کے لیے ہمیں سامنے کیا جاتا ہے لیکن آج میں یہ لکھنے پر مجبور ہوں کہ مستقبل خراب کرنے میں کالج نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
نمرہ شکور کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *