اقوام متحدہ، اسرائیلی منصوبہ اور ’اکیسویں صدی کی عصبیت‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسرائیلی انتخابات کے بعد 17 مئی 2020 کو بننے والی 35 ویں حکومت کے وزیراعظم بینجمن یاہو نے مغربی کنارے کے انضمام پر عمل درآمد کے لئے یکم جولائی سے شروعات کا اعلان کیا ہے۔ جس کی دنیا بھر میں شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔ 120 کی پارلیمان کی اسرائیلی کابینہ اس وقت 36 وزیر، 16 نائب وزیر اور ایک متبادل وزیر اعظم پر مبنی ہے۔ متبادل وزیراعظم نصف مدت کے بعد بنجمن نیتن یاھوکی جگہ لیں گے۔ اسرائیلی حکومت کنیسٹ (پارلیمنٹ) نے لیکوڈ پارٹی کے سربراہ بنجمن نیتن یاھو اور بلیو وائیٹ اتحاد کے صدر بینی گینٹز کے درمیان طے پائے شراکت اقتدار فارمولے کے تحت بنی ہے۔

اس فارمولے کے تحت نیتن یاھو اور بینی گینٹز باری باری وزارت عظمیٰ کا منصب سنھبالیں گے اور اپنی مرضی کی کابینہ تشکیل دیں گے۔ اسرائیل میں 18 ماہ میں تین مرتبہ انتخابات ہوچکے ہیں۔ بنجمن نیتن یاھو نے انتخابات میں کامیابی کے بعد وادی اردن کے مغربی کنارے کے علاقے کو اسرائیل میں انضمام کرنے کا اعلان کیا تھا، جس پریکم جولائی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ اقتصادی و زرعی لحاظ سے یہ علاقہ فلسطین و اسرائیل کے لئے اہمیت کا حامل ہے۔ واضح رہے کہ 1967 میں 6 روزہ جنگ کے بعد مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم پر اسرائیل نے قبضہ کرکے ناجائز ریاست کا حصہ بنالیا تھا لیکن اقوام متحدہ نے اسرائیل کے اس دعویٰ کو کبھی تسلیم نہیں کیا، تاہم عالمی برداری کے احتجاج کو نظر انداز کرتے ہوئے امریکا، اسرائیل کے دعویٰ کو تسلیم کرتا ہے۔

اقوام متحدہ نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی مغربی کنارے کے کچھ حصے کے انضمام کے منصوبے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قراردیتے ہوئے عالمی برادری سے اسرائیل کے اس اقدام کی مخالفت کرنے کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ سے وابستہ انسانی حقوق کے ماہرین نے اسرائیل کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔ اقوا م متحدہ کے انسانی حقوق کونسل میں شامل 47 آزاد ماہرین نے اپنے ایک بیان میں کہا، ”مقبوضہ خطے کا انضمام اقوام متحدہ کے منشور، جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی اور سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کے توثیق شدہ بنیادی قوانین کے برعکس ہوگا“ ۔

انہوں نے کہاکہ ”اسرائیل کا قبضہ پہلے ہی فلسطینیوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے اور انضمام کے بعد اس کی مزید توثیق ہوگی۔ اس سے جنگیں بھڑکیں گی، اقتصادی تباہی، سیاسی عدم استحکام، انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیاں ہوں گی اور بڑے پیمانے پر انسانی مصائب پیدا ہوں گے۔“ قابض اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی مغربی کنارے کے کچھ حصے کے انضمام کے بعد وادی اردن کے بیشتر علاقوں اور اس خطے میں تعمیر 235 غیر قانونی اسرائیلی بستیوں پر اسرائیل کو خود ساختہ خود مختاری حاصل ہو جائے گی، یہ مغربی کنارے کے تقریباً 30 فیصد علاقے پر مشتمل ہوگا۔

53 برسوں سے اسرائیل نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، طاقت کے ناجائز استعمال اور فلسطینیوں پر جبر و ظلم و ستم ڈھا رکھا ہے۔ اسرائیل نے انسانی حقوق کی خلاف وزریوں میں خواتین، صحافیوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ معصوم کم سن بچوں کو بھی جیلوں میں ڈالا اور جبرا علاقے سے بیدخلی پر مجبور کیا۔ اسرائیل کے غیر قانونی اقدامات کی حمایت امریکا کی جانب سے کی جاتی رہی ہے، جس کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے، لیکن اسرائیل کی حمایت سے امریکا نے کبھی خود کو دست بردار نہیں کیا۔

واضح رہے کہ فلسطین اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کے انضمام کے اعلان کے بعد امریکا اور اسرائیل کے ساتھ 1993 میں سیکورٹی سمجھوتے اور اوسلو معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکا کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے محمود عباس نے کہا کہ ’معاہدوں کو ختم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کو اب ایک قابض طاقت کی حیثیت سے بین الاقوامی ذمہ داریوں اور فرائض کا بوجھ اٹھانا ہوگا‘ ۔

انہوں نے امریکہ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس نے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت امریکی سفارتخانے کی یروشلم منتقلی سمیت فلسطینوں کے خلاف سخت موقف اختیار کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’فلسطینوں پر ہونے والے ظلم وستم کے لیے امریکی انتظامیہ مکمل طور پر ذمہ دار ہے۔ فلسطینی عوام کے خلاف اقدامات، غیر منصفانہ فیصلوں اور ہر قسم کی جارحیت پر قابض اسرائیلی حکومت کے ساتھ اسے بھی بنیادی شراکت دار سمجھتے ہیں‘ ۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق تنظیم کے آزادماہرین کا ماننا ہے کہ اسرائیل نے 1980 میں مشرقی یروشلم میں مقبوضہ علاقے کو ضم کر دیا تھا اور 1981 میں شام کی جولان کی پہاڑوں کو قبضے میں لیا تھا جبکہ دونوں مواقع پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ان اقدامات کی مذمت کی تھی لیکن ’معنی خیز اقدامات نہیں کیے گئے لیکن اس مرتبہ بالکل مختلف ہوگا‘ ۔ یہ فلسطینی مسلمانوں کی بدقسمتی رہی ہے کہ سلامتی کونسل میں جب بھی اسرائیل کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف آواز اٹھائی گئی تو مستقل اراکین میں شامل امریکا، برطانیہ نے اس قرارداد کو ویٹو کر دیا۔

اسرائیل کے خلاف سب سے زیادہ امریکا نے قرارداد ویٹو کیں ہیں۔ 2016 میں غیر قانونی بستیوں کے خاتمے کے لئے سلامتی کونسل میں 23 دسمبر 2016 پیش کی گئی تھی، جسے منظور کیا گیا تھا، لیکن اس پر سلامتی کونسل نے آج تک عمل درآمد نہیں کرایا۔ اسرائیلی غیر قانونی بستیوں کے خلاف سب سے پہلی قرارداد 1980 میں پیش ہوئی تھی جس کے بعد دوسری قرار داد 2016 میں پیش کی گئی۔ لیکن فلسطنیوں کی سرزمین پر قابض اسرائیل کے غیرقانونی اقدامات کی روک تھام کے لئے سلامتی کونسل کا کردار مایوس کن رہا۔

سلامتی کونسل میں قرار داد کی منظوری کے بعد بھی اسرائیل کی من مانیاں، دھونس و دہمکیاں ثابت کرتی ہیں کہ اسرائیل کسی عالمی ادارے کے قوانین کی پاسداری نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی سیاسی طور پر انتہائی غیر مستحکم حکومت ہونے کے باوجود عالمی طاقتوں کے آشیر باد و فروعی مفادات کی وجہ سے اسرائیل نے مقبوضہ علاقے کے انضمام کا اعلان بھی کر دیا۔

اردن، مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے علاقے کے استحکام پر اس کے سنگین نتائج کے بارے میں، مختلف انداز میں اپنے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اردن اور دوسری عرب ریاستوں کا خیال ہے کہ انضمام کی اسرائیلی کارروائی سے مستقبل میں ایک پائیدار فلسطینی ریاست کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو جائے گا اور نتیجے میں فلسطینیوں کی جانب سے تشدد بھڑک اٹھنے کا امکان پیدا ہو جائے گا۔ ماہرین انتباہ کرتے ہیں کہ موجودہ کشیدگی کسی بھی وقت علاقے میں تشدد اور شدید عدم استحکام کو دعوت دینے کا سبب بن سکتی ہے، جس سے امن تہہ وبالا ہو سکتا ہے۔

عرب ممالک کی جانب سے سفارتی طور پر کوشش تو کیں جا رہی ہیں کہ یکم جولائی سے انضمام کی کارروائی کو روکا جاسکے، لیکن ان کی سفارتی کوششوں کے موثر نتائج سامنے نہیں آرہے، اردن کے شاہ عبداللہ، جو کہ اسرائیل کے ساتھ امن منصوبے کے شراکت دار ہیں، ان کی 21 برس کی حکمرانی کے لئے یہ ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔

دو ریاستی منصوبے کے حل کا منصوبہ بھی اسرائیلی اقدا م کی وجہ سے متاثر ہو سکتا ہے اور گمان کیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی ہٹ دھرمی کی وجہ سے دو ریاستی منصوبہ ختم بھی ہو سکتا ہے۔ اردن کے شاہ عبداللہ کا بھی کہنا ہے کہ اگر اسرائیل نے انضمام کے منصوبے کا آغاز کیا تو اردن کے ساتھ وسیع پیمانے پر تنازع پیدا ہونے کے امکانات ہیں، امکان ظاہر کیا جا رہا ہے اسرائیل اور اردن کے درمیان 1994 کے امن معاہدے میں شامل قدرتی گیس کے دس ارب روپے کے معاہدہ بھی ختم ہو سکتا ہے، دوسری جانب فلسطینیوں نے اسرائیلی منصوبے کے خلاف مزاحمت کا عندیہ دیا ہے، فلسطینیوں کا مطالبہ رہا ہے کہ فلسطین کو دو طرفہ بنیاد پر ایک ریاست کی حیثیت سے تسلیم کیا جائے۔

اسرائیلی اعلان کو طاقت کا جبر سمجھا جا رہا ہے جس کا واضح اظہار ہے کہ دنیا کو اسرائیل کی طاقت باور کرائی جاسکے کہ اس کے اقدامات کو کوئی مسلم اکثریتی ملک روکنے کی قوت نہیں رکھتا، تاہم پہلے سے موجود ایسی مسلح تنظیمیں جو اسرائیل کے خلاف مزاحمت کررہی ہیں ان کی جانب سے اسرائیل کو سخت پیغامات دیے گئے ہیں اور ان تحفظات میں ممکنہ اضافہ ہورہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بد امنی کی ایک نئی لہر پیدا ہو رہی ہے جس سے خطے میں امن کے لئے کی جانے والی تمام کوششیں ناکام ہو سکتی ہیں۔

فلسطینی حملوں کی ایک نئی بھڑکتی آگ سے مشرق وسطیٰ میں دوبارہ تیسری انتفادہ تحریک جنم لے سکتی ہے جس میں پہلے ہی سینکڑوں کی تعداد میں فلسطینی شہید اور اسرائیلی ہلاک ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیم کے آزاد ماہرین، عالمی برداری و عرب ممالک کے سخت ردعمل کے باوجود اسرائیل کا مغربی کنارے پر جبرا انضمام اقوام متحدہ کے لئے پھر ایک سوالیہ نشان ہے کہ کیا اقوام متحدہ صرف ان ممالک کے خلاف ہی کارروائی کرنے کے لئے بنائی گئی جس سے عالمی طاقتوں کے مفاد وابستہ ہیں۔ دیرینہ حل طلب مسائل، بالخصوص مسلم اکثریتی ممالک و دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والی جارحیت و ظلم و ستم پر سلامتی کونسل کی خاموشی جانبدارنہ عمل کی عکاس ہے، جس سے عالمی ادارے پر اعتماد ختم ہوجاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply