ایک عام شہری کرپشن کا غبارہ کیسے پھوڑ سکتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

غیر ملکی قرضے، سرکاری منصوبے اور بھتہ خوری ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اس دھندے میں سیاستدان اور سرکاری افسران دونوں شریک ہوتے ہیں۔ ہر سرکاری لین دین میں بھتہ لینے کی گنجائش ہوتی ہے۔ پاکستانی نژاد برطانوی دانشور طارق علی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستانی اشرافیہ کے لوگ اپنی نجی محفلوں میں اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ وہ دونوں ہاتھوں سے سرکاری خزانہ لوٹ رہے ہیں۔ ائر مارشل اصغر خان مرحوم نے ہماری اشرافیہ کے چور بازاری کرنے والے دھڑے کو کمیشن مافیا کہا تھا۔ ڈاکٹر اختر حمید خان کہا کرتے تھے پاکستان کے دو مسئلے ہیں چوری اور کام چوری۔

کمیشن مافیا چوری کیسے کرتا ہے اور کوئی بھی شہری کمیشن کے غبارے کو کیسے پھوڑ سکتا ہے، اسے سمجھنا بہت آسان ہے۔ میں آج ایسی ایک کہانی آپ کے سامنے بیان کرنا چاہتا ہوں تاکہ قارئین خاص طور پر نوجوانوں کو پتہ چلےکہ عدالتی نظام کی اونچ نیچ سے کوئی امید لگانے کی بجائے وہ چور بازاری کو خود روک سکیں۔ عدالتی نظام کے پیچ و خم دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ۔۔۔ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

کرپشن کی ان کہی کہانی سنانے سے پہلے میں آپ کی توجہ ورلڈ بنک کے سابقہ مشیر اور نیو یارک یونیورسٹی کے پروفیسر ولیم ایسٹرلی کے ایک نوٹ کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ پاگستان میں ترقی کے لئے خرچ ہونے والےقرضوں کی مایوس کن کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئےانہوں نے کہا تھا کہ پاکستان نے 1950۔ 99 کے درمیان غیر ملکی امداد میں 58 ارب ڈالر وصول کئے۔ پاکستان اس عرصے میں غیر ملکی امداد لینے والے ملکوں میں ہندستان اور مصر کے بعد تیسرا بڑا ملک تھا۔ پاکستان نے یہ مدد بھلے طریقے سےخرچ کی ہوتی تو نہ صرف قرضے کا سود ادا کرنے کے قابل ہوتا بلکہ اصل قرضہ بھی کب کا لوٹا دیا ہوتا۔ اگر ڈھنگ سے سرمایہ لگانا۔ نہیں آتا تھا تو یہ رقم صرف 6 فیصد کی قلیل شرح سود پر بنک میں ہی رکھ دی ہوتی تو پاکستان کے اکاؤنٹ میں 1998 تک 239 ارب ڈالر جمع ہو جاتے۔ ہم کچھ نہ کرنے سے بھی زیادہ نکمے نکلے۔ اس طرح کا دیوالیہ سرمایہ کاری کا نظام کیسے کام کرتا ہے اور ہمارے عام شہریوں، خاص طور پر نوجوانوں کے لئے اس چور بازاری کے غبارے کو پھوڑنا کتنا آسان ہے۔ اس کی وضاحت میں ایک قرضہ مانگنے اور اس کا کشکول توڑنے کی کہانی سے کروں گا۔

یہ کہانی پاکستان کے امیر ترین شہر کراچی اور اس کی امیر ترین حکومت اور اس کے واٹر اور سیوریج بورڈ کے امداد مانگنے کے پروجیکٹ سے متعلق ہے۔ کراچی واٹر اور سیوریج بورڈ نے ایشین ڈویلپمینٹ بنک سے کراچی کے غریبوں کو پینے کا پانی فراہم کرنے کیلئے کروڑوں ڈالر کے منصوبے کی امداد مانگی۔ کراچی کی آبادی اس وقت دو کروڑ کیے لگ بھگ ہے۔ اور شہر کی آدھی آبادی کچی آبادیوں میں رہتی ہے۔ گویا ایک کروڑ کے قریب لوگ شدید غربت میں رہتے ہیں۔ ان کی پانی سے محرومی کی کہانی بہت دلخراش کہانی ہے۔ کون سنگدل ہے جو اس نیک کام کے لئے قرضہ نہیں دے گا۔ جب قرضے کی بات چلی تو اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کی آرکیٹیکٹ پروین رحمان کا ماتھا ٹھنکا۔ انہوں نے منصوبے کے ‘قدموں کے نشان’ ڈھونڈنے کا فیصلہ کیا۔ یہ وہ کام ہے جو کوئی بھی نوجوان کر سکتا ہے۔ پروین کے کام کے نتیجے میں بورڈ کو تر نوالہ گلے سے اتارنے کا موقع نہ ملا۔ اور امدادی پروگرام دھرے کا دھرا رہ گیا۔

پروین رحمان نے منصوبے کے تجویز کردہ راستے کا نقشہ بنانے اور موقع پر جا کے پانی کے پائپوں اور ٹیوب ویلز کو دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ موقع دیکھنے سے پتہ چلا کہ پانی کی کمی نہیں ہے۔ شہر کو روزانہ 665 ملین گیلن پانی کی سپلائی ہوتی تھی۔ جو شہر کی ضرورتوں کے لئے کافی تھا۔ لیکن 109 مقامات پر پانی چوری ہوتا تھا۔ ان میں سے ایک چور خانہ ایک پولیس سٹیشن کے اندر موجود تھا۔ شہر میں ٹینکر مافیا کے 12,000 ٹینکر چلتے تھے جو یہ پانی غریبوں سے چوری کرنے کے بعد دوبارہ انہی کے ہاتھوں مہنگے داموں بیچتے تھے۔ ٹینکر مافیا ہر سال اس کاروبار سے 50 ارب روپے کماتا تھا۔ واٹر اور سیوریج بورڈ باقاعدگی سے بل کی وصولیاں نہیں کرتا تھا اور اسے سالانہ دو ارب اسی کروڑ کا خسارہ ہوتا تھا۔ اگر پانی چوری روک دی جاتی تو یہ خسارہ بھی پورا ہو جاتا اور کسی نئے منصوبے کے لئے قرضہ لینےکی ضرورت بھی نہ رہتی۔ اتنی معلومات قرضے کا غبارہ پھوڑنے کے لئے کافی تھیں۔ نقشہ بنانا، موقع دیکھنا اور نمبر جمع کرنا کسی بھی جعلی منصوبے کی راہ روکنے کے لئے کافی ہیں۔ اس کے لئے کسی عظیم لیڈر، انقلابی منشور یا تحریک کی ضرورت نہیں۔ یہ بہت سادہ اور سیدھا کام ہے۔ اس کے لئے صرف پختہ ارادے اور انکساری سے سوچنے کی ضرورت ہے

ذرا غور کیجئے۔ ہمارے ملک میں اس وقت 300 کے قریب یونیورسٹیاں ہیں اور 6000 کے قریب یونین کونسلیں ہیں۔ یونیورسٹیوں کو ایم اے اور پی ایچ ڈی کے طالبعلموں کے لئے تحقیق کے موضوعات کی مسلسل ضرورت رہتی ہے۔ اور تحقیق چوری کرنے کی شکایت عام ہے۔ کیا ہر یونیورسٹی صرف 20 یونین کونسلوں پر تحقیق کا ایجنڈا نہیں بنا سکتیں تاکہ طالب علموں کو حکومتی نظام سمجھ آے۔ شہریوں کو لوٹ کھسوٹ سے نجات ملے۔ اور ہم اپنی مدد سے اپنے حالات بہتر کریں۔ کرپشن کے مرض کا علاج کہیں باہر نہیں ہے۔ یہیں ہمارے آس پاس ہے۔ جیسے کہ بلھے شاہ نے کہا تھا

 میری بکل دے وچ چور نی

 میری بکل دے وچ چور

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *