حکومت شہباز شریف کو لندن جانے کی اجازت دینے پر مجبور کیوں ہو گئی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم عمران خان کے بیانیے میں تبدیلی واضح نظر آنے لگی ہے۔ الیکشن سے پہلے اور الیکشن کے دو سال بعد تک ان کا بیانیہ تھا کہ کرپشن کرنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا البتہ اب انہوں نے اس میں کافی لچک دکھائی ہے اور کہا ہے کہ کرپٹ مافیا کا دفاع کرنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا۔

اس کی بنیادی وجہ شاید یہی ہے کہ پہلے میاں نواز شریف کو چھوڑنا پڑا ور پھر آصف علی زرداری اور محترمہ فریال تالپور کے معاملات پر بھی آنکھیں بند کرنا پڑیں اور اب میاں شہباز شریف کی لندن روانگی کے حوالے سے بھی خود حکومتی وزرا ماحول کو ساز گار بناتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ اگر میاں شہباز شریف کو روکا گیا تو اپوزیشن اور میڈیا الزام لگائیں گے کہ حکومت ہلاکو خان اور چنگیز خان کی ہے۔ چنانچہ پی ٹی آئی حکومت نے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ حکومت عمران خان کی ہے اس لئے میاں شہباز شریف کو واپس لندن جانے کا راستہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے بدلے میں مسلم لیگ ن بجٹ کی منظوری میں رخنہ نہیں ڈالا اور جمہوریت کی مضبوطی کے نام پر تعاون کی ”ڈش“ تیار کی گئی۔

وزیراعظم کچھ عرصہ پہلے جس جوش اور جذبے کے ساتھ اپوزیشن کے سرکردہ راہنماؤں کے خلاف زبانی کلامی تلوار بازی کرتے ہوئے دکھائی دیتے تھے اب اس میں بھی کافی کمزوری دکھائی دے رہی ہے بلکہ اب عمران خان اپنی اتحادی پارٹیوں خصوصاً مسلم لیگ (ق) سے نبردآزما دکھائی دیتے ہیں۔

مصدقہ خبریں ہیں کہ وزیراعظم لاہور گئے تو سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی سے نہ ملاقات کی اور نہ ہی سلام دعا کی زحمت کی۔ وزیراعظم کا خیال ہے کہ مسلم لیگ (ق) ”تخت بزدار“ کو الٹ کر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور اسی لئے چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی مسلم لیگ (ن) کی وقتاً فوقتاً حمایت کر کے اپنی سیاسی اہمیت کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔ چوہدری برادران نے اس بے رخی کا بدلہ وزیراعظم کی ضیافت میں شرکت نہ کر کے لیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بجٹ کے لئے ووٹ دے دیں گے۔

چوہدری برادران کی سیاسی تاریں آبپارہ سے جڑی ہوئی ہیں جس دن انہیں گرین سگنل مل گیا تو پنجاب میں مسلم لیگ (ن) مسلم لیگ (ق) میں بدلتی نظر آئے گی اور پی ٹی آئی میں موجود ایسے لوگ جو خود کو ”اہل“ سمجھتے ہیں وہ بھی فارورڈ بلاک کی تعمیر کرتے نظر آئیں گے۔

پی ٹی آئی کی حکومت اپنے اتحادیوں کی وجہ سے جتنی کمزور نظر آتی ہے اتنی ہی اسٹیبلشمنٹ کی ہمدردی کی وجہ سے مضبوط بھی ہے۔ حکومت کے 22 ماہ میں اوسطاً ہر دو ماہ بعد حکومت کو ایک ناراض اتحادی کو راضی کرنے کے لئے تگ و دو کرنی پڑی۔ پاکستان کی جمہوری تاریخ میں موجودہ حکومت نے جہاں کئی اور ریکارڈ قائم کیے ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ اتحادیوں کی اچھل کود کے باوجود اسٹیبلشمنٹ خاموش ہے۔ ماضی میں جب بھی ایسا ماحول بنتا تھا تو اسٹیبلشمنٹ ”تبدیلی“ کی پوزیشن لے چکی ہوتی تھی مگر اس دور حکومت میں اسٹیبلشمنٹ ابھی تک کوئی بھی پوزیشن نہیں لے سکی ہے۔

البتہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی پوزیشن واضح کردی ہے اور دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ میرے سوا کوئی آپشن نہیں اور یہ کہ اگلے پانچ سال بھی ہمارے اقتدار کے ہوں گے۔ بدترین حالات کے باوجود مسلم لیگ (ق) کا پی ٹی آئی سے جڑے رہنا اور حکومت کا بی این پی کو راضی کرنے کی کوششیں جاری رکھنا یہ بتاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ابھی بھی موجودہ حکومت کی پشت پر کھڑی ہے۔

تاہم وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے سیاسی سائنس کی بنیاد پر ”ٹیکنیکل“ بیان دیا ہے کہ حکومت کے پاس کچھ کر دکھانے کے لئے چھ ماہ باقی ہیں لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ دکھانے میں کیا کیا چیزیں شامل ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی باڈی لینگوئج بتاتی ہے کہ انہیں حکومت چلے جانے کا خوف نہیں ہے مگر اسٹیبلشمنٹ کو عمران خان کی ناکامی کا خوف ضرور ہے اور اس سے بھی بڑھ کر خوف یہ ہے کہ کہیں وزیراعظم اسمبلیاں ہی کرچی کرچی نہ کردیں۔

پی ٹی آئی کی حکومت نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے 126 روزہ دھرنے میں اپنے ورکروں کو پرویز خٹک سمیت ناچنے کے بہترین مواقع فراہم کیے لیکن جب سے عمران خان حکومت میں آئے ہیں پوری عوام کو تگنی کا ناچ نچا دیا ہے۔ حتیٰ کہ ان کے اتحادی بھی فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ اس حکومت کے ساتھ رہیں یا اپوزیشن کے ساتھ مل کر رقص شروع کریں۔ عمران خان ایک قومی امید بن کر ابھرے اور ہر کوئی یہ سوچتا تھا کہ ”کہ جب آئے گا عمران“ تو بڑھے گی اس قوم کی شان مگر اب صورتحال یہ ہے کہ عوام سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ”کب جائے گا عمران بچے گی اس قوم کی جان۔“ عطا اللہ عیسیٰ خیلوی بیمار رہتے ہیں اس لئے ان کے پاس بھی موقع ہے کہ اپنا گانا درست کر کے ثواب دارین حاصل کریں اور اپنی آخرت سنواریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 92 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *