رکارڈ شدہ کیسٹ اورمسلم معاشرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زیادہ پرانی بات نہیں، تقریباً دو دہائی پہلے تک گانے سننے کے شوقین افراد کو اپنے ساتھ بڑے بڑے ٹیپ پلیئر اینڈ رکاڈر اور کیسٹس (ایک ڈسک نما کم گنجائش والا آلہ) کے ڈبے رکھتے، جس سے لوگ اپنی پسندیدہ گانوں کے ریکارڈیڈ کیسٹ ٹٹولتے اور کیسٹ پلئیر میں لگا کر سنتے، بعض لوگ جو ایک ہی گانے کو بار بار سننا پسند کرتے انھیں بار بار اس کیسٹ کو ریوائنڈ کرنا پڑتا تھا، اس دوران لوگ کافی دیر تک انتظار بھی کرتے تھے کہ کب کیسٹ مکمل طور پر ریوائینڈ ہو۔ اب زمانہ یکسر بدل چکا ہے صرف ایک ہی کلک پر بغیر انتظار کی زحمت کے فوراً جو رکارڈنگ چاہو تو وہ مختلف آلات کمپیوٹر، موبائل وغیرہ پر ہم بمع ویڈیو دیکھ اور سن سکتے ہیں۔

کیسٹ اور کیسٹ پلیئر کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں، صرف ایک صدی پہلے کی بات ہے۔ لیکن ہر معاشرے میں حرف بہ حرف مختلف سماجی اور تاریخی مواد کو رکارڈ شدہ مواد کی طرح لوگوں کو ازبر کروا کر اگلے نسلوں تک منتقل کرنے کی آرزو اور روایات بہت پرانی بات ہے۔ ان رکارڈیڈ مواد کے نسل در نسل منتقلی کے بہت سے فوائد بھی ہیں اور نقصانات بھی۔

مثلاً آج کے دور میں بنی نوع انسان کی ترقی کا کافی حد تک دار و مدار انھیں مواد کی مرہون منت ہے، جو پہلے زبانی منتقل ہوتے رہے۔ بعد میں رسم الخط کے ایجادات کے ساتھ ساتھ پڑھنے اور لکھنے کے رجحانات نے دھیرے دھیرے ان مواد کے تحفظ، اور منتقلی کو نسبتاً آسان بنا دیے۔ چاہیے قدیم یونانی علوم اور تاریخ ہوں یا مختلف مذاہب کے مقدس کتابوں یا تعلیمات کی باتیں، ان سب کی حرف بہ حرف یا غلط ترویج دونوں کے انسانی معاشرے کے ارتقا پر مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

تاریخ کے اوراق جہاں ایسے مواد کے شعوری تحفظ پر مبنی اقدامات سے بھری ہے وہاں اپنے سے مختلف سوچ کے حامل افراد یا گروہ کو نیچے دکھانے کے لیے، ان کے مواد کو جان بوجھ کر مسخ شدہ کرنے یا منتقلی کے عمل کو یکسر ختم کرنے کے کئی واقعات سے بھی لبریز ہیں۔ مثلاً اندلس کے ابن رشد کے انفرادی علمی کاوشوں اور کتابوں کو جلانے کی باتیں ہوں یا فاطمی مصر، الٰموت یا دوسرے علاقوں میں لائبریریوں کو خاکستر کرنے کے واقعات، سب کے پیچھے ایک ہی محرک کار فرما تھا، مخالفیں کے اجتماعی یاد داشت اور فکر کے نقوش کو ختم کرنا۔ ایسے عمل سے نہ صرف انفرادی، اور گروہی سطح پر لوگوں کو پریشانی سے دوچار کر دیے گئے بلکہ بنی نوع انسان کو بہت سے موضوعات پران کے خیالات اور تحقیقات کو سمجھنے سے ہمیشہ کے لیے محروم کر دیے گئے۔

اسی طرح کچھ رکارڈ شدہ اور محفوظ مواد ایسے بھی ہیں جن سے معاشرے میں بہت دقیانوسی اور تحقیق مخالف رجحانات نے جنم لیے اور معاشرے جمود کے شکار ہوئے۔ ماضی کے بہت سے رکارڈ شدہ مواد کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہیں اور ان سے انکار نہیں کیا جاسکتا، لیکن ہر مواد کی قدر و قیمت کا انحصار وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے میں اس کی مطابقت پذیری اور افادیت کے پہلو ہیں۔ اگر مسلم معاشرے نے ترقی کی جانب گامزن ہونا ہے تو ان مواد کی تجزیہ و تحلیل کے ذریعے ضرورت کا جائزہ لینا ہوگا۔ کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے انہیں آسمانی صحیفے کے طور پر لیے ہیں۔ نتیجتاً ہم لاشعوری طور پر غیر ضروری اور غیر سود مند مواد کی نسل در نسل منتقلی پر اپنی توانائیوں کو صرف کر رہے ہیں اور اس کا حاصل معاشرے کی ترقی کی بجائے تنزلی ہے۔

ترقی یافتہ اقوام کی ترقی کا راز بھی انہی باتوں میں پنہاں ہے کہ انھوں نے اپنے ماضی کا کھوج لگایا ہے اور منتقل شدہ مواد کی چھان پھٹک کے بعد غیر ضروری مواد کے رکارڈ ضرور مرتب کر کے انھیں اپنے معاشرے کے ارتقا کے عمل کو سمجھنے کے لیے ایک نشانی کے طور پر دیکھنے کے قائل ہیں۔ لیکن محرک معاشرے اپنے توانائیوں کو مزید اچھے مواد کی تخلیق پر صرف کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے معاشرے کو مزید ترقیوں کے منازل کی جانب گامزن رکھ سکیں۔

ان معاشروں میں ریاست کے اندر ایسے لچکدار پالیسی بنائی جاتی ہیں کہ جن سے قومی بیانیہ بناتے وقت بھی بہت غور و فکر، تجزیہ و تحلیل اور تنقید و تفضیل کے عمل کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہیں۔ خصوصاً مختلف دانشورانہ مکالمات کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، جس سے نہ صرف وقت اور حالات کے تقاضوں کے مطابق اپنے بیانیہ کو بہتر کرنے یا یکسر تبدیل کرنے میں مدد ملتی ہے بلکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی کی تعمیر و ترقی کے خد و خال انھیں مکالمات سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً اس سے وہ معاشرے متحرک اور زندہ رہتے ہیں۔

لیکن بد قسمتی سے پاکستان اور دوسرے بہت سے مسلم معاشروں میں دانشوروں کی آوازوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی کوششیں زور و شور سے جاری و ساری ہیں۔ اس عمل سے ناعاقبت اندیش حکمران طبقے اپنے معاشروں کو کمزور سے کمزور تر کر رہے ہیں۔ کیونکہ جس معاشرے میں تخلیقی سوچوں پر قدغنیں لگ جاتی ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ اس معاشرہ کی مسخ شدہ صورت کا ابھر کر سامنا آنا لازمی امر ہے۔ کیونکہ جمود کا شکار معاشرہ ایک مردہ جسم کی مانند شکست و ریخت سے دوچار رہتی ہے۔

مسلم معاشرے نے بھی اگر اپنی موزونیت کو بڑھانا ہے تو انھیں بھی ان ترقی یافتہ معاشروں کے اداروں اور پیمانوں کے طرز پر اپنے فکری و عقلی وراثت میں اضافہ کو یقینی بنانے ہوں گے۔ جس کے لیے آزادی فکر، تحقیق، مکالمے اور مختلف ثقافتی اظہارات کی حوصلہ افزائی لازمی عوامل ہیں۔ صرف ماضی کے رکارڈنگ کو بار بار سننے سے یا ایک ہی قسم کے غیر لچکدار بیانیہ پر انحصار سے کام نہیں چلے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *