یہ لنگڑی نہیں سندھڑی حکومت ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

غالب آم شناس تھے، وہ پانچ الفاظ پر مشتمل ایک جملہ کہہ گئے، آم ہوں اور عام ہوں۔ یہ ایسا شیریں جملہ ہے اگر گرمی کے دن نہ بھی ہوں تو جاڑے میں بھی اسے پڑھ کر آم کا مزہ آتا ہے۔ ایسا دو موسمی مزہ کسی اور پھل میں بھلا کہاں؟ اسی لئے اسے پھلوں کا بادشاہ کہتے ہیں اور بادشاہ موسمی نہیں بلکہ سدا بہار ہوتا ہے۔

آم پاکستان کا قومی پھل ہے اور مختلف قوموں پر مشتمل بھارت کے باشندے بھی آم کے دلدادہ ہیں، اسی لئے بھارت سرکار نے بھی اسی قومی پھل کا درجہ دے رکھا ہے۔ فلپائنی بھی آم پر مر مٹنے والی قوم ہے۔ سری لنکا والوں کی آم سے محبت بس اتنی ہے کہ انہوں نے آم کے درخت کو قومی درخت کا درجہ دے رکھا ہے اس میں بھی صاحبو کوئی حکمت ہوگی اور مہاتما بدھ کی آم کے پیٹر تلے عبادت گزاری تو ویسے ہی مشہور ہے۔ معلوم نہیں اس عبادت میں کتنی مٹھاس ہوتی ہو گی۔

سیب اور بیر کی کئی قسمیں ہیں تو آم کی ہزاروں اقسام ہیں۔ دسہری، انور رٹول، سہاری، سیندوریا، لنگڑا، چونسہ اور نہ جانے کون کون سے چونسے؟ ہر آم کا جہاں مختلف گودا اور مختلف رس ہے وہیں اس کی شکلیں بھی مختلف ہیں لیکن یہ گرگٹ کی طرح رنگ نہیں بدلتا۔ ان میں سے بعض اتنے پیارے ہوتے ہیں کہ بے ساختہ بانہوں میں ڈال کر چپ کر کے نکل جانے کو جی جاتا ہے اور بعض ایسے ڈراؤنے ہوتے ہیں کہ ان کی خوشبو میں بھی سازش کی بو آتی ہے۔ ویسے عمومی طور پر یہ ایسا ہی پیارا پھل ہے جتنی ہماری نگوڑی جمہوریت۔

ہم گزشتہ 73 سال سے جمہوریت کے جس باغ میں رہ رہے ہیں اس میں ہر قسم کے آم کے درخت ہیں۔ چھوٹے، بڑے، گول، بیضوی، پتلے، موٹے، زمین میں لگے ہوئے اور گملے میں اگائے ہوئے۔ کبھی ان درختوں پر رات کے اندھیرے میں آنے والی آندھی اپنا خاکی رنگ چھوڑ دیتی ہے تو کبھی جمہوریت نوازوں کی ٹڈیاں انہیں ٹنڈ منڈ کر دیتی ہیں۔ کبھی پیراشوٹر کی مانند موسلا دھار مینہ برستا ہے تو کبھی فرنگ سے آئے بگولے ان کی جڑوں کو ہلا دیتے ہیں لیکن اللہ کا شکر ہے باغ قائم ہے اس جمہوری باغ کے جمہوری مالی بھی ہمت ہارنے والے نہیں ہیں اور وہ پانی لگائے رکھتے ہیں بھلے پھل آئے نہ آئے۔

دو سال پہلے 25 جولائی کو تبدیلی کی ہوا چلی۔ باغبان کو بھی یقین تھا اور مالیوں کو بھی کہ اب کی بار اچھی فصل تیار ہوگی۔ سارے اجزائے ترکیبی موجود ہیں حالات موافق ہیں، جمہوریت کو ضرر پہنچانے والی پرانی جڑی بوٹیاں کو نکال باہر پھینک دیا، الیکٹیبلز کی پنیری بھی تھی جبکہ کرشماتی کھاد تو تھی ہی، ان حالات میں لنگڑا آم کی گٹھلیاں بوئی گئیں خیال یہی تھا کہ اعلیٰ نسل کا لنگڑا ہی نکلے گا۔ لنگڑا چونکہ سبز رنگ کا ہوتا ہے سبز رنگ کامیابی، خوشحالی، امن، مستقل مزاجی اور بات تھوپنے کے بجائے دلیل سے قائل کرنے کی نشانی ہے۔ لیکن قدرت کا کرنا کیا ہوا کہ لنگڑے کی گھٹلی سے سندھڑی نکل آیا۔ سندھڑی زرد رنگ کا ہوتا ہے اور زرد رنگ، نفرت، بزدلی، دغا بازی اور جھگڑالو کی علامت ہے اس لئے بات کچھ بنتی نظر نہیں آئی لیکن لچک تو دکھانی تھی کہا گیا کہ اچھا اچھا دکھانا، سنانا اور بتانا ہے، اب اس سے زیادہ گریس مارک کیا مل سکتے ہیں؟

مسئلہ یہ ہے کہ سندھڑی تو ہر دوسری ریڑھی پر پڑا ہوتا ہے پھلوں کی دکان کی زینت ہوتا ہے اور ہر شاپنگ مال کے فروٹ ویجیٹیبل کارنر پر بھی نظر آتا ہے اور شارجہ کا پاکستان چوک تو مشہور ہی پاکستانی آموں کی وجہ سے ہے لیکن جمہوریت کا مسئلہ یہ ہے کہ قیام پاکستان سے یہی سندھڑی کھا نے کو مل رہا ہے۔ اب یہ نہیں پتہ کہ جمہوریت سندھڑی کھار ہی ہے یا سندھڑی اسے کھا رہی ہے کیونکہ مصالحہ سے تیار کیا یہ پھیل جب کریٹ سے باہر نکلتا ہے تو سرخی کم اور پاؤڈر زیادہ اس کے پیلے جسم پر لگا ہوتا ہے اس کے باوجود بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان کو یہ بہت پسند تھے حالانکہ جب میاں صاحب کی پیلی ٹیکسی ملک کے چپہ چپہ پر نظر آئی تو وہ انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی اور کہا کرتے تھے کہ میاں صاحب نے سارے ملک کو یرقان زدہ کر دیا لیکن آم کے معاملے میں وہ غالب کے فلسفہ پر یقین رکھتے تھے اور یرقانی تعصب کا اظہار نہیں کرتے تھے۔

ویسے ہمارے زرداری صاحب بھی آم کے بڑے قدردان ہیں اور وہ اس کی اتنی قدر کرتے ہیں کہ وہ آم عام لوگوں کو نہیں بھیجتے اپنے اپنے خاص الخاص قدر دانوں کو بھیجتے ہیں اور وہ بھی ٹنڈو الہ یار کے اپنے باغات کے۔ چند دن پہلے انہوں نے عرب دنیا کی مشہور میک اپ برانڈ ”ہدی“ کی بانی کو آموں کی پیٹیاں بھیجیں، خان صاحب بھی مینگو ڈپلومیسی پر غور کر رہے ہیں لیکن ان کے نزدیک صرف پاکستان کا مفاد ہے لیکن جنہیں پاکستان کا مفاد عزیز نہیں انہوں نے آموں کی پیٹی کے ذریعے ہی ہمارے ہیما مالنی آنکھوں کے مثل صدر کے جہاز کو تباہ کر دیا۔

اس سے ہٹ کر عام سے عام سیاست دان کی آم سے محبت بے لوث ہے وہ جس ذوق شوق اور صفائی سے اسے کھاتے ہیں تو انہیں دیکھ کر یہ بات سچ ثابت ہوجاتی ہے کہ پاکستان میں کا کھانے کا ادب صرف حکمرانوں اور ان کے وزیروں مشیروں کو آتا ہے وہ اتنی خاموشی سے کھاتے ہیں کہ ساتھ والے کو بھی نہیں پتہ چلتا کہ وہ کیا کھا رہے ہیں کیوں کھا رہے ہیں اور کب تک کھاتے رہیں گے۔ ہماری تاریخ تو اس بات کی شاہد ہے کہ جس نے کھایا خوب کھایا کسی نے ٹین پرسنٹ کے حساب سے کھایا مزہ آیا تو ہنڈرڈ پرسنٹ کھا لیا، کسی نے کھایا بھی اور دوسروں کو کھلایا بھی لیکن صفائی اتنی کہ نیب والے بھی ان کے ہاتھ کی صفائی پر انگشت بدنداں ہیں۔

اب خان صاحب کی حکومت ہے اور ان کے اٹارنی جنرل نے ان کے پہلے سال سے متعلق رپورٹ تیار کی ہے جس میں صرف 270 ارب روپے کی بدعنوانی اور بے ضابطگی کا انکشاف کیا ہے۔ ہمیں تو یہ بتایا گیا تھا کہ حکمران دیانت دار ہوں تو نیچے والے بھی دیانت دار ہو جاتے ہیں ہماری تاریخ میں تو ایسا دیکھنے، سننے اور پڑنے کو نہیں ملا۔ ہم تو پاکستانی پرچم کے رنگ والے لنگڑا آم کھانے کو ہی ترستے رہ گئے کہ اس کی مٹھاس اور شیرینی بے مثل ہے لیکن ہماری قسمت میں ہمیشہ سندھڑی ہی آئے لیکن اب نٹ بولٹ ٹھیک کرنے والوں کی حکومت میں سندھڑی کھانے کو من نہیں کرتا لیکن کفران نعمت کرنے کو بھی تو دل نہیں چاہتا، بقول ملکو۔ ۔ ۔ رل تو گئے ہیں پر چس بڑی آئی ہے۔

کہا گیا کہ 2020 ترقی کا سال ہے ہم نے دیکھا کہ چینی کی قیمت میں ترقی ہوئی، آٹا کی قیمت میں ترقی ہوئی، گندم میں ترقی ہوئی، پٹرول میں ترقی ہوئی، ایل پی جی میں ترقی ہوئی، ادویات میں ترقی ہوئی اور نہ جانے کن کن چیزوں کی قیمتوں میں ترقی ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ آخر حکومت کن کن چیزوں میں مزید ترقی کر کے دے؟

ایسی ترقی معکوس ترقی ہمیں حکمران جماعت اور اتحادیوں میں بھی نظر آتی ہے یہ وہی سندھڑی سیاست ہے جو زرداری اور شریف کرتے تھے لیکن اب اس میں ہوشربا ترقی آ گئی ہے۔ 18 اگست کو گلگت بلتستان میں انتخابات بھی ہونے والے ہیں وہاں کے رائے دہندہ فیصلہ کریں گے کہ انہیں سبز لنگڑے آم والی جمہوریت چاہیے یا سندھڑی آم والی جعلی جمہوریت، جس میں چیونگم کی طرح منہ چباتے رہتے ہیں اور مزہ بھی نہیں آتا۔ پاکستان کے عوام نے دو سال پہلے خان صاحب کو ووٹ اسی لئے دیا تھا کہ وہ زندگی میں پہلی بار لنگڑا آم کھائیں گے۔ دیر اب بھی نہیں ہوئی تین سال باقی ہیں سندھڑی جمہوریت کو کلہاڑی کے ایک وار سے الگ کریں اور لنگڑی کے بجائے لنگڑے آم کا پیوند لگا لیں، یقین مانیں افاقہ ہو گا بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *