کیا ہم ایک ایجنڈا آگے لے جا رہے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس دن ورلڈ ہیلتھ ارگنائزیشن نے کورونا وائرس سے پھیلنے والے بیماری کو وبا قراد دی اس روز سے ایسے سازشی آراء سامنے آرہے ہیں جس سے ایک عام آدمی پریشان اور تذبذب کا شکار ہے۔

ایک دن پشاور میں اپنے فلیٹ کے کمرے میں بیٹھا تھا پولیس آ گیا۔ میں حیران بھی ہوگیا اور پریشان بھی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ اس فلیٹ میں جو بھی رہائش پذیر ہیں اور ساتھ کوئی مہمان ہے تو میرے ساتھ پولیس اسٹیشن تک آئیں اور اپنا شناخت کرکے واپس آجائیں۔ بعد میں پتا چلا کہ اس علاقے سے کورونا وائرس سے متاثر ایک مریض بھاگ چکا تھا، اس علاقے میں کرایے کے مکانات میں اس فرد کی تلاش میں یہ کارروائی ہو رہی تھی۔

بہرحال ہم چند لوگ گاڑی میں بہت قریب بیٹھے تو میں نے کہا کہ کورونا وائرس کا خطرہ ہے ہم فاصلہ رکھ کر دوسرے گاڑی میں بیٹھ جائیں گے تو اچھا ہوگا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ آپ مسلمان ہیں؟ نماز، پانچ وقت کا، پڑھتے ہیں؟ تو میرا جواب ہاں میں تھا تو اس نے کہا اگر ایسا ہے تو کوئی وائرس نہیں لگ سکتا؟

باہر دودھ والے کے ساتھ اچھا خاصا گپ شپ تھا، معمول کے مطابق روزانہ ہرصبح باہر دودھ والے کے پاس جاکر دودھ لے آتا۔ وائرس پھیلنے کے بعد ایک روز جب میں نے اسے دیکھا تو اس کے پاس نہ ماسک تھی اور نہ احتیاط کر رہا تھا۔ اس سے مخاطب ہوکر میں نے کہا آپ کاروبار کر رہے ہیں۔ روزانہ درجنوں افراد سے آپ کا واسطہ پڑتا ہے آپ کو ہم سے زیادہ احتیاط کرنا چاہیے۔ جب میں نے یہ بات کہہ دی تو اس کا کہنا تھا کہ یہ ایک یہودی سازش ہے کوئی وائرس نہیں ہے۔ اسلام کو ختم کرنے، مسجدون میں نماز بند کرنے کے لئے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے؟

ایک دن، جس علاقے میں میں رہائش پذیر تھا، اس میں ایک دکاندار نے مجھ سے کہا کہ آپ تو بالکل غائب ہوگئے ہیں باہر نہیں نکل رہے ہیں؟ میں نے کہا، بھائی باہر بازار ہے لوگوں کا ہجوم رہتا ہے جس سے وائرس پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے اسی لئے۔ اس کا کہنا تھا کہ آپ بھی اس پر یقین رکھتے ہیں؟ میں نے کہا، ہاں وائرس ہے اب پوری دنیا میں پھیل چکی ہے۔ اس نے مسکرا کر جواب دیا کہ یہ ایک افواہ ہے؟

چترال میں کورونا وائرس کے حوالے سے بھی سازشی نظریات بام عروج پر تھے اب اس وائرس سے متاثر مریض 153 سے زیادہ ہوگئے اور چار لوگ ہلاک ہوگئے تو ایک خوف پیدا ہوگئی ہے لیکں لوگوں میں وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے حوالے سے احتیاطی تدابیر غیر مطمیں ہیں۔

چترال میں ایک گاڑی میں سفر کر رہا تھا تو راستے میں ایک نوجواں نے جب وائرس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سازش ہے اور اگر اس سے لوگ مررہے ہیں اب تک ان لوگوں کو اور ان کے قبرستان کو کیوں دکھائی نہیں دیا جا رہا ؟ یہ صرف ایک سازش ہے کوئی وائرس نہیں ہے بس امداد کے لئے ایسا کیا جا رہا ہے؟

ایک اور شخص نے، وائرس کے حوالے سے، جب بات ہوئی تو اس کا کہنا تھا کہ یہ ایک زکام کی طرح ایک بیماری ہے جس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا؟ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک دوسرے فرد نے کہا کہ ایک دوائی کے کمپنیون کی ایک چال ہے اور اپنے دوائی بھیجنے کے لئے یہ سب کچھ کر رہے ہیں؟

حتمی فیصلہ کرنے کے لئے یہ قبل ازوقت ہوگا کہ یہ ایک قدرتی جرثومہ ہے یا لیبارٹری میں تیار ہوچکی ہے؟ کورونا وائرس ایک حقیقت ہے جس سے کوئی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایک متعدی مرض ہے جس کی نوعیت بعض لوگوں میں کم، بعض میں زیادہ اور بعض میں شدید ہو سکتی ہے جو اس شخص کی تندرستی اور مدافعتی نظام پر منحصر ہے۔ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں خم دار لکیر کو خم کرنے کا واحد ذریعہ سماجی اجتماعات اور جسمانی فاصلہ رکھنے کے ساتھ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اور بعد میں ان سازشی نظریات پر بات کرنے اور تحقیق کا انتظار کرنا ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *