ہم کرونا اور دنیا کا مستقبل



کچھ باتیں کسی حد تک ہمیں اس وبا کے متعلق ابھی سے تسلیم کرنی شروع کر دینی چاہیں، تا کہ آئندہ آنے والے دنوں میں ہم مزید ابہام سے بچ سکیں۔

کرونا کے بعد کی دنیا کیسی ہو گی یہ تو خدائے بزرگ وبرتر اللہ کی ذات ہی جانتی ہے۔ لیکن چند باتیں طے ہیں کہ سماجی فاصلے کی حدود و قیود اگلے چند مہینے ہمارے تعاقب میں رہیں گی جب تک اس وبا کا علاج دریافت نہیں ہو جاتا۔ یہ وائرس اب کچھ سال ہماری زندگی اور معاشرے کا حصہ رہے گا اور ہماری معاشرت پر اثرانداز ہوتا رہے گا۔

پہلے حصہ میں یہ جنگ ڈارون کے نظریہ ارتقا پر بنیاد کرے گی جس میں کمزور قوت مدافعت والے لوگ اس سے جان کی بازی ہار جائیں گے اور جہان فانی سے کوچ کر جائیں گے۔ صفائی اب پوری دنیا کا نصف ایمان ہو گا، خاص طور پر ان لبرلز کا جو مغرب میں رہتے ہیں۔

اگلی بار معیشت کا پہیہ نہیں روکا جائے گا، اگر کچھ زندگیوں کے چراغ بجھتے ہیں تو کوئی بات نہیں۔ وائرس کی ہیئت ہر جگہ تبدیل ہو رہی ہے اس لئے اس کی ویکسین تو نہیں البتہ دوائی کسی طرح ایجاد کر لی جائے گی۔ دنیا آخری حصہ میں ریوڑ کی قوت مدافعت والے نظام میں داخل ہو گی، جو بچ جائیں گے وہ مقدر کے سکندر کہلائیں گے۔ چائنہ نے ووہان میں کچھ معلومات پر پردہ ڈالا ہے، ناممکن ہے کہ چائنہ اپنے آپ کو دنیا کے سامنے احتساب کے لئے پیش کرے۔ بیرون ملک سفر کے لئے کرونا کا ٹیسٹ بہت جلد لازم ہو جائے گا۔

اس وبا سے کئی لوگوں کو اللہ تعالی کی ذات کے ہونے کا یقین آئے گا جو سمجھتے تھے کہ اگر کوئی رب ہے تو سائنسی ثبوت دو۔ یہ قدرت کی تنبیہ بھی ہے بنی نوع انسان کہ لئے کہ اپنے معاملات سدھار لو، اس سے پہلے کے بہت دیر ہو جائے۔ رب ذوالجلال نے یہ بات بھی باور کروائی ہے کہ کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے وہی خدا ہے۔

چند ایک مزید تغیرات بھی جنم لیں گے، جن میں سیاسی رہنماؤں کی تبدیلی ہے، جو رہنما قومیت یا پوپالرزم کا سہارا لیکن کر اپنے اپنے ملکوں میں برسراقتدار آئے ہیں۔ جن میں جناب ڈونلڈ ٹرمپ، بورس جانسن، نریندر مودی، اور عمران خان ہیں، اس چھوٹے سے جرثومے نے ان کو ناک و چنے چبوا دیے ہیں۔ قیادت اور رہنمائی کا قحط جو قومی و بین الاقوامی سطح پر پیدا ہوا ہے نا جانے کب پر ہو گا۔ جو لوگ اپنے آپ کو ہر قومی اور بین الاقوامی مسئلے کا حل سمجھتے تھے، وہی اس بحران کو طول دینے کے ذمہ دار ہیں۔ دوسرے الفاظ میں جی کا جانا ٹھہر گیا ہے۔

اس جرثومے نے جہاں مذہب والوں کو اسباب پر غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔ وہاں ہی سائنس کی علم و تحقیق کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ ہم نے اس میں سے کسی بات پر کان دھرے ہیں کہ نہیں یہ بات اہم ہے۔ فی الحال تو ڈھاک کے وہی تین پات ہیں۔

اس وبا نے مغرب کی اخلاقی اور معاشرتی اقدار کا جنازہ بہت دھوم دھام سے نکالا ہے کہ اب تو وہ دانشور اور تجزیہ نگار جو مغرب کے نظام کی مالا جپتے تھے شرمسار نظر آتے ہیں اور رب ذوالجلال سے یہ سوال کر رہے ہیں۔

اس ساری کہانی کا خلاصہ و انجام یہ ہے کہ انسان تب تک تہذیب و تمدن کا دامن تھامے رکھتے ہیں، جب تک ان کی بقا کا مسئلہ درپیش نہیں ہوتا۔ اس لئے میری نظر میں مستقبل میں اس بحث کا خاتمہ ہونا چاہیے کہ مغرب، مشرق سے زیادہ تہذیب یافتہ ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے سے کچھ نا کچھ سیکھنا چاہیے اور اعتدال کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

اس سارے معاملے کے بعد مقامی صنعت کو فروغ ملنا چاہیے کیونکہ اگر دوبارہ کوئی نئی وبا چائنہ جیسے ملک سے پھوٹ پڑے جو کہ ممکن ہے تو دوبارہ سے طلب و رسد کے معاملات خراب ہو جائیں گے جس طرح حالیہ دنوں میں ہوئے ہیں۔ اس لیے جو ممالک جلد اپنے مقامی وسائل پر انحصار کرنا شروع کر دیں گے وہ آئندہ کسی حد تک اس قسم کی وبا سے بہتر طریقے سے نبردآزما ہو سکیں گے۔

معیشت اور کاروبار دوبارہ سے ترتیب دیے جائیں گے تا کہ آئندہ مستقبل میں آنے والی وبا کی لہروں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اب دنیا کی اقتصادیات انفارمیشن ٹیکنالوجی کے گرد چکر لگائے گی، تیل، معدنیات اور صنعتیں ماضی کا حصہ بن جائیں گی۔ زندگی کی رونقیں مشکل سے بحال ہوں گی۔

پچھلی وبا کا جھٹکا صنعتی انقلاب، تیل، گیس اور معدنیاتی ذخائر کی کھوج، استعمار اور سوشلزم کا فلسفہ لایا تھا اب دیکھیں دنیا کس ڈگر پر چلتی ہے۔

اللہ نے تمام بنی نوع انسان کو ایک جھٹکا دیا ہے کہ آپس میں دوبارہ سے ایک عمرانی معاہدہ نئے مندرجات کے ساتھ طے کرو، جو حقیقت میں عدل و انصاف، علم و تحقیق، معاشی و معاشرتی اقدار، مذہب و سائنس میں اعتدال و توزن کی بنیاد پر گامزن ہو سکے۔

Facebook Comments HS