میرے سوا کوئی چوائس نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

” تکبر عزازیل را خوار کرد“ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم میں سے بہت سے نہیں بھولے ہوں گے کہ ہم سے بیشتر لوگوں کے قائد نے، جو عدالت کے ہاتھوں قتل کیے جانے یعنی جوڈیشل مرڈر کے بعد آج بھی عوام و خواص کی ایک بڑی تعداد کے اذہان میں زندہ ہیں، کہا تھا کہ ”یہ کرسی بہت مضبوط ہے“ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد ہم نے ان کے اقتدار کو بازوال ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔

ہم سب الحمدللہ مسلمان ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کسی کو بھی اپنی زبان سے ایسی بات نہیں کہنی چاہیے جس میں تکبر کا شائبہ تک ہو تاکہ عرش نشین ناراض نہ ہو جائے چہ جائیکہ تکبر کے تیقن کے ساتھ کہنا کہ ”میرے سوا کوئی چوائس نہیں۔“

اگر آپ مذہب گریز شخص ہیں اور عزازیل کی خواری سے آپ کا کوئی لینا دینا نہیں، تب بھی عقلیت پرست ہوتے ہوئے آپ کو اس حقیقت سے اغماض نہیں برتنا چاہیے کہ کوئی بھی کسی معاملے سے نمٹنے کی خاطر اشد ضروری نہیں ہوا کرتا۔ اتنا تو کم عقل بھی جانتا ہے کہ انسان فانی ہے۔ ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ جو خود کو انتہائی ضروری سمجھتا ہو بہت بیمار پڑ جائے یا اس جہان سے ہی گزر جائے۔

کوئی بھی جمہوریت دوست انسان نہیں چاہے گا کہ مبینہ طور پر پری انجینئرڈ اور انجینئرڈ حکومت بھی جو بظاہر جمہوری کہلاتی ہو کسی غیر جمہوری طریقے سے چلتی کر دی جائے مگر ایسی حکومت جو کرپشن کے شور جیسے پاپولسٹ نعرے کی بنیاد پر اقتدار حاصل کر پائی ہو اور اس کے دو سال کے اقتدار کے عرصے میں، حکومت کی ہی تحقیقات کے مطابق 270 ارب روپے کی بدعنوانی کے ساتھ ساتھ بدانتظامی بھی منکشف ہوئی ہو، کو برقرار رکھے جانے اور سدھار کا وقت دیے جانے کی بھی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

حکومت اپنے نا اہل ہونے اور لوگوں کی زندگی اس دو سال کے عرصے میں بنیادی ضروریات بجلی، گیس کی قیمتیں بڑھائے چلے جانے، عام مہنگائی کا عذاب پیدا کرنے اور سرکاری محکموں میں کہیں بھی ڈھنگ سے کوئی کام نہ ہونے کے سبب اجیرن کر دینے کا ملبہ پانچ ماہ سے آئی کورونا کی وبا کے معاشی مضمرات پر نہیں ڈال سکتی۔ وبا کے سلسلے میں لوگوں کو گمراہ کیے چلے جانے کا جرم اور گناہ بھی دونوں ہی عوام اور اللہ کی عدالت میں قابل تعزیر ہیں۔

سیاسی پیشگوئی کرنا تو منضبط سیاسی ماحول اور اعمال والے ملک میں ہی کسی حد تک ممکن ہوا کرتا ہے مگر آثار بہر طور یہ بتا رہے ہیں کہ اور تو اور رہے حکومت کے اتحادی بھی حکومت سے ناراحت اور غیر مطمئن ہو چکے ہیں۔ چاہے وہ بی این پی کے اختر مینگل ہوں جنہوں نے یہ تک کہا کہ وہ افشاء کر دیں گے کہ کس طرح کورونا وائرس کو درآمد کیا گیا اور کس مقصد کی خاطر کیا گیا۔ غالباً ان کا اشارہ تفتان بارڈر پر کی گئی انتظامی اور طبی بے قاعدگیوں کی جانب تھا، چاہے وہ مسلم لیگ ق کے چوہدری صاحبان ہی کیوں نہ ہوں، جن سے وزیراعظم لاہور آنے کے دوران ملے تک نہیں تھے اور اب وزیراعظم کی جانب سے عشائیہ میں مدعو کیے جانے پر چوہدری شجاعت نے کہہ دیا کہ روٹی شوٹی آپ خود ہی کھا لیں۔

وبا کے زور کے باوجود لوگ تو بازاروں میں حکومت نے خود ہی نکال دیے ہوئے ہیں۔ الگورتھمک اندازوں کا یہ عالم رہا کہ پہلے وبا کی معراج مئی میں بتائی گئی، پھر جون میں اور پھر جولائی اور تا حتی اگست میں۔ لاعلمی اس حد تک کہ ایک گزشتہ تقریر میں خود کو ناقابل گریز یعنی آخری چوائس بتانے والے وزیر اعظم باوجود یاد دلانے کے کہتے رہے ہم نے 13 مئی کو لاک ڈاؤن کیا جبکہ یہ تاریخ تیرہ مارچ تھی۔

ماسک محترم نے اب کہیں ہفتہ ڈیڑھ سے اوڑھنا شروع کیا ہے اس کے برعکس بلاول بھٹو زرداری آخری پریس کانفرنس کرنے کے دوران نہ صرف ماسک اوڑھے رہے بلکہ انہوں نے بار بار ہاتھوں پہ سینی ٹائزر کا استعمال بھی کیا۔ رہنما اپنے پیروکاروں کو اسی طرح اپنے عمل سے سبق دیا کرتے ہیں اور یاد دہانی کرائے رکھتے ہیں۔ متحدہ اپوزیشن کی جانب سے بجٹ کے استرداد سے متعلق اسی پریس کانفرنس میں خواجہ آصف نے البتہ بات کرنے کی خاطر ماسک اتار کر کان سے آویزاں کر لیا تھا۔

مشترکہ حزب اختلاف کی جانب سے بجٹ مسترد کیا جانا ایک واضح اشارہ ہے کہ موجودہ نا اہل اور بدنظم حکومت کو جمہوری طریقے سے سبکدوش کرائے جانے کی خاطر حزب اختلاف کی جماعتیں اتحاد کیے جانے کی جانب مائل ہو سکتی ہیں۔

بازاروں اور گلیوں میں وبا سے بے خوف پھرتے ہوئے لوگ ستمبر کے اواخر تک وائرس کے ساتھ زندہ رہنے کا چلن سیکھ جائیں گے یعنی کسی حد تک گلہ کی قوت مدافعت ( ہرڈ امیونیٹی ) پیدا کر چکے ہوں گے۔ موسم بھی اس قدر شدید نہیں رہے گا۔ حکومت سے دو چار مزید اور شدید حماقتیں سرزد ہو چکی ہوں گی، ایسے میں اسلام آباد میں دھرنا دیا جانا مشکل بھی نہیں ہوگا اور ضروری بھی ہو جائے گا۔ دھرنے کا راستہ تو آپ جناب کا دکھایا ہوا ہے۔ ۔ ۔ وقت کے ساتھ ظاہر ہو جائے گا کہ آپ کے علاوہ بھی سب کچھ ہو سکتا ہے البتہ آپ کی کہی یہ بات ہے درست کہ ”چوائس“ آپ ہی ہیں کچھ خاص لوگوں کی جس کے لیے بلاول ”سیلیکٹڈ“ لفظ استعمال کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *