سو عظیم کتابیں اور قرآن مجید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہا جاتا ہے کہ دو قسم کے لوگوں کی طلب کبھی پوری نہیں ہو سکتی ایک علم کے طالب کی اور دوسرے دنیا کے طالب کی۔ سرگودھا یونیورسٹی کی لائبریری میں ( جس سے مجھے ہمیشہ گلہ رہا کہ اس میں اعلیٰ پائے کی کتابیں بہت کم ملتی ہے ) میں نے مارٹن سیمورسمتھ کی کتاب ”سو عظیم کتابیں“ دیکھی جسے یاسر جواد نے ترجمہ کیا ہے۔

528 صفحات پر مشتمل اس کتاب کے بارے میں مترجم یاسر جواد کا کہنا ہے کہ یہ کتاب خود بھی 100 موثر ترین کتابوں کی کسی فہرست میں شامل ہو سکتی ہے۔ کتاب اٹھا کے میں ٹیبل کے پاس بیٹھ گیا اتنے میں ایک کلاس فیلو قاسم بھی آ کر پاس بیٹھ گیا۔ اس نے کتاب دیکھی اور پوچھا کیا اس میں قرآن کریم بھی شامل ہے۔ میں نے فہرست پر ایک سرسری سی نگاہ ڈالی تھی تو مجھے قرآن پاک کا نام نظر نہیں آیا تھا۔ اس لئے میں نے کہہ دیا نہیں اس میں قرآن پاک شامل نہیں ہے۔

مجھے لگا تھا کہ یہ انسانوں کی لکھی گئی کتابوں کی فہرست ہوگی۔ مگر ایک سوال میرے ذہن میں گونجتا رہا کہ آخر قرآن کو موثر ترین اور عظیم کتابوں کی فہرست میں شامل کیوں نہیں کیا گیا۔ جب میں نے کتاب پڑھنی شروع کی تو اس نے جب ”عہد نامہ قدیم“ ”عہد نامہ جدید“ اور ”انجیل“ کا تذکرہ آیا تو میں نے کہا کہ مصنف نے تعصب سے کام لیا ہے جس کی وجہ سے اس نے قرآن کو اس فہرست میں شامل نہیں کیا۔ مگر پڑھتے پڑھتے اچانک چھبیسویں ( 26 ) نمبر پر قرآن پاک کا نام لکھا جگمگا رہا تھا۔

تب مجھے اصل بات کی سمجھ آئی کہ مصنف نے کتابوں کی اہمیت اور عظمت کی بنیاد پر ترتیب دینے کے بجائے ان کو لکھے جانے کے وقت اور عہد کے مطابق ترتیب دیا ہے۔ جس میں قبل از مسیح اور بعد از مسیح منظر عام پر آنے والی عظیم کتابوں کو وقت کے لحاظ سے ترتیب دیا گیا ہے۔ دراصل میرے ذہن میں مائیکل ہارٹ کی کتاب ”سو عظیم آدمی“ تھی جس میں مصنف نے انتہائی ایمانداری اور دلیری سے حضرت محمد کو سرفہرست رکھا ہے۔ میرا خیال تھا کہ کتابوں کے اس مجموعے میں بھی قرآن سر فہرست ہونا چاہیے۔

مگر دونوں مصنفوں کے پیمانے میں فرق ہے۔ مائیکل ہارٹ نے اثرپذیری اور اہمیت کی بنیاد پر فہرست بنائی ہے۔ جب کہ مارٹن سیمورسمتھ نے وقت کے حساب سے فہرست ترتیب دی ہے۔ جب میں نے قرآن کریم کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تو مجھے احساس ہوا کہ مصنف نے پوری ایمانداری اور سچائی سے قرآن پاک کے بارے میں لکھا ہے۔ مجھے کسی بغض یا تعصب کا گمان بھی نہ گزرا۔ مارٹن سیمورسمتھ نے کتاب میں حضرت محمد اور قرآن کے بارے میں مختصر خاکہ بیان کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ”یقین کیا جاتا ہے کہ حضرت محمد کے وقت سے لے کر اب تک قرآن کے ایک حرف میں بھی تحریف یا ترمیم نہیں ہوئی“

مصنف لکھتا ہے کہ مولانا جلال الدین رومی کی شاعری نے اور حضرت محمد پر ان کے یقین نے غیر مسلموں کو بھی آپ کی نبوت کا قائل کیا ہے۔ مزید مارٹن حضرت رومی کو تاریخ کے سات عظیم شعراء ( بشمول ہومر، شیکسپیئر اور دانتے ) میں شمار کرتا ہے۔ لیکن میرے ہاتھ میں آنے کے بعد ادھوری رہ جانے والی چند کتابوں میں اس کتاب کا بھی شمار کیا جائے گا۔ کیوں کہ یہ کتاب مجھے کچھ بہت زیادہ متاثر نہیں کر سکی۔ مجھے ”احمد عقیل روبی“ کی تصنیف کردہ کتاب ”علم و دانش کے معمار“ اس سے زیادہ بہتر معلوم ہوئی تھی۔

مگر اس میں سو سے کم لوگوں کی کتابوں کو شامل کیا گیا تھا۔ ایک واقعہ سنیے ایک دن سر حسن رضا نے کلاس میں پوچھا کہ سردیوں کی چھٹیوں میں آپ لوگوں کے کیا پلان ہیں۔ کسی نے کہا وہ سیر کو جائے گا، کسی نے کہا وہ کھیلے گا، کسی نے کہا وہ فلمیں دیکھے گا میں نے کہا میں کتابیں پڑھوں گا۔ سر نے پوچھا کون کون سی کتابیں۔ میں نے بتایا کہ میکسم گورکی کے افسانے اور قرۃ العین حیدر کے افسانے ”شیشے کے گھر“ ۔ سر نے کہا اللہ کے بندے قرۃ العین حیدر کو کدھر اٹھا لیا۔

میں نے قرۃ العین حیدر کے ناول ”آگ کا دریا“ کا بڑا تذکرہ سنا تھا مگر ابھی تک پڑھنے کا اتفاق نہ ہوا تھا۔ مگر ”شیشے کے گھر“ پہ قرۃالعین حیدر کا نام دیکھ کر میں نے سوچا پہلے یہ پڑھی جائے پھر ”آگ کا دریا“ ۔ مگر جب میں نے ”شیشے کے گھر“ کتاب پڑھنی شروع کی تو مجھے سمجھ آئی کہ سر نے کیوں کہا تھا اوئے اللہ کے بندے یہ کیوں اٹھا لی۔ مجھے اس کتاب کے افسانوں کی خاک بھی سمجھ نہ آئی۔ اور وہ میں نے ادھوری چھوڑ دی۔ اور اسی ڈر کی وجہ سے میں ”آگ کے دریا“ میں کودنے سے بھی ڈر رہا ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *