EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

پن ڈراپ سائیلنس – صرف دو منٹ کی خاموشی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"umair-dabeer\"

انگریزی کے تین لفظی جملے ”پن ڈراپ سائیلنس“ سے واقفیت تب ہوئی جب ایک جلسے میں جانے کا اتفاق ہوا، لیاقت آباد کے مقام پر ہونے والے جلسے نے این اے 246 کے نتائج پہلے ہی بتا دیے تھے مگر اس سے زیادہ حیران کن امر یہ تھا کہ پل کے دو اطراف سڑکوں پر عوام کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔

مقرر اپنی تقاریر کر کے واپس گئے۔ ایک دم ایک ایم کیو ایم کا مخصوص ترانہ بجنا شروع ہوا اور وہاں موجود تمام ہی لوگ کھڑے ہوکر تالیاں بجانے لگے، ترانہ ختم ہونے پر فلک شگاف نعرے بلند ہوئے سب قصیدہِ الطاف بیان کررہے تھے۔ میرے لیے حیرانی کی بات یہ تھی کہ سفید باریش داڑھی والا ہو یا 14 سالہ نوجوان سب کا یہی جذبہ تھا۔

ہر آدمی نعرے کا چیخ کر جواب دے رہا تھا اور اپنی والہانہ محبت و عقیدت کا اظہار کررہا تھا، یک دم ”ہیلو“ کی آواز آئی لیاقت آباد پُل پر تالیوں کی آواز گونجنے لگی اور سب دوبارہ فرشی نشستوں پر بیٹھنے لگے۔

عوام کی بڑی تعداد ہونے اور نظم و ضبط مثالی ہونے کے باوجود ایم کیو ایم کے بانی نے تقریر کے دوران اپنی تنظیمی گرفت دیکھنے کے لیے 2 منٹ خاموشی کروائی، اسپیکر پر الطاف حسین کی ایک، دو اور تین کی آواز کے بعد تھوڑی دیر پہلے فلک شگاف نعروں اور تالیوں کے گونجنے والے مقام پر ایسی خاموشی کہ سوئی بھی گرے تو آواز سنائی دے۔

دو منٹ کی خاموشی کے دوران کافی لوگوں پر نظر پڑی اور حیرانی یہ تھی کہ غیر موجود شخص کی بات پر لوگ ایسے عمل پیرا تھے کہ اگر کسی کو کھانسی بھی آرہی تھی تو وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے روکنے یا اُس کی آواز دبانے کی کوشش کررہا تھا۔

خیال رہے ان دنوں آپریشن زوروں پر تھا اور ایم کیو ایم کے بانی بارہا میڈیا پر آکر اپنی قیادت (رابطہ کمیٹی) پر برس چکے تھے، جس کا مطلب کہ اُس دوران اندرونی خلفشار بھی جاری تھا۔

یہ صرف ایک جلسے کا آنکھوں دیکھا حال تھا، چونکہ کراچی کے رہائشی اکثر اپنی فیملیز کے ہمراہ متحدہ کے پروگراموں اور جلسہ عام میں جاتے رہتے تھے تو اُن سے یہ بھی معلوم ہوتا رہا ہے کہ اس طرح کی خاموشی (پن ڈراپ سائیلنس) سینکٹروں جلسوں میں دیکھنے کو ملی ہے بلکہ ایک دوست کو سیاست اور بدلتے حالات پر خاص نظر رکھتے ہیں اُن کا کہنا ہے کہ اسی خاموشی اور نظم و ضبط کو دیکھتے ہوئے مقتدر حلقوں میں کھلبھلی بھی مچی تھی اور ایم کیو ایم کو تسلیم کیا گیا تھا۔

اب ایم کیو ایم وہ نہیں رہی بلکہ کئی ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے، جو مصطفیٰ کمال، متحدہ پاکستان، حقیقی کی صورت میں سامنے آئے تاہم آجکل دبئی میں ایک نئے اتحاد کے لیے ملاقاتیں جاری ہیں جن کی خبریں اور خفیہ تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد شہر کی دیواروں پر بانی ایم کیو ایم کی حمایت اور کسی اور کی قیادت نامنظور کے نعرے درج کیے گئے ہیں ساتھ ہی ممبران اسمبلی سے مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ مینڈیٹ کو چھوڑیں اور اپنے بل بوتے پر اسمبلی کی نشست جیت کر دکھائیں۔

سابق صدر جنرل ر پرویز مشرف کے حوالے سے کراچی کے عوام میں سافٹ کارنر ہے اور ناظم کراچی سید مصطفیٰ کمال کو بھی لوگ اچھے الفاظ میں یاد کرتے تھے تاہم آہستہ آہستہ وہ بھی اپنی قدر کھوتے گئے اور لوگوں میں اُن کی پذیرائی کم سے کم ہونے لگی اور رہی بات مشرف صاحب کی تو ایک بینر کے اوپر لگی سطر کے ایک لفظ ”پگ“ نے بھی اُن کی اہمیت کو پہلے سے کم کردیا ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے اجلاسوں میں بھی بانی کے حق میں نعرے اور بلدیاتی نمائندوں کی جانب سے استعفوں کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے، سارے صاف چہرے مل کر بھی اُس طرح قیادت کرتے اور اپنی تنظیم پر گرفت کرتے نظر نہیں آرہے جیسے بانی ایم کیو ایم کے پاس تھی۔

دبئی اتحاد اور سارے ٹکڑوں کا مشرف صاحب کی خواہش پر مل کر کراچی میں سیاست کی ابتداء کرنا معلوم نہیں کیسا ہوگا تاہم یہ وقت ثابت کرے گا کہ یہ لوگ عوام کے دلوں میں ویسے جگہ بنا سکتے ہیں یا نہیں۔

ٹکڑوں میں بٹے تمام لوگوں کا کہنا ہے کہ عوام اُن کے ساتھ ہیں تو اُن کو چاہیے کہ ایک کارنر مٹینگ، یا جلسے میں دو منٹ کی خاموشی کرواکر دکھائیں، اگر عوام نے اُن کی بات مان لی تو یہ واضح پیغام ہوگا کہ وہ زمینی سطح پر جگہ بنارہے ہیں ورنہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے اور سب اچھا دکھانے سے حقائق کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے