‘ریاست مدینہ’ کا بجٹ کس قیمت پر منظور ہو پایا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اتوار کی شام جب وزیر اعظم ہاؤس میں حکومتی و اتحادی اراکین قومی اسمبلی کے لئے ڈنر سجانے کی تیاریاں ہو رہی تھیں، اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں منڈی بہاؤ الدین سے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی امتیاز صفدر کے گھر پر حکمران جماعت کے 28 ’باغی‘ ارکان قومی اسمبلی خفیہ اجلاس میں شریک تھے جس میں راجہ ریاض جیسے پی ٹی آئی کے 15 مستقل ناراض اراکین شامل تھے۔ حکومت اور پارٹی قیادت سے سخت نالاں ان ’سرکاری‘ ایم این ایز کی یہ پرجوش بیٹھک جاری تھی کہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وزیراعظم کے 2 نہایت قریبی رفقاء معاون خصوصی زلفی بخاری اور وفاقی وزیر مراد سعید کے ہمراہ وہاں ”مذاکرات“ کے لئے پہنچے۔ ۔

ذرائع کے مطابق برسر اقتدار پی ٹی آئی کے ان ’باغی‘ ایم این ایز نے وزیراعظم ہاؤس کے نمائندوں کے ساتھ تفصیلی مذاکرات میں 3 کڑی شرائط منوا کر وزیر اعظم ہاؤس کے عشائیہ میں شرکت کی حامی بھری، جن کے ساتھ ڈنر کے بعد وزیراعظم عمران خان نے علیٰحدگی میں ملاقات اور براہ راست مذاکرات میں ان کے مطالبات مان لینے کی یقین دہانی کروائی تو اگلے روز ان حکومتی اراکین کے ووٹ دینے سے بجٹ منظور ہو پایا۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے ان ”ناراض“ اراکین قومی اسمبلی نے پہلی شرط یہ منوائی ہے کہ ان کے حلقوں میں ان کے ووٹروں کے رکے ہوئے تمام کام کیے جائیں گے جن کے سامنے انہیں بالآخر جواب دہ ہونا ہے۔ دوسری شرط یہ منوائی گئی ہے کہ انہوں نے اپنے اپنے حلقے میں جو ترقیاتی سکیمیں تیار کر رکھی ہیں ان پر کام شروع کیے جانے کے لئے درکار فنڈز جاری کیے جائیں گے جبکہ باور کیا جاتا ہے کہ اپنی تیسری شرط منوا کر ان ’باغی‘ ایم این ایز نے باقاعدہ اپنی قیادت اور حکومت کو بلیک میل کیا ہے، اس لئے کہ تیسری شرط کے مطابق ان کے انتخابی حلقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے ٹھیکیدار بھی ان کی مرضی کے ہوں گے، یعنی جسے وہ چاہیں گے اسی کو بلا چون و چرا ٹھیکہ دے دیا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply