دیوار چین
دنیا کا آٹھواں عجوبہ مانے جانے والی اس تاریخی دیوار کی بنیاد سات سو قبل مسیح میں مختلف مقامات پر رکھی گئی۔ دو سو قبل مسیح میں چین کے پہلے بادشاہ چن شی ہوانگ نے ان حصوں کو جوڑ کر ایک بڑی دیوار کی بنیاد رکھی۔ منگولیا اور تبت کے علاقوں تک پھیلی اس دیوار کی کل لمبائی تیرہ ہزار میل، چوڑائی نیچے سے پچیس فٹ اور اوپر سے بارہ فٹ ہے۔ یہ تیس فٹ تک اونچی ہے۔ اس پر پہرا دینے کے لئے ہر دو سو گز بعد مضبوط پناہ گاہیں تعمیر کی گئی ہیں۔
چن شی ہوانگ کے بعد آنے والے شاہی خاندانوں نے اس کی تعمیر جاری رکھی، جن میں قابل ذکر منگ خاندان نے اس دیوار کی تعمیر پر خاص توجہ دی، جن کا تعمیر کیا ہوا حصہ اب تک بہترین حالت میں محفوظ ہے۔
چین کے پندرہ صوبوں پر محیط اس دیوار کو دفاع کے علاوہ اور بہت سے کار آمد مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا، جیسا کہ سرحدوں کی رکھوالی کرنا، شاہراہ ریشم کے راستے لائے گئے سامان پر کسٹم ڈیوٹی نافذ کرنا، تجارت کی حوصلہ افزائی اور سلطنت کے اصولوں کے مطابق قابو میں لانا اور امیگریشن اور ہجرت کو کنٹرول کرنا ان مقاصد میں شامل تھے۔ جبکہ دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لئے اس دیوار پر واچ ٹاور، فوجی بیرک اور فوجی چھاؤنیاں بنائی گئی۔ اس تاریخی دیوار نے راہداری کے خدمات بھی سر انجام دیے ہیں۔
آثار قدیمہ کے ایک سروے کے مطابق اس دیوار کی پیمائش اس کے تمام شاخوں کو ملا کر 21,196 کلو میٹر بنتی ہے۔ آج تک اس کا دفاعی نظام تاریخ میں آثار قدیمہ کے کارناموں میں سے ایک انتہائی متاثر کن کارنامے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
1346 ء میں ابن بطوطہ کے چین کے سفر پر لکھی ایک کتاب میں اس دیوار کا ذکر ملتا ہے۔ انہوں نے ساٹھ دنوں کی مسافت پر مشتمل اس دیوار کو ذوالقرنین کے یاجوج ماجوج کو قید کرنے کے لئے تعمیر کی ہوئی دیوار سے تشبیہ دی ہے۔ اسی طرح دنیا کے بہت سارے قدیم سیاحوں نے اس دیوار کا ذکر اپنے سفر ناموں میں کیا ہے۔
بعد اذاں اینگلو۔ چائنیز لڑائیوں میں شکست کے بعد جب چین نے غیر ملکی تاجروں اور سیاحوں کے لئے اپنی سرحدیں کھول دی تو یہ دیوار سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز بن گیا۔ جنہوں نے اس عظیم دیوار کی مقبولیت میں چار چاند لگا دیے۔
بتایا جاتا ہے کہ دنیا کی یہ واحد شاہکار ہے جو اسپیس اور چاند سے دیکھا جا سکتا ہے، پر اس بات میں کوئی صداقت نہیں، لیکن 300 تا 350 کلومیٹر بلندی سے دوربین کی مدد سے اس دیوار کو دیکھا جا سکتا ہے۔
اس دیوار کو بڑے بڑے پتھروں، اینٹوں اور مٹی کے سفوف سے بنایا گیا ہے۔ یہ اب تک دنیا کی طویل ترین تعمیر ہے۔ اس کو تعمیر کرتے وقت ہزاروں مزدور بڑے بڑے پتھروں کے گرنے، تھکاوٹ، بیماریوں، جانوروں کے حملوں اور بھوک سے لقمہ اجل بن چکے تھے۔ کہتے ہیں کہ اس کے دیواروں میں ان کو دفن کیا جاتا تھا۔ اس کی تعمیر کے لئے درکار مزدور سپاہیوں اور قیدیوں پر مشتمل تھے۔
چین کے انیس شاہی خاندانوں نے اس کی تعمیر میں اپنا اپنا حصہ ڈال رکھا ہے اور ساتویں صدی قبل مسیح سے لے کر سولہویں صدی عیسوی تک دو ہزار سالوں میں اس کو تعمیر کیا گیا۔ مطلب اس دیوار کی تاریخ دو ہزار سے زیادہ سالوں پر مشتمل ہے۔ چین کے لوگ اب تک اس پر ناز کرتے ہیں۔
افسوس اس دیوار کی موجودہ حالت پہلی جیسی نہیں رہی۔ 2012 ء میں چین کے ثقافتی ورثہ کے ایک رپورٹ کے مطابق قدرتی آب و ہوا اور زمینی کٹاؤ اور اس کے ارد گرد آباد گاؤں کے لوگوں کی اس سے اینٹیں چرانے کی بدولت تقریباً دو ہزار کلو میٹر تک اس عظیم دیوار کا بائیس فی صد حصہ ختم ہو چکا ہے۔ جبکہ چین کی حکومت اپنی اس قومی علامت کی مرمت اور تجدید میں مصروف عمل ہے۔
چیئرمین ماؤ نے کہا تھا کہ ”جب تک آپ اس عظیم دیوار تک نہیں پہنچتے، تب تک آپ ہیرو نہیں ہیں“ ۔ جس کا مطلب ہے کہ جب تک آپ مشکلات پر قابو نہیں پاتے تب تک آپ منزل حاصل نہیں کر سکتے۔


