کام کے وقت کھیل اور کھیل کے وقت کام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زمانہ قدیم سے ماہرین تعلیم اور ماہرین نفسیات اس بات پر متفق ہیں کہ اچھا شہری بننے کے لئے بچوں کو صرف دو کام کرنے چاہئیں یعنی انہیں جی بھر کر کھیلنا کودنا چاہیے اور انہیں اچھی تعلیم حاصل کرنے کے لئے خوب پڑھنا چاہیے۔ بچوں کی یہی دو سرگرمیاں انہیں تنومند اور زیور تعلیم سے آراستہ شہری بناتی ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ والدین، اساتذہ اور معاشرہ ان کی بھرپور رہنمائی اور مدد کرے یعنی پڑھائی کے لئے اچھا ماحول اور کھیل کود کے لئے مناسب میدان اور کھیلوں کا سامان مہیا کیا جانا چاہیے۔

اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بچے کے ذہن میں یہ بات جاگزیں کروانی چاہیے کہ انہیں پڑھائی کے وقت پڑھائی اور کھیل کے وقت کھیلنا چاہیے۔ اس خیال کو بچوں کے ذہن میں سمونے کے لئے ہمارے وقت میں تیسری جماعت کے بچوں کے لئے اردو کے ایک سبق میں یہ فقرہ شامل کیا گیا تھا کہ ”ہم کام کے وقت کام کرتے ہیں اور کھیل کے وقت کھیلتے ہیں“ ۔

ہر سال مارچ کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں بچوں کے سالانہ امتحانات ہوتے تھے۔ انسپکٹر صاحب نے آج ہمارے سکول کے بچوں کا امتحان لینا تھا۔ امتحان لینے کا طریقہ انسپکٹر صاحب کی صوابدید پر ہوتا تھا لیکن اکثر وہ پوری کلاس کو حساب کا کوئی سوال حل کرنے کے لئے دیتے تھے یا انگریزی اور اردو کی املاء کے لئے ایک آدھ فقرہ لکھنے کو کہتے تھے یا کتاب کھول کر بچوں سے ریڈنگ کرواتے تھے۔ اسی دن کے لئے اساتذہ سارا سال امتحان کے یہ نازک لمحات یاد دلا دلا کر کبھی دانت پیستے اور کبھی ڈنڈا لہرا کر بچوں کو پڑھنے کی تلقین کرتے۔

انسپکٹر صاحب نے کتاب کھولی ہوئی تھی اور بچوں سے ایک ایک کر کے اردو کی کتاب سے پڑھنے کا کہہ رہے تھے۔ یہ ناچیز کیونکہ گزشتہ دو سالوں سے تیسری جماعت ہی میں تھا اس لئے اس مرتبہ پڑھنے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آئی۔ میرے بعد جس لڑکے کی باری تھی اسے پڑھنے کے لئے وہی فقرہ ملا یعنی ”ہم کام کے وقت کام کرتے ہیں اور کھیل کے وقت کھیلتے ہیں“ لیکن شاید امتحان کے پریشر کی وجہ سے یا رٹے میں غلطی کی وجہ سے اس نے اس فقرے کو باآواز بلنا پڑھا کہ ”ہم کام کے وقت کھیلتے ہیں اور کھیل کے وقت کام کرتے ہیں“ ۔

انسپکٹر صاحب نے اپنا شک دور کرنے کے لئے اسے پھر زور سے پڑھنے کو کہا اور پھر تیسری مرتبہ اس سے بھی زیادہ بلند آواز سے پڑھنے کو کہا لیکن بچے نے تہیہ کیا ہوا تھا کہ آج ہی ”پورا سچ“ بیان کرنا ہے اور اس نے ہر بار یہی کہا کہ ہم کام کے وقت کھیلتے ہیں اور کھیل کے وقت کام کرتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ ایک بچے کی معصوم سی چھوٹی غلطی تھی لیکن اب مجھے لگ رہا ہے کہ اس بچے نے سچ کہا تھا کیونکہ ہماری چال ڈھال اور ترتیب ہر چھوٹے بڑے کام میں نہ صرف الٹی بلکہ بے ڈھنگی بھی ہے۔

اس الٹی اور بے ڈھنگی چال کی بے شمار مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ مثلاً ہم دو منٹ میں اپنے خود ساختہ معیار پر اپنے جیسے انسانوں کو پرکھ کر انہیں اچھے اور برے میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ قوم کا ہر فرد جلد سے جلد دوسروں کی اصلاح کرنا چاہتا ہے لیکن اپنی اصلاح کی اسے کوئی فکر نہیں یعنی ”اسرار اگر سمجھے دنیا کی ہر اک شے کے / خود اپنی حقیقت سے یہ بے خبری کیوں ہے؟“ ۔ دوسروں سے شکایت کہ وہ انصاف سے کام نہیں لیتے لیکن جہاں ممکن ہو ہر شخص خود بھی نا انصافی سے نہیں چوکتا۔

محفل میں چپ رہنا بھی بڑا کام ہے لیکن ہم سارا سارا دن فضول بولتے رہتے ہیں۔ ہمیں باقاعدہ ایک جانور کا نام لے کر بتایا گیا ہے کہ اونچی آواز میں بولنے والے شخص کی مثال اس جیسی ہے لیکن ہم پھر بھی یہ حرکت کرتے ہیں۔ ہم جتنے مرضی بچے پیدا کرنا چاہیں کریں لیکن ہمیں ان کی خواندگی کا بھی بندوبست کرنا چاہیے کیونکہ ہم گزشتہ باسٹھ سالوں میں خواندگی میں بمشکل تین اعشاریہ دو فیصد اضافہ کر سکے ہیں۔ ہمارا ایک سیاست دان دعویٰ کرتا ہے کہ ہم ترقی کرتے ہوئے عظیم قوم بن سکتے ہیں لیکن اسی کے دور حکومت میں گزشتہ اٹھائیس دن سے پیٹرول نایاب ہے۔

کیا ہمیں احساس نہیں کہ کسی فرد کا ایک گھنٹہ کام کتنی اہمیت رکھتا ہے۔ اس طرح گزشتہ ایک ماہ میں انسانی کام کے کروڑوں گھنٹے (Man hours) ضائع ہو گئے ہیں۔ جدید دنیا میں قوموں کی عظمت اور ترقی کا انحصار کام اور محنت سے جڑا ہے۔ اس سے پہلے ہمیں روٹی، کپڑا، مکان اور ایشین ٹائیگر بننے کے خواب دکھائے گئے تھے۔ ایک دوسری پارٹی کے سربراہ نے کہا تھا کہ پاکستان سوئٹزرلینڈ بن سکتا ہے لیکن کیا اسے علم نہیں کہ جس حلقے سے اسے عوام گزشتہ پچاس سال سے ووٹ دیتے آ رہے ہیں وہاں تعلیم کی کیا حالت ہے۔

عوام ہر بار حکمرانوں سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔ اگر سیاسی پارٹیاں یا کوئی غیر منتخب حکمران عوام سے یہ وعدہ کرے کہ وہ ان کے لئے دہی سے دودھ بنا کر دے گا تو عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اندازہ کریں کہ کیا ایسا کرنا ممکن ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ دھوکا کھائے ہوئے انسان کو ناراض رہنے کا کوئی حق نہیں لیکن ہم بار بار دھوکہ کھانے کی شکایت کرتے ہیں۔ حکمرانوں کی مجبوری ہے کہ وہ اپنی کارکردگی بڑھا چڑھا کر پیش کریں لیکن یہ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اندازہ لگائیں کہ کہیں ”شہر آشوب زدہ اس پہ قصیدہ گوئی“ والا معاملہ تو نہیں لیکن اس کے لیے لازمی ہے کہ حکومت وقت کو کام کرنے کا مکمل موقع ملنا چاہیے۔

تاہم سر دست جو بات ہو رہی ہے وہ من حیث القوم ہمارا رویہ ہے۔ بے جا تنقید ہرگز مقصود نہیں لیکن اگر ہم اپنی بعض معمولی عادات پر نظر ثانی کریں تو خود ہمیں فائدہ ہو گا مثلاً دو افراد کے درمیان کاروباری معاملات کو دستاویزی شکل دے کر پیچیدگیوں سے باآسانی بچا جاسکتا ہے۔ اسی طرح انتہائی چھوٹے معاملات مثلاً درزی یا ٹی وی مکینک کی طرف سے طے شدہ ڈیلیوری ڈیٹ کی انہیں پاسداری کرنی چاہیے جس کا وہ بالکل خیال نہیں رکھتے۔

آج کا سب سے بڑا اور پیچیدہ مسئلہ پیسے کا لالچ ہے۔ کون نہیں جانتا کہ پیسے کی ترغیب اور لالچ ہم سے ہر جائز و ناجائز کام کروا جاتی ہے۔ ہم سب اس محاذ پر اس شاعر کی طرح باآسانی ڈھیر ہو جاتے ہیں جو کہتا ہے کہ ”ایمان میں ڈالے ہے خلل تیری جوانی“ ۔ میرے کلاس فیلو نے بچپن میں معصومیت میں کام اور کھیل کے درمیان ربط کی ترتیب غلط بیان کر دی تھی لیکن ہم نے وہی غلط ترتیب بہت سے معاملات میں دانستہ، بہ رضا و رغبت اور بہ قائمی ہوش و حواس اپنالی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *