بچے کیا چاند پر رہتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مالی لحاظ سے دیکھا جائے تو تعلیم کسی قوم کے مستقبل پر سرمایہ کاری کو کہتے ہیں۔ سالانہ بجٹ اٹھا کر دیکھ لیں، اپنی قوم کے مستقبل پر کتنی سرمایہ کاری ہو رہی ہے؟ مدینے کی ریاست کے خواب بیچنے والے بھی پچھلوں سے مختلف نکلے نہ ان کی ترجیحات ان سے الگ ہیں۔ مدینے والے ﷺ کے علاوہ شاید ہی کسی امت کے پیغمبر نے حصول علم کو اپنی امت کے لئے فرض قرار دیا ہو، یا ان کی گمشدہ میراث قرار دیا ہو، جو جہاں سے ملے لے لیں اور نہ اپنے اپکو معلم کہہ کر متعارف کرایا ہو۔

تعلیم اولین حکومتی ترجیحات کے خانے میں نہ ہونا کوئی اچنبھا کبھی نہیں رہا لیکن انتظامی معاملات کی ترجیحی فہرست سے تعلیم کو نکال باہر کرنا المیہ ضرور ہے۔ کورونا وبا کی مثال سامنے ہے۔ یہ وبا کسی آسمانی بلا کی صورت میں اچانک نازل نہیں ہوئی۔ بلکہ پاکستان میں وارد ہونے سے پہلے کئی مہینوں تک اردگرد منڈلاتی رہی۔ جس کے انتظام کے لئے حکومت کے پاس قابل ذکر وزراء اور بیشمار مشیران کے ہوتے ہوئے کوئی لائحہ عمل نہیں تھا اس لیے ایک دن اچانک تعلیمی ادارے بند کردئے گئے پھر بورڈ امتحانات سے بچوں کو استثناء دے کر پاس کر دیا گیا۔ سرکاری تعلیمی اداروں خاص کر سکولوں کی جو حالت ہے اس کی کارکردگی اور اس پر قوم کا اعتماد پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی شکل میں دلیل کی صورت میں موجود ہے۔

تعلیم کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔ جس میں ہماری ریاست مکمل طور پر ناکام ہے۔ اس ناکام ذمہ داری کا بوجھ، جیسا بھی نجی شعبے نے سنبھالا ہے، قابل قدر ہے۔ جہاں بلامبالغہ لاکھوں بچوں کو تعلیم اور لاکھوں پاکستانیوں کو روزگار ملی ہے۔ بورڈ لیول پر بچوں کو پاس ہونے کی خوشخبری سنا کر پرائیویٹ اداروں کے کروڑوں روپوں کے بقایاجات ڈبوئے گئے تو اب تذبذب کی صورت میں رکھ کر نجی شعبے میں قائم پاکستان کے اس سب سے زیادہ روزگار دلانے والے ادارے کو دیوالیہ کیا جا رہا ہے۔ جہاں سکول مالکان کو بلڈنگ مالکان سے بے دخلی کے نوٹس مل رہے ہیں اور اساتذہ کو سکول مالکان کی طرف سے۔

نجی تعلیم کا ادارہ صرف سکول اور کالج کے اساتذہ بچوں اور اداروں کے مالکان تک محدود نہیں، بلکہ ٹیوشن پڑھانے والے، درسی اور امداری کتب لکھنے، چھاپنے اور بیچنے والے، تعلیمی ضروریات یعنی قلم کاغذ دوات روشنائی امتحانی گتے اور اس قبیل کی اشیاء بنانے والے، کتب فروش، امتحانی پرچے چیک کرنے والے، تعلیمی اداروں میں کینٹین اور شاپس چلانے والے، سکولوں اور کالجوں کے سامنے چھولے سموسے بیچنے والے، بچوں کو تعلیمی سہولیات مہیا کرنے والے ٹرانسپورٹرز اور خاصکر رکشہ چینچی اور سوزوکی پک اپ چلانے والے چھوٹے مزدورکار، کرسیاں ڈیسک بنچ اور تعلیمی فرنیچر بیچنے والے، کمپیوٹرز بیچنے خرابیاں دور کرنے اور اس سے متعلقہ دکاندار اور ماہرین، فوٹوسٹیٹ مشین اور بک بائنڈنگ سے روزی کمانے والے، غرض ایسے کروڑوں لوگوں کے چولہے بجھے ہوئے ہیں یا بجھنے والے ہیں۔

بازار، مارکیٹ، شاپنگ پلازے، کنسٹرکشن، ٹرانسپورٹ، مساجد اور کارخانے کھلے ہوئے ہیں۔ پارکس، کھیلوں کے میدان اور سماجی میل جول پر پابندی نہیں۔ بس تعلیمی ادارے بند ہیں۔

کوئی بتا سکتا ہے ان بازاروں، مارکیٹوں، شاپنگ پلازوں، مساجد، پارکس اور کھیلوں کے میدانوں میں بچے نہیں جاتے؟ سڑکوں اور شہروں میں چلنے والی ٹرانسپورٹ میں یہ بچے سفر نہیں کرتے؟ کیا یہ گھروں میں بند ہیں؟ باہر نکلتے ہیں تو پولیس پکڑتی ہے؟ یہ بیکاری اور بندشوں سے تنگ آکر بور ہو رہے ہیں۔ والدین ان کی فضول اور بے مقصد مشاغل سے تنگ اور یہ ان کی بار بار مداخلت سے تنگ ہیں۔ یہ اپنے والدین اور بڑوں کے ساتھ انہی بازاروں پلازوں اور مساجد میں آتے جاتے ہیں اور اگر بہت چھوٹے بچوں کو ان مقامات پر جانے کی اجازت نہیں بھی تو پھر انہی بازاروں اور پلازوں میں دکانیں چلانے والے دکاندار اور ان سے روزانہ خریداری کرنے والے گاہگ، ٹرانسپورٹ چلانے والے مالکان، ڈرائیورز، منشی، اڈہ مالکان، ٹرانسپورٹ کی مرمت کرنے والے مستری، پٹرول پمپوں پر تیل ڈالنے والے مزدور، کارخانے چلانے والے اور کنسٹرکشن سائٹس پر کام کرنے والے، انہی بچوں کے والدین اور رشتے دار ہیں جن کو خدانخواستہ بیماری کا خطرہ ہو تو پھر گھروں میں قید ان کے بچے بھی محفوظ نہیں ہیں۔ یا ایسا نہیں ہے اور ہمارے بچے چاند پر رہتے ہیں۔

جن جن اداروں اور کاروباروں کو معاشی بدحالی کے ڈر حکومت نے کھولا ہے اس ”دردمند حکومت“ کے دل میں تعلیمی شعبے سے وابستہ ان لاکھوں بے روزگاروں اور معاشی بدحالی میں مبتلا گھرانوں کی فکر کیسے نہیں؟ حیران کن ہے۔

تعلیمی اداروں کو چلانے والے مالکان اور اساتذہ کرام بلاشبہ معاشرے کا سب سے زیادہ تعلیم یافتہ اور باشعور طبقہ ہے۔ اگر ایک انپڑھ کنڈکٹر، ڈرائیور اور اڈے کا منشی سرکاری ایس او پیز پر عملدرآمد کراسکتا ہے۔ اگر بازاروں، مارکیٹوں اور پلازوں کے واجبی تعلیم یافتہ مالکان، دکاندار اور یونین کے کرتا دھرتا حکومتی قواعد و ضوابط پر اپنے کاروباروں کو چلا سکتے ہیں۔ تو تعلیمی اداروں کے مالکان پرنسپلز اور اساتذہ ان سے زیادہ تعلیم یافتہ، ہنر مند اور اختیار کے مالک ہیں۔ تعلیمی ادارہ کسی مارکیٹ میں موجود کوئی دکان نہیں کہ وہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر سرزنش کی صورت میں اپنے گاہک کو کھودیگا۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی عزت، خوف اور گرفت ابھی تک موجود ہے اور بہت سے اداروں سے بہتر۔

حکومت کو چاہیے کہ تعلیمی اداروں کے لئے قابل عمل طریق کار جلدازجلد وضع کرکے تعلیم کی دوبارہ بحالی کا بندوبست کردے۔ کیونکہ دیوالیہ ہونے والے مالکان اور فاقے کرنے والے سفید پوش اساتذہ کرام کا نعم البدل ملنا بڑی مدت تک ممکن نہیں ہوگا۔ یہ ایسا طبقہ ہے جن کے سر میں ان کی تعلیم کا غرور ان کو کوئی اور کام کرنے دیتا ہے، نہ ان کا واحد سفید جوڑہ ان کو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے دیتا ہے۔ ان کے نام بے نظیر سپورٹ پروگرام میں درج تھے نہ نام نہاد احساس پروگرام میں۔

ان میں گھر چلانے والی یتیم بچیاں ہیں، جوان بچیوں کی جہیز جوڑنے والی بیوائیں ہیں، مستقل بیمار والدین کی دیکھ بھال کرنے والے حساس نوجواں ہیں اور ان سب کو روزگار دلانے والے اور کرایہ کے بلڈنگز میں اداروں کو چلانے والے تھکے ہوئے مالکان ہیں۔ فی الفور اور پہلے مرحلے میں نویں دسویں سے لے کر کالج لیول تک کے تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں کیونکہ ساری دنیا میں اس عمر کے بچے اس وبا سے بہت کم متاثر ہو رہے ہیں۔ اور دوسرے مرحلے میں موسمی شدت میں کمی ہوتے ہی بقایا ادارے۔ آن لائن کلاسز یونیورسٹی لیول پر پاکستانی تناظر میں قابل عمل پروگرام نہیں تو ادنیٰ لیول پر کیسے ممکن ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply