میر دریا ہے، سنے شعر زبانی اس کی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب ہم میر کی بات کرتے ہیں تو صرف ایک میر نہیں بلکہ ایک صدی، ایک زمانے کی بات کرتے ہیں۔ میر ایک عہد کا نام ہے، جس میں عہد اور شاعری ناگزیر ہے۔ سب قاری اس بات پرمتفق ہوں گے کہ صدی کس کس طرح کروٹ بدلتی ہے۔ خوشحالی تو کبھی بدحالی، ساتھ تغیرات اس کا حصہ ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں میر کے ساتھ نہ انصافی (یا اس کی کوئی جمع بنا پاتا تو وہی لکھتا) یہ ہوئی کہ ہر صدی میں ان پر گہرے نارنگ کی پرت چڑھا دی گئی، جو بعد ازاں زنگ آلود اور خراب رنگ میں بدلتی گئی۔

سہولت کے ساتھ ہم یہ کہہ سکتے ہیں جو تصویر خواہ شخص یاشاعر کے حوالے سے ہمارے سامنے ہے، اس میں میر تو کہیں نہیں البتہ سوختہ سر، بے لباس اور ڈوبتی کشتی کا ناخدا ضرور ہے۔ منٹو کی طرح کہانیاں ہمارے پاس موجود ہیں مگر ان کو مہارت تامہ کے ساتھ اکٹھا کرنا فن ہے۔ اگر کوئی مجھے کسی زرخیز عہد کے ادب کو بتا دے تو شاید میں اس عہد کی لاتعداد کہانیاں گنوا سکوں۔ میری مراد یہ ہے کہ شعر ایک کہانی ہوتا ہے جس کو کم لفظوں کی بہترین ترتیب دی جاتی ہے۔ انھوں نے بہت ساری کہانیاں جمع کی، ان کی قرات کی، اوروں کو سنایا، یہی وہ فن ہے جس سے میر کی شناخت ہوتی ہے۔

مجھے ہر لکھاری، قاری سے یہ شکایت رہی ہے ا ن سے ایک شاعر تو پڑھا نہیں گیا، ہاں ایک ناکام شخص کی طرح جی بھر کر کوچہ وبازار میں رسوا کیا، ساتھ کیا جا رہا ہے۔ اضافہ کرتا چلوں ایک تہمت میر پر ”غم کے شاعر“ کی ایسی مہارت سے ایجاد کی گئی کہ کئی زمانے گزرے اور گزرنے ہیں، ہم اس کو آب کوثر سے دھوتے رہیں دھلی ہے نہ دھولے گی۔ البتہ میر اور زیادہ مسخ ہو جائے گا جس کا میر کو نقصان نہیں پر ادب کا ایک ستون سرے سے غائب ہو رہے گا۔ یہ ادب اس تین پہیوں والی گاڑی کی مانند دکھائی دے گا، جو سفر تو جاری رکھتی ہے پراپنا توازن نہیں۔

میر نے جاں فشانی اور مہم کی بھرپور زندگی گزاری گرچہ یہ کسی داستانوی ہیرو کی نہیں پر ایک زندہ جاوید انسان کی ضرور ہے، ہاں جب انسان وقت میں سانس لیتا ہے تو خوشی و غم اپنی حسیات میں محسوس کرتا ہے۔ (مجھے یاد نہیں پڑھتا، ادب یا سائنس لکھنے والوں نے اس حس کا کوئی نام بھی دیا ہے یا نہیں ) میں سب سے پوچھتا ہوں کیا انسان ساری عمر ایک ہی حالت میں زندگی گزارتا ہے؟ شاید نہیں۔ میر اگر اپنے غم میں آپ کو شریک کرتا ہے تو صدا ایسا تو نہیں ہوتا۔ یہ ایک کیفیت ہے کسی بھی شخص پر بھی آ سکتی ہے۔ میں یہاں آپ کی توجہ چاہتا ہوں۔ کوئی مجھے

نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

”کی سی“ کی مثال دے دے۔ سچ بات تو یہ ہے کہ ہم بہت جلد اپنی سوچ کے غلام ہو جاتے ہیں اکثر تعصبات میں بھی گر جاتے ہیں۔

میر بہت ساری توجہ کا حامل شاعر ہے۔ کسی ایک شعر، غزل یا بات کو لے کر کوئی یہ کہہ دے ”ہاں بھئی شاعر ہیں مگر غم کے“ یہ بھی ”بھئی سید ہیں فلاں شعر میں اس کی طرف اشارہ ہے“ کیا ہم کسی شعر سے میر کی عکاسی کر سکتے ہیں۔ معذرت کے ساتھ مجھے اس کے شعور پر شبہ گزرے گا۔ مجھے اس بات کا کامل اعتبار ہے، جنھوں نے میر کے متعلق نئی بات دریافت نہیں کی انھوں نے سابقہ تحریروں پہ کلی اکتفا کیا۔ انھوں نے مکمل توجہ سے پڑھا نہیں، شاید اب بھی نہ پڑھیں، پڑھیں بھی کیسے ایک کنویں میں اتنا ہی پانی سما سکتاہے جتنی اس کی گہرائی ہو۔ بہت سارے ایسے بھی ہوں گئے جنھوں نے کلیات کو کتابی شکل میں مشکل ہی دیکھا ہے یا کھولا ہو۔

شاعر ہونے کے ساتھ میر ایک کامل انسان بھی ہیں۔ زندگی کے کسی پہلو میں بھی ناکامی یا ٹھہراؤ نہیں۔ یہ ایسا قافلہ تھا جو سفر کے اسباب کم ہونے پر بھی جاری تھا۔ میر ایک سچائی کا نام ہے۔ یہ ایسی سچائی ہے جو انفردی نہیں، ایک صدی ایک زمین کی اجتماعی سچائی ہے۔ اگر مورخ ان کے ساتھ بیٹھیں تو اس صدی کے علاوہ مستقبل کی صدیوں کی تاریخ مرتب کر سکتے ہیں۔ میر شناسوں اور تنقید کرنے والوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ ایسی کیا بات تھی کہ میر خداے سخن ہونے کے باوجود بھی کبھی کسی بادشاہی دربار کی طرف نہیں دیکھا۔

یہ صرف ایک غزل ہی لکھ دیتے تو بڑے مرتبے پر فائز ہو سکتے تھے مگر ایسا کسی کے دور میں بھی نہیں کیا۔ نواب کو غزل کے ساتھ والا معاملہ گواہ کے طور پر سامنے ہے۔ میر احساس رکھنے والے شاعر ہیں، جس کو اجتماعی بنا کر سب کا غم بانٹے ہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ زندگی کی رنگ رنگ پہلوؤں کو دیکھنا ہی نہ سیکھاتا ہو۔ میر اپنی زبان کا پیامبر ہے، جس نے اسلوب ایجاد کیے۔ نوک پلک تراشی۔ لباس درست کیا۔ یہ سچ ہے کہ اردو کی عزت ان کے دم سے ہے۔

انھوں نے ایک سفر کے دوران ایک گاڑی بان سے صرف اس لیے بات نہیں کی کہ اس کی زبان کے الفاظ ان کی زبان کو خراب کر دیتے۔ میر ایک قدآور درخت ہے جس میں اپنی نوع کے سب پھول کھلتے ہیں۔ ہر پھول کی خوشبو جدا ہے۔ دور و نزدیک سے اپنی افادیت رکھتے ہیں۔ اب یہ ہم پر ہے کہ سارے پھولوں کا گلدستہ بناتے ہیں یا اپنی سونگھنے والی حس کو تشقی دیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ذیشان ادیب کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *