بڑھاپے کے جنسی مسائل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں یہاں کسی حکیم کا نسخہ بیان کرنے والا نہیں اور نہ ہی کسی ایلوپیتھک دوائی کا ذکر کرنے والا ہوں چنانچہ جو یہ سوچ کر مضمون پڑھنے لگے ہیں ان کو مایوسی ہوگی۔

ہمارے معاشرے میں اکثر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں اور ان واقعات میں زیادہ تر بڑے عمر کے افراد چھوٹے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب پائے گئے کیونکہ بچے ان کے لیے آسان شکار ہوتے ہیں۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ بڑے عمر کے افراد بچوں کو زیادتی کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ کیا یہ کوئی نفسیاتی مسئلہ ہے ان کے لیے یا کچھ اور ہے؟

اگر ہم اپنے معاشرے میں بڑے عمر کے افراد کی زندگی کا جائزہ لیں تو ہمیں اندازہ ہو جائے گا کہ ان کی زندگی کس طرح حقیقت سے دور صرف دکھاوے کی زندگی جینے میں مشغول لگے گی۔ جوانی میں جو طبیعت میں رنگینی ہوتی تھی وہ حلیہ بدل جانے سے ختم نہیں ہوتی، فطرت کے ٹریک کو زبردستی بدلنے سے جو معاشرتی دباؤ کو مسلسل برداشت کر رہا ہوتا ہے وہ آخر کار اپنا توازن کھو دیتا ہے جس کی وجہ سے وہ مسلسل موقع کی تلاش میں رہتا ہے اور جس دن ان کو موقع مل جاتا ہے تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا جو ہم دیکھ رہے ہیں۔

ہمارے یہاں ایسے سمجھا جاتا ہے جیسے بڑے عمر کے لوگوں کو جنسی ضرورت ہوتی ہی نہیں ہے۔ اگر کوئی جنسی تسکین کے لیے صحیح ذرائع ڈھونڈنے کی تگ ودو میں پایا جاتا ملے گا (جو اتنا آسان بھی نہیں) تو معاشرے کی جانب سے اسے بہت ہی برا اور ذلیل سمجھا جائے گا۔ ویسے تو جنسی تسکین کے ذرائع ڈھونڈنا نوجوانوں کے لیے بھی آسان نہیں۔

بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کو روکنے کے لیے ایسے ذرائع ہونے چاہئیں جہاں جس کا دل چاہے وہ اپنی جنسی ضروریات کو محفوظ طریقے سے پورا کر سکے۔ معاشرے کی اقدار کو اکیسویں صدی کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے، تفریحی مقامات کو جدید دور کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے، ملائشیا، ترکی، اور مالدیپ کے طرز پر ہمیں بھی تفریحی مقامات کو بہت سی ایکٹیوٹیز سے استثنا دینا ہو گا۔

ہوا میں پیلے پتے بھی ویسے ہی جھومتے ہیں جیسے کہ ہرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ارشد علی بلوچ کی دیگر تحریریں

Leave a Reply