تبدیلی کی خیر ہے پر امید زندہ رہنے دیجئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خواتین و حضرات آج ایک ایسے موضوع پر قلم اٹھانے کی جسارت کرنے جا رہا ہوں۔ جس کا عنوان ہے ”تبدیلی“ وہی تبدیلی جس کو دیکھنے کا خواہش مند پاکستان کا ہر وہ ذمہ دار شہری ہے جو پاکستان کو دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتا دیکھنا چاہتا ہے۔ لیکن افسوس تبدیلی کا یہ رنگ جو ایک خوبصورت اور حسین و جمیل پاکستان کی صورت میں دکھایا گیا تھا حقیقت میں کچھ الگ ہی منظر نامہ پیش کر رہا ہے۔

کیونکہ میرا تعلق تدریسی شعبے سے ہے اس لیے میں ایک مثال کے ذریعے اپنی بات کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔

خواتین و حضرات زمانہ قدیم کی بات ہے کہ پاکستان کے ایک گاؤں میں ایک شخص رہتا تھا جس کا نام تھا ”چھوڑو“ ۔ اس شخص کا یہ نام شاید اس لیے پڑ گیا تھا کہ یہ کسی بھی ملازمت پر زیادہ عرصے کے لیے کام نہیں کر سکتا تھا۔

لہذا کچھ ہی عرصے میں یہ گاؤں کے تقریباً تمام ہی بڑے بڑے وڈیروں اور کاروباری حضرات کے پاس مختصر عرصے کے لیے ملازمت کر چکا تھا تھا۔ اب پورے گاؤں میں اس کی یہ خاصیت مشہور ہو گئی تھی کہ یہ شخص کچھ عرصے بعد ملازمت چھوڑ کر چلا جائے گا۔ یہی وجہ تھی کہ اب اس کو کوئی بھی کام پر رکھنے کو تیار نہیں تھا۔ کام نہ ملنے کی وجہ سے چھوڑو کو معاشی طور پر کافی بدحال ہو چکا تھا۔ معاشی حالات اس حد تک تنگ ہو گئے تھے کہ نوبت فاقوں تک پہنچ گئی۔

ایک رات فاقہ کی حالت میں چھوڑو اپنے گھر کے صحن میں سویا ہوا تھا تو اس نے خواب دیکھا کہ اس کے گھر کے اندر والے کمرے میں سونے کی ایک بہت بڑی کان نکل آئی ہے۔ خواب سے بیدار ہوا تو سیدھا مسجد میں گیا اور اعلان کرا دیا کے آج پورے گاؤں والوں کی دعوت چھوڑو کے گھر میں ہو گی۔ جب گھر واپس لوٹا تو اس کی بیگم جو اعلان سننے کے بعد سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی چھوڑو کا گریبان پکڑتے ہوئے اس سے ہم کلام ہوئی اور پوچھا کہ یہ دعوت کیسے اور کیوں کر دی جا رہی ہے۔

جس پر استفسار کرتے ہوئے چھوڑو نے اپنی بیگم سے پوچھا ”کیا تمہیں نہیں پتا ہمارے گھر کے اندر والے کمرے میں سونے کے کتنے بڑے ذخائر ہیں“ ؟ یہ بتاتے ہوئے چھوڑو نے اپنی بیگم کا ہاتھ تھاما اور اس کو کمرے میں سونے کے ذخائر دکھانے کے لئے لے گیا۔ لیکن کیونکہ سونے کے ذخائر ایک خواب تھا اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا لہذا ان کو کمرے میں پڑی ایک چارپائی اور چند خالی برتنوں کے علاوہ کچھ نہ ملا۔ اب وہ دونوں میاں بیوی پریشان ہو گئے کہ جو دعوت کا اعلان ہم کر چکے اس کا کیا کریں گے۔ اسی سوچ بچار میں شام ڈھلنے لگی اور دعوت کا جو وقت گاؤں والوں کو دیا گیا تھا وہ سر پر آن پہنچا۔ اسی اثنا میں حالات کا مارا چھوڑو اچانک سے اپنی چارپائی سے اٹھا اور اپنی بیگم سے کہا کہ میرے پاس ایک ترکیب ہے بس میں جیسا کہوں ویسا کرتی جانا۔

بس ترکیب کے مطابق گھر کے صحن میں ایک چٹائی بچھائی گئی اور چٹائی کے اوپر دسترخوان ڈالا گیا کچھ پلیٹیں اور گلاس اس کے اپنے گھر اور کچھ ہمسایوں سے لے کر اس دسترخوان پر جوڑ دیے گئے۔ جب تمام مہمان آن پہنچے اور دسترخوان کے سامنے چٹائی پر براجمان ہوچکے تو چھوڑو ہاتھ جوڑے ان کے سامنے کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا ”تمام معزز مہمانوں کو اس دعوت پر خوش آمدید۔ ۔ ۔ اور یاد رکھیے گا دعوت ہر کوئی اپنی اوقات کے مطابق کرتا ہے اور میری اوقات بس اتنی ہی تھی کہ آپ کو آپ کے گھروں سے بلا کر یہاں تک بٹھا سکوں لیکن اس سے زیادہ میں آپ کو کچھ کھلا پلا نہیں سکتا آپ تمام مہمانوں کے آنے کا بہت شکریہ“ تمام گھر آئے مہمان چھوڑو کے ان فقروں کو سن کر غصے میں آگ بگولہ ہو گئے اور چھوڑو کو برا بھلا کہتے ہوئے اس کے گھر سے چلے گئے۔

دراصل ہم لوگ بھی پاکستان میں ان گاؤں والوں کی طرح ایسے ہی ایک ایسے شخص کی باتوں میں آ چکے ہیں جس نے ڈھنڈورا پیٹ کر پہلے سب کو بتایا کہ وہ پاکستان میں ایک کروڑ نوکریاں پیدا کرے گا۔ ۔ ۔ تعلیم بھی بہتر کرے گا اور ہسپتال بھی بہتر کرے گا۔ ۔ ۔ انصاف بھی ملے گا اور احتساب بھی ہوگا لیکن ان ساری باتوں کا کا حقیقت سے دور دور تک بالکل اسی طرح کوئی تعلق نہیں جس طرح چھوڑو کے خواب کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

اور حقیقت میں آج بھی پٹرول کی قیمتوں میں بے انتہا اضافہ کر کے حکومت مہنگائی کا سارا بوجھ عوام کے کندھوں پر ڈال رہی ہے کبھی آٹا مافیا اور کبھی چینی مافیا کے ہاتھوں گورنمنٹ بلیک میل ہوتی جا رہی ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تو کوئی اضافہ نہ کیا گیا لیکن قومی اسمبلی کے تمام امیدواران بشمول وزیراعظم کی اپنی تنخواہوں میں اضافے کا بل خاموشی کے ساتھ منظور کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ کہیں ایک کروڑ نوکریوں کا لالچ دے کر اسٹیل مل کے ملازمین کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔ تو کہیں طیارہ حادثات کا سارا ملبہ پائلٹس پر ڈال دیا گیا اور ان کی ڈگریوں کے اوپر سوالیہ نشان لگائے گئے

اب بندہ پوچھے ان وزیروں کی اپنی کون سی ڈگریاں بہت صاف شفاف ہیں جو بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہو چکے ہیں اور یہ پڑھے لکھے اعلی عہدوں پر فائز کرونا کے 19 درجے کو آج تک سمجھا نہیں پا رہے ان کی تو اپنی ڈگریاں چیک ہونے والی ہیں۔ بس اسی بات پر اس تحریر کا اختتام کرنا چاہوں گا کہ کاش تبدیلی کا خواب سچ ہوتا۔ ۔ ۔ مگر اب تو دل میں یہ بات آتی ہے اور شدت سے دل و دماغ کے دروازوں پر دستک دیتی ہے کہ صاحب تبدیلی نہ سہی کم از کم امید تو زندہ رہنے دیں۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
پروفیسر احمد معین کی دیگر تحریریں

Leave a Reply