بدیسی جپھا اور ملتانی قینچی سے Rape of the Lock تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں پے در پے عجیب و غریب واقعات رو نما ہوئے جن میں بظاہر تو کوئی تعلق یا ربط دکھائی نہیں دیتا، لیکن اگر عقل پر پردہ پڑ جائے تو کوئی بھی بوا بھسکو بن سکتا ہے۔ بوا کے بارے میں کہاوت ہے کہ ”بھسکو نے سلیقہ کیا میانی پھاڑ گھٹنے پر پیوند سیا۔“ ہم خیر کسی چیر پھاڑ کا تو ارادہ نہیں رکھتے، بس ان کی طرح اچھے، بھلے کام کو بگاڑنے میں ید طولیٰ کے حامل ہیں۔

واقعہ یہ ہے کہ گزشتہ دنوں ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے فقیر سے رابطہ کیا اور ملاقات کی خواہش کا اظہار فرمایا۔ ”خواہش“ تو ہم نے تصور کرلی، انہوں نے تو ”حکم“ ہی جاری فرمایا ہوگا۔ ہم آنا کانی کے ماہر سمجھے جاتے ہیں، مگر کوئی خاطر خواہ بہانہ نہ بنا سکے اور یہ تاثر دے بیٹھے کہ ہم ان کی خدمت میں حاضر ہونے کو تیار ہیں۔ انہوں نے قدرے شفقت سے فرمایا کہ ”ابھی آنا تو شاید آپ کے لیے ممکن نہ ہو، پرسوں ہمارے دفتر چلے آئیں، کبڈی کی قومی ٹیم سے ملاقات کے بعد آپ سے ملاقات ہوگی۔“ جو رہی سہی کسر باقی تھی اس شرف باریابی سے عافیت چاہنے میں وہ اس کبڈی والی دھمکی نے پوری کردی۔

خدا کا شکر ہے کہ ان کی چشم توجہ دوبارہ ہماری جانب نہیں ہوئی، تاہم اس واقعہ کے نتیجے میں ہمیں ہر چیز میں ”کبڈی“ دکھائی دینے لگی۔ مثلاً ایک غیر ملکی خاتون نے چند سیاست دانوں پر ملے جلے الزامات لگائے کہ ان کی نوعیت سنگین اور مضحک کے درمیان اندولن سا لیتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ آپ میں سے جو ”اندولن“ سے نا واقف ہیں، انہیں کلاسیکی موسیقی کی مکمل تعلیم تو یہاں نہیں دی جاسکتی، بس اتنا سمجھ لیں کہ روشن آراء بیگم درباری میں گندھار جھلا کر لگائیں تو اسے ”اندولن“ کہتے ہیں۔

یہ تو خیرایک جملۂ معترضہ تھا، ایک سیاستدان پر ان خاتون سے ”غیر معمولی گرمجوشی سے معانقہ“ کا الزام بھی تھا۔ معاف فرمائیے گا، کبڈی کی اصطلاحات ہمیں صرف پنجابی میں آتی ہیں، ایسے ہی ایک داؤ کو ”جپھا“ کہتے ہیں، کھیل کے میدان سے باہر اس حرکت کو ”جٹ جپھا“ کہا جاتا ہے۔ اس سے اگلی منزل بھی ہے ایک بغل گیری کی مگر وہ یہاں بیان نہیں کی جاسکتی۔

آج کل ایک بہت جید پیر صاحب کی وڈیو گردش کر رہی ہے جس میں اعلیٰ حضرت حجام بننے کی مشق فرما رہے ہیں۔ ایک مرصع و بے وقار تقریب میں، پیر صاحب جلوہ افروز ہیں، مریدنیاں مسند کے قریب آ کر سر نیہوڑا دیتی ہیں اور یہ قینچی سے ایک آدھ لٹ کاٹ دیتے ہیں۔

آپ کے علم میں ہوگا کہ جسے انگریزی میں فلپ فلاپ کہتے ہیں اسے اردو میں دوپٹی یا قینچی چپل بھی کہتے ہیں۔ اتفاق دیکھئیے ”قینچی“ کبڈی کے ایک داؤ کو بھی کہتے ہیں، جس میں ایک کھلاڑی دوسرے کو زمین پر پچھاڑ کر، اس کا بازو اپنے ہاتھوں سے قابو کرتا ہے اور دھڑ کو اپنی ٹانگوں کی قینچی سی بنا کر دبوچ لیتا ہے۔ جس طرح سے مسبوق الذکر خاتون الزامات کی تعداد اور ہولناکی میں قسط وار اضافہ فرما رہی ہیں، کچھ بعید نہیں کہ ان کے خلاف کئیے گئے مظالم اور جرائم میں ”جپھے“ کے علاوہ ”قینچی“ کا اضافہ بھی ہو جائے۔ ذرا تصور کیجئیے ان حضرات کے بارے میں جن پر اب تک خاتون الزامات لگا چکی ہیں کہ وہ ان داؤ، پیچ کے استعمال میں مزید کتنے کڈھب لگتے ہوں گے۔

ان ہی پیر صاحب کے نام کے ساتھ ان ہی کے جتنے ایک برگزیدہ صحافی نے ایک زمانے میں ”غوری“ لگا دیا تھا۔ اب آپ ”غوری“ کی جگہ ”قینچی“ نتھی کر کے دیکھیں، ایک عجیب حجام و حمام کا ملا جلا سا تاثر ابھرے گا۔ نام کے اس نئے فارمولے کے تحت انہیں ایس۔ ایم۔ کیو پکارا جا سکتا ہے۔ ایم۔ سی۔ کیوز (ملٹیپل چوائس کوئسچنز) کو ہمارے زمانے میں فل ان دا بلینکس (خالی جگہ پر کریں ) کہا جاتا تھا، اب ملک میں جہاں کہیں بھی حجام کی آسامی خالی ہو اسے ایس۔ ایم۔ کیو سے پر کیا جا سکتا ہے۔

صاحب چلتے چلتے ”قینچی“ کا محاورتاً ایک اور استعمال جان لیجئیے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب دس، بارہ برس کے لونڈے موٹر سائکل کا سائلنسر نکال کر نہ تو ویلئیاں (ایک پہیئے پر چلانا) مارتے تھے اور نہ ہی سیٹ اور ٹنکی پر اوندھے لیٹ کر اسے دوڑاتے تھے۔ تب مستقبل کے ان ”کبڈرز“ (آپ کو یقین نہ آئے تو پاکستان کبڈی فیڈریشن سے تصدیق کر لیں، یہ ایک باقاعدہ اسم بن چکا ہے ) کا دائرۂ شیطانیت کرائے کی سائیکل تک محدود تھا۔

کیونکہ ان کے لباس سے لے کر جوتوں تک کوئی چیز ان کے اپنے ناپ کی نہ ہوتی اور اکثر بڑے بھائیوں (بعض انتہائی حالات میں بہنوں ) کی اترن پر مشتمل ہوتی، لہٰذا سائیکل بھی اپنے ناپ کی چلانا یہ کسر شان تصور کرتے۔ یہ اٹھنی پیشگی جمع کرواکر، سائیکل والے کی دکان سے فل سائز کی گاڑی (لیاری میں سائیکل کو ادب سے ”گاڑی“ کہتے ہیں ) کو تا حد نظر یعنی گلی کے نکڑ تک پیدل ٹہلاتے ہوئے لے جاتے اور جونہی محلے کی عزت ”بیستی“ کی سرحد پار کرتے اسے ”قینچی“ انداز میں چلانے لگتے۔

جنہوں نے یہ کرتب کبھی ملاحظہ نہیں کیا وہ جان لیں کہ ”گھوڑا آسن“ یا ”چڈی سواری“ کے بجائے، لونڈا ایک پیر پیڈل (ان کی زبان میں پینڈل) پر ٹکاتا، اور دوسری ٹانگ سائیکل کے سموسہ نما فریم میں سے گزار کر دوسری طرف کے پیڈل پر رکھتا اور اب پیڈلز کو ٹانگوں کی محض دو تہائی حرکت سے گھماتا کیونکہ پیڈلز کے پورے چکر سے قبل اس کا گھٹنا سائیکل کے فریم سے ٹکرا کر رک جاتا۔ اس رعایت سے اپنے قد سے بڑا کام کرنے کو بھی قینچی سائیکل چلانے سے تشبیہ دی جا سکتی ہے، گویا جس طرح حضرت ایس۔ ایم۔ کیو وزارت کو اور ان کے سیاسی پیشوا وزارت عظمیٰ کو قینچی چلا رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply