پاناما، او آیا اپنا شہزادہ


\"wisi-baba\"

لوگوں کا حق ہے کہ ان تک آف دی ریکارڈ بات بھی کسی نہ کسی طرح پہنچا دی جائے۔ ہم تو اپنی کہہ کر فارغ ہو گئے۔ اس تربیتی اجلاس میں غدر مچ گیا۔ کئی سینئیر لوگوں نے آف دی ریکارڈ باتوں کو راز رکھنے پر ہی اصرار کیا۔ اک سینئیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان چھوکروں کو یہ نہیں پتہ کہ راز رکھنا کتنا اہم ہے۔ ہم نے نوٹ کر لیا تھا کہ ہماری بات سن کراستاد کو بے طرح پیار آیا اپنے رنگروٹ شاگرد پر۔

ہمارے استاد بھی کمال ہیں۔ وطن عزیز کے دو چار اچھے کورٹ رپوٹروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ہمارے اپنے خیال میں نمبر ون ہیں۔ آئین قانون کی بات کرتے رہتے ہیں۔ شاگردوں پر تپ جاتے ہیں کہ آئین کیوں یاد نہیں ہے۔ قوانین کا رٹا کیوں نہیں لگا رکھا۔ خبر کو لوگوں کا حق سمجھتے ہیں۔ خبر کے لئے کچھ بھی کرے گا والا حال ہے۔ ان کی لکھی خبر بھی پڑھنے والی ہوتی ہے۔ ہراینگل کور کرتے ہیں۔ اپنی صحافی برادری کے خلاف خبریں لگا لگا کر ان کا بھی ناک میں دم کرتے رہے ہیں۔

ہمارے ساتھ کافی ستھری ہوئی تھی۔ وقفہ ہوا تو استاد محترم چائے کا کپ پکڑے ہمارے پاس آ گئے۔ کچھ دیر دیکھتے رہنے کے بعد کہا کہ تم نے ٹھیک بات کی۔ ایسے ہی کرنا چاہیے خبر پر پہلا حق قاری کا ہی ہے۔ تمھیں ہیلی کاپٹر کیس کا پتہ ہے۔ یاد آ گیا کہ نوازشریف نے جب ڈکٹیشن نہیں لوں گا والی تقریر کی تھی۔ اس کے بعد بحال ہو کر اپنے ساتھ اس وقت کے صدر کو بھی لے ڈوبے تھے۔ پھر انیس سو ترانوے میں جو الیکشن ہوئے ان میں اپنی مہم ہیلی کاپٹر پر چلائی تھی۔

\"nawaz-sharif\"

کہاں سے آیا ہے یہ ہیلی کاپٹر؟ کس نے دیا ہے یہ ہیلی کاپٹر؟ کس کا ہے یہ ہیلی کاپٹر؟ وغیرہ وغیرہ کے سوالات کے ساتھ نوازشریف کو عدالتوں میں گھسیٹ لیا گیا تھا۔ اسی کیس میں مشرف دور میں نوازشریف کو سزا بھی ہوئی۔ آج کل اس کیس سے بھی وہ بری ہو چکے ہیں، ظاہر ہے اللہ کے فضل و کرم سے۔

استاد محترم نے یاد دلایا تو سب یاد آ گیا۔ انہیں بتایا تو انہوں نے کہا اس کیس کو کور کرنے میں عدالت جایا کرتا تھا۔ شاید سپریم کورٹ یا پھر ہائی کورٹ اب یاد نہیں ہے۔ استاد کچھ زیادہ ہی نظریاتی ہیں تجربے کرنے کا بھی انہیں بڑا شوق ہے۔ ایک دن اسی کیس کی سماعت دیکھنے وہ عدالت گئے۔ صحافیوں کے لئے مخصوص نشستوں کی بجائے جا کر عوام میں بیٹھ گئے۔

جج صاحب جج تو تھے ہی لیکن طبعیت جیمز بانڈ والی ہی پائی تھی۔ عدالت میں رش بہت کم تھا تو نوازشریف کے وکیل سے کہتے ہیں کہ یار چھوڑ کیس کو، چل آف دی ریکارڈ بتا یہ ہیلی کاپٹر آیا کدھر سے۔ وکیل نے ادھر ادھر دیکھا اور کہا مائی لارڈ قطر کے شہزادے نے دیا ہے۔ جج صاحب کے اندر موجود جیمز بانڈ کو سکون آ گیا۔ جج اور وکیل صاحب نے خوشی، مسرت، جوش، جذبے وغیرہ سے کورٹ روم پر ایک فاتحانہ نگاہ ڈالی تو وکیل کی چیک (چیخ) نکل گئی جب اس نے استاد محترم کو عوامی نشستوں پر تشریف دھرے دیکھا۔

\"nawaz-sharif-helicopter-1993\"

مر گئے مائی لارڈ ان کو روکیں کہیں خبر نہ چلا دیں۔ جج صاحب استاد محترم کو کٹہرے میں بلا لیا اور پوچھا اوتھے کیوں بیٹھا سی یعنی وہاں کیوں بیٹھے تھے۔ یہ آف دی ریکارڈ ہے اس کی خبر نہیں لگانی سمجھ آئی۔ استاد محترم کو آئین ہی زبانی یاد نہیں ہے قانون بھی حفظ ہے۔ انہوں نے نہائت اطمینان سے فرمایا۔ مائی لارڈ میں اس خبر کو عدالت کے تناظر میں رپورٹ نہیں کروں گا۔ یعنی استاد محترم نے کہا خبر تو اب آئے گی لیکن یہ نہیں بتاؤں گا کہ ملی کدھر سے ہے۔ پھر یہی ہوا۔

بیس سال پرانی بات ہے ہیلی کاپٹر کو آئے پچیس سال ہونے کو آئے۔ قطر کے شہزادے کا ذکر تب بھی آیا تھا۔ تو صاحبو تعلقات پرانے ہیں۔ پاناما کیس تو اب گیا کھو کھاتے۔ اس لئے بھی گیا کہ معزز عدالت نے کپتان اینڈ کو سے کل پوچھا ہے کہ یہ جو اتنی ردی بطور ثبوت جمع کرائی ہے اس کا پاناما کیس سے دور دور تک کوئی تعلق کیوں نہیں دکھائی دیتا ہے؟

اب قطری شہزادہ پھر آ گیا ہے۔ اپنے کپتان کے مداح سمندری سونامی شیروں سے یہ کہنا ہے کہ جہاں اتنی ردی عدالت میں بطور ثبوت جمع کرائی ہے وہاں اب یہ بلاگ بھی جمع کرا دیں تاکہ جج حضرات وہیں عدالت میں ہی سب کو لمبا لٹا لیں۔

Facebook Comments HS

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 407 posts and counting.See all posts by wisi