زبان اور بیان، اللہ حافظ!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سفر کو دوام ہے، مسافر کو نہیں۔ کوئی آج اس جہاں تو اگلے دن کا اجالا پھیلنے تک، ابدی وادی کے حسین و جمیل مرغزاروں میں۔ منیر نیازی نے کمال مہارت سے ٹکڑا دل کی حقیقت بیان کر دی تھی جس کی سمجھ بوجھ کو آج بھی طبی دنیا میں ایک چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں

صبح کاذب کی ہوا میں، درد تھا، کتنا منیر
ریل کی سیٹی بجی، تو دل لہو سے، بھر گیا

وہ گرمیوں کی ایک سہ پہر تھی۔ گو کہ گرمی کی شدت ابھی تک اپنے جوبن پر تھی۔ ایسی تپش بھی کیا کہ چرند پرند سہم کر بیٹھ جائیں۔ دوپہر ڈھلنے سے کسی رات کا ڈھلنا یاد آتا ہے۔ دریں حالانکہ یہ فطری امور ہیں تو قدرت کے شاہکار مگر ان دونوں کے پڑاؤ میں اتنا فاصلہ ضرور موجود ہے جو زمین کے پھیلاؤ اور آسمان کی وسعت کے درمیان محیط ہے۔ کہاں دن کا تپاؤ اور کہاں رات کا گاؤ۔ رات کا گاؤ جب سینے میں اترا تھا تو اس سے ”لطف اندوز“ ہوتے ہوئے فیض صاحب نے یہ کہہ ڈالا تھا کہ ”آگ سلگاؤ آبگینوں میں۔“

میڈیکل کالج کے دن تھے اور سال دوم تھا۔ اے۔ پی۔ پی والے مہربان دوست الطاف حمید راؤ کسی تقریب میں میرے ساتھ تھے۔ یہاں سے راؤ صاحب نے ریڈیو اسٹیشن جانا تھا۔ چنانچہ ہم ریڈیو پاکستان کے میریور اسٹیشن پہنچ گے۔ راؤ صاحب اے پی پی اور انگریزی اخبار ”دی نیشن“ کے علاوہ شام کا میرپور اسٹیشن سے نشر ہونے والا اردو خبر نامہ تیار کرتے تھے۔ یہ ذمہ داریاں وہ آج بھی جوش اور ولولے کے ساتھ سر انجام دے رہے ہیں۔ نیوز روم میں ابھی چائے کی پہلی چسکی بھری ہی تھی کہ شعبہ خبر کے انچارج حمید ملک نے کاغذ کا ایک ٹکڑا میرے سامنے رکھ دیا اور فرمائش کی کہ اسے ذرا خبر کے انداز میں سنائیں۔

ماجرا عجیب تھا۔ یہاں پہلی دفعہ آنا اور خبرنامہ کی ریہرسل کرنا۔ بہر حال یہ سب کر ڈالا تو ملک صاحب نے رابطہ نمبر لے کر روانہ کیا اور وعدہ لیا کہ میں یہاں آتا جاتا رہوں گا۔ قصہ مختصر یہ کہ حمید ملک تو اسلام آباد چلے گے اور مجھے بطور نیوز کاسٹر اس سفر آوارگی کا آغاز کرنا پڑا۔ تقریباً چار سال یہاں گزرے۔ ہاؤس جاب نے شہر بدر کیا تو ایک سال بعد یہاں واپسی ہوئی۔ علی اختر سلیم جو کہ راوی کے بھی ایڈیٹر رہے ہیں، شعبہ خبر کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے دوبارہ خبرنامہ شروع کرنے کا کہا مگر ایسا نہ ہو سکا۔ یہ سب باتیں تمہید کے طور پر اس لیے کہ حکومتی و معاشرتی سطح پر آرٹسٹ مر چکا ہے۔ اور اس کی دانش کو سراہنے والا کوئی نہیں۔

ریڈیو تعلیم و تربیت کا بنیادی سکول بھی ہے اور یونیورسٹی بھی۔ رفتہ رفتہ زبوں حالی کا شکار ہو رہا ہے۔ حکومتوں نے اس ادارے کو توجہ دینا چھوڑ دیا ہے۔ ریڈیو کے آرٹسٹ کو جو چند سو روپے وظیفہ ملتا ہے وہ بھی کئی کئی ماہ بندش کا شکار رہتا ہے۔ اس شعبے سے وابستہ فنکار افلاس کا شکار ہے۔ حکومت کے اس رویے سے نالاں ہو کر وہ اس ادارے سے منہ پھیر ریا ہے اور نیا ٹیلنٹ علم و ادب اور تہذیبی و ثقافتی ورثے سے محروم ہو رہا ہے۔

موجودہ حکومت تو ریڈیو کی آواز کو بند کرنا چاہتی ہے۔ اس حکومت کے بزر جمہر یہ سمجھتے ہیں کہ ریڈیو کی آواز کو عوام کے کانوں تک پہنچانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس لیے بہتر ہے اس سے چھٹکارا حاصل کر لیا جائے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ امن و جنگ میں ریڈیو نے قوم کو بیدار کرنے اور ملی جذبے کی سرشاری میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔

ایک ادارہ پی ٹی وی ہے جہاں صرف ”خیر و خیریت“ کی خبریں نشر کی جاتی ہے۔ یہ بات خوش آئند کہ ریڈیو کے آرٹسٹ کی نسبت ٹیلیویژن کا فنکار بہتر حالت میں ہے۔ اس کی اہمیت نجی صنعت میں بھی زیادہ ہے۔ ایک وقت تھا پاکستان ٹیلی ویژن سے جو ڈرامے اور پروگرام نشر کیے جاتے تھے لوگ اگلی قسط اور نشست کا انتظار کیا کرتے تھے۔ اس ذوق و شوق کی جگہ اب نجی صنعت لے چکی ہے۔ نجی چینلز کے دیکھنے والے تعداد میں زیادہ ہیں۔ لوگ ان چینلز سے روانہ ہونے والے ڈراموں اور پروگراموں کو زیادہ گرم جوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ یہ چینلز اپنے ایک مارننگ شو میں بہتر زندگی گزارنے کے طریقوں سے لے کر ”نظر بد“ سے بچنے کے وظیفے تک بتا دیتے ہیں۔ ایسے میں عوام کو اور کیا جائے جب بیٹھے بٹھائے گھر کی دہلیز پر یہ نسخہ کیمیا مل جائے۔

نشر واشاعت کے یہ قومی ادادے جو ہمارا ثقافتی اور تہذیبی ورثہ ہیں ان کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ یہ ہمارے کندھوں پر بوجھ ہے جس کو آنے والی نسلوں تک ہم نے مل کر پہنچانا ہے۔ ایسا ہی قومی فریضہ جناب طارق عزیز دہائیوں سر انجام دیتے رہیے ہیں۔ زبان، بیان، ادب، شاعری، تلفظ، معلومات اور سب سے بڑھ کر پاکستانیت اور ایک آکائی کی بات کرنا اور اس کا پرچار کرنا یہ انہی کا کام ہے جن کے حوصلے ہیں زیادہ۔

اور طارق صاحب ان شرائط کو پورا کرنے میں پیش پیش رہے۔ ایسے نابغہ روزگار جن کی وجہ سے سبز پرچم اور پاکستان ٹیلی ویژن کا نام سر بلند رہا۔ مائیک پر جلوہ افروز ہوتے تو کئی چراغوں کا تیل کم ہوتے دیکھا جاتا۔ الفاظ اور اشعار تو ان کے غلام ہو کر رہ گئے تھے۔ ایک ایک لفظ نکھرا ہوا اور تلفظ انتہائی شستہ۔ جتنی محبتیں اس ”ہمزاد“ نے وصول کیں اس کی نظیر ہمارے معاشرے میں بہت کم ہے۔ اور تو اور براہ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر قومی اسمبلی کا حصہ بنے۔ اس سے پہلے عبدالستار ایدھی، حبیب جالب اور جاوید اقبال ایسے بڑے لوگ بھی کوچہ سیاست میں کامیاب کیرئیر نہ بنا پائے۔ ایک وقت تک تو عمران خان کو انتظار کرنا پڑا۔

انکی زندگی میں یہ اچھا ہوتا کہ وفاقی سطح پر ایک براڈ کاسٹنگ یونیورسٹی کو قائم کر کے ان کو اس کا سربراہ بنا دیا جاتا جہاں نوجوان طبقے کی قلم و مائیک سے متعلقہ امور کے علاوہ پاکستانیت میں گندھے ہوئے جذبے سے تواضع اور رہنمائی کی جاتی۔ زبان سکھائی جاتی اور بیان کی روانی سے شناسا کیا جاتا۔ نجی چینلوں کو بھی علم وادب کے پروگرامز نشر کرنے کے لیے پالیسی جاری کی جاتی۔ کیا اچھا ہو کہ دانائی اور رعنائی کے یہ پروگرامز تعلیمی اداریوں کے سر سبز میدانوں سے نشر ہوں۔ آرٹسٹ کو عزت دی جائے اور اس کے ”ریٹائر“ ہونے کے بعد اس کے لیے وظیفہ جاری کیا جائے۔

سچ یہ ہے کہ طارق عزیز اس دنیا میں اپنا کام نہایت کامیابی سے مکمل کر چکے تھے۔ کمی رہ گئی تو حکومتوں کے ذمہ دار رویوں کی جو زبان و بیان اور حکمت و دانش کے موتیوں کو محفوظ نہ بنا سکے۔ وہ ہر پاکستانی کے دل کو بے حد عزیز تھے۔ اب کی بار خدا کی بارگاہ میں عزیز ہوئے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *